تم اور تمہارا تیل ہمارا ہے
بالآخر بلی تھیلے سے باہر آ ہی گئی۔گذشتہ ماہ کی اٹھائیس تاریخ کو صدر ٹرمپ نے فاتحانہ اعلان کیا کہ سب سے بڑی تاریخی ڈیل ہو گئی ہے جس کے سبب بقول صدر ٹرمپ امریکا کے تیل کے ذخائر دوگنے ہو جائیں گے۔یہ ڈیل وینزویلا سے ہوئی جس کے صدر نکولس مدیرو اور ان کی اہلیہ کو امریکا نے تین جنوری کو دن دہاڑے اغوا کر کے نیویارک پہنچایا اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو وینزویلا کا غیر علانیہ وائسرائے مقرر کیا گیا۔
تب سے روزانہ پانچ لاکھ بیرل تیل امریکا جا رہا ہے ( یہ مقدار وینزویلا کی موجودہ روزانہ پیداوار ( گیارہ لاکھ بیرل کا تقریباً پینتالیس فیصد ہے )۔ اس تیل کی آمدنی وینزویلا کی قومی تیل کمپنی کے نیویارک کے ایک بینک اکاؤنٹ میں ’’ امانتاً ‘‘ جمع ہوتی ہے۔ ( جیسے ایران کے اربوں ڈالر لگ بھگ نصف صدی سے امانتاً امریکی بینکوں میں جمع ہیں )۔
وینزویلا کے اقتدار پر واشنگٹن کے ریموٹ کنٹرول قبضے کے آٹھ ماہ بعد اگلے ایک سو برس کے لیے باقاعدہ قانونی حصہ داری کے لیے مذکورہ معاہدے پر امریکا کی جانب سے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور وزیرِ دفاع پیٹ ہیسگیتھ نے دستخط کیے۔ وینزویلا کی قائمقام صدر ڈولسی روڈریگز کا کام بس اتنا ہے کہ وہ واشنگٹن سے صادر ہدایات و احکامات پر بلا چون و چرا عمل کریں۔
اگرچہ وینزویلا کی مٹھی بھر حزبِ اختلاف نے اس معاہدے کو دن دہاڑے ڈاکہ قرار دیا تاہم قائمقام صدر نے معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا کو اگلے پچیس برس میں تیل کی پیداوار کی مد میں دو سو نو ارب ڈالر کی رائلٹی ملے گی اور تیل کی مفلوج صنعت جو کئی عشروں کی امریکی پابندیوں کے سبب سرمایہ کاری کو ترس رہی ہے اس کی رگوں میں نئی تاوانی بھر جائے گی۔
قائمقام صدر ڈولسی روڈریگز کے بھائی پارلیمنٹ کے اسپیکر ہیں۔چنانچہ پارلیمنٹ نے بھی اس معاہدے کی توثیق میں دیر نہیں لگائی حالانکہ معاہدے کا مسودہ اب تک سوائے دو چار عہدیداروں کے کسی نے نہیں دیکھا۔
وینزویلا کو انرجی جیک پاٹ کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں دنیا کا سب سے بڑا تیل کا ذخیرہ ہے۔اس کا تخمینہ تین سو تین ارب بیرل ہے۔گویا سترہ فیصد عالمی تیل وینزویلا میں ہے ( سعودی عرب دوسرے نمبر پر ہے )۔
صدر ٹرمپ نے جس تاریخی ڈیل کا اعلان کیا اس کے تحت وینزویلا کا بیس فیصد سے زائد تیل ( پینسٹھ ارب بیرل ) براہِ راست امریکی کنٹرول میں آ جائے گا۔یہ تیل امریکا کو بلا منافع اصل قیمت پر اگلے سو برس فراہم کیا جائے گا ( قیمت بھی امریکی سرمایہ کار طے کریں گے )۔اس تسلط کے لیے نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز ( نیبیپ ) نامی ایک کمپنی کے ذریعے ایک سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی۔
نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز ( نیبیپ ) میں امریکی محکمہ دفاع کے شیرز پینتس فیصد ہوں گے۔کمپنی کے سربراہ وینزویلا کے ایک ارب پتی کاروباری ایلیجاندرو بیٹن کورٹ ہیں۔ایلجیاندرو صاحب نے وینزویلا کے کٹر امریکا مخالف صدر ہیوگو شاویز کے دور میں بجلی کے شعبے میں سرمایہ کاری سے خاصی دولت کمائی اور اب وہ صدر ٹرمپ کے پسندیدہ سرمایہ کار بن چکے ہیں۔
