اقوم متحدہ عالمی امن و سلامتی کے تحفظ میں ناکام رہا، ادارے پر اعتماد ختم ہوچکا ہے، ایرانی وزیر خارجہ

عراقچی نیویارک پہنچنے کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ٹیلی فون پر بھی بات کرچکے ہیں

نیویارک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ عالمی ادارے اقوام متحدہ پر اعتماد ختم ہوچکا ہے اور اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے یہ بیان نیویارک پہنچنے کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل دیا۔

عراقچی کے مطابق ان کا دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب ایران امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے بعد بھی ایک ایسے ماحول میں ہے جسے وہ عملاً جنگ کی صورتحال قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم کو اپنے عوام کے حقوق، مفادات اور اپنے مؤقف کو عالمی سطح پر پیش کرنے کیلئے استعمال کرے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ عالمی امن اور سلامتی کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کے باعث اس پر اعتماد کم یا ختم ہوا ہے۔

انہوں نے جنرل اسمبلی کے اس سال کے موضوع ’’اعتماد کی بحالی‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ موضوع بھی عالمی ادارے پر اعتماد میں کمی کی عکاسی کرتا ہے۔

عراقچی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بعض ممالک خود کو بین الاقوامی قوانین اور اداروں سے بالاتر سمجھتے ہیں اور ان کے اتحادیوں کو بھی کارروائیوں سے استثنیٰ حاصل رہتا ہے۔

انہوں نے مغربی اور یورپی ممالک پر بھی تنقید کی اور کہا کہ انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی حمایت کا دعویٰ کرنے والے ممالک موجودہ صورتحال پر خاموش ہیں۔

عراقچی نیویارک پہنچنے کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ٹیلی فون پر بھی بات کرچکے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق دونوں نے جنرل اسمبلی کے ایجنڈے اور عالمی امن و سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ایران کا مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک میں جنرل اسمبلی کا اجلاس جاری ہے اور امریکا و ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتی رابطوں کی بات بھی ہو رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا ہے۔

Load Next Story