دو ہزار سترہ سے ایلیجاندرو بیٹن کورٹ منی لانڈرنگ کے الزامات کی زد میں ہیں۔گذشتہ برس اسپین اور سوئٹزرلینڈ کی درخواست پر انھیں برطانیہ چھوڑنے سے منع کر دیا گیا۔تاہم ان پر باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں ہے۔
نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز ( نیبیپ ) کے ساتھ شراکت داری کے معاہدے پر امریکی قوانین لاگو ہوں گے۔بورڈ آف ڈائریکٹرز کی اکثریت امریکی شہریوں پر مشتمل ہو گی اور بورڈ میں نامزدگیوں اور تقرریوں پر امریکی انتظامیہ کو ویٹو کا اختیار حاصل ہوگا۔
اس معاہدے کا اعلان ہوتے ہی وینزویلا میں انیس سو تئیس سے تیل کے کاروبار سے منسلک سب سے بڑی امریکی کمپنی شیورون کے حصص کی قیمت میں ڈھائی فیصد کا اضافہ ہو گیا اور شیورون نے وینزویلا میں اپنے آئل انفراسٹرکچر کو ترقی دینے کے لیے فوری طور پر سات ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کر دیا۔
انیس سو نوے کے عشرے میں وینزویلا میں تیل کی روزانہ پیداوار تین اعشاریہ تین ملین بیرل تھی۔ زیادہ تر تیل امریکا ہی خریدتا تھا۔پھر پیداوار کم ہوتی ہوتی آج ایک اعشاریہ پچیس ملین بیرل یومیہ ہے۔ کمی کے اسباب میں طویل امریکی بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ بدانتظامی اور کرپشن بھی ہے۔دو ہزار سات میں صدر ہیوگو شاویز نے امریکی تیل کمپنیوں ایکزون موبائل اور کونوکوفلپس کے اثاثے قومیا لیے۔ان کی جگہ چینی اور روسی تیل کمپنیوں کو ٹھیکے دیے گئے مگر فرسودہ انفراسٹرکچر کو ترقی دینے کے لیے جو بھاری سرمایہ کاری درکار ہے اس کے مہیا نہ ہونے کے سبب پیداوار میں قابلِ ذکر اضافہ نہ ہو سکا۔
اب امریکی اور مغربی کمپنیوں کے لیے دوبارہ منافع بخش راستہ کھل گیا ہے۔شیورون کو تیل نکالنے کے لیے دو اضافی بلاکس اور اطالوی کمپنی ای این آئی کو بھی ایک بڑا آئل فیلڈ الاٹ ہو گیا ہے۔ایک بھارتی کمپنی بھی آئل فیلڈ لیز حاصل کرنے کے لیے پر تول رہی ہے ہدف یہ ہے کہ اگلے دس برس میں تیل کی پیداوار کم ازکم دو ملین بیرل روزانہ کی سطح تک لائی جائے۔ امریکی کمپنی جی ای ویرونوا کو بھی ملک کے برقی نظام کو جدیدیانے کا ٹھیکہ مل گیا ہے۔
آبنائے ہرمز کے بحران سے دنیا کو روزانہ ایک کروڑ بیرل تیل کی قلت درپیش ہے۔خلیجی ممالک کا تیل لائٹ کروڈ ہے اور یورپ سمیت اکثر ممالک کے لیے اسے صاف کرنا نسبتاً آسان ہے۔البتہ وینزویلا کا ہیوی گریڈ تیل سلفر کی مقدار زیادہ ہونے کے سبب زیادہ تر شمالی امریکا ، میکسیکو ، چین اور بھارت کی ریفائنریوں میں ہی قابلِ استعمال بنایا جا سکتا ہے۔
وینزویلا کی اپوزیشن ملک میں جلد از جلد عام انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے۔مگر قائمقام صدر ڈولسی کا کہنا ہے کہ ’’ مناسب وقت ‘‘ پر انتخابات بھی ہو جائیں گے۔امریکی کانگریس کے کچھ ریپبلیکن ارکان نے بھی وینزویلا میں انتخابات کروانے کا مطالبہ کیا پے۔صدر ٹرمپ نے جواباً کہا ہے کہ ’’ ابھی نیا نیا معاملہ ہے۔ابھی وہ تیار نہیں۔انھوں نے آمریت ( معزول اغوا صدر نکولس مدیرو ) سے تازہ تازہ چھٹکارا پایا ہے۔وینزویلا کی موجودہ حکومت بہت اچھا کام کر رہی ہے ‘‘۔
وینزویلا پر آسان ترین کامیاب شبخون کے بعد ہی صدر ٹرمپ نے ایران کو ایک پکا ہوا رسیلا پھل سمجھا جو جھولی میں پٹاک سے گرنے کو تیار ہے۔چنانچہ وینزویلا کی فتح کے لگ بھگ سات ساڑھے سات ہفتے بعد ہی امریکا نے ایران پر چھلانگ لگا دی۔تب سے جو ہو رہا ہے آپ کے سامنے ہے۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)