پی ٹی آئی احتجاج؛ اسلام آباد کو بند کرنے کے لیے ایک ہزار کنٹینر لگانے کا فیصلہ
فوٹو: فائل
پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد میں سکیورٹی پلان تشکیل دیا جانے لگا، صرف اسلام آباد میں 22 ہزار سے زائد اہلکار اور افسران تعینات کیے جائیں گے.
ذرائع کے مطابق 15 ہزار سے زائد پولیس اہلکار پنجاب، 2 ہزار سے زائد سندھ سے اسلام آباد پہنچیں گے، احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد کے مختلف داخلی و خارجی راستے بند کیے جائیں گے، ابتدائی طور پر ایک ہزار سے زائد کنٹینرز مختلف شاہراہوں اور راستوں پر لگائے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق فیض آباد اور آئی نائن میں کنٹینرز پہنچنا شروع ہوگئے، متعدد کنٹینرز پہلے ہی کھڑے کر دیے گئے، کنٹینرز کو مختلف اہم راستوں پر لگا کر اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستے بند کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق سکیورٹی کے لیے آنے والے 22 ہزار اہلکاروں کے کھانے کے انتظامات بھی شروع کر دیے گئے ہیں، اہلکاروں کے روزانہ کھانے کے لیے مختلف وینڈرز سے رابطے کیے جا رہے ہیں۔
موٹرے وے ایم ون، ایم 14 اور نیشنل ہائی وے پانچ مقامات پر بند کرنے کا فیصلہ
دریں اثنا پی ٹی آئی لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے موٹر وے ایم ون سمیت ایم 14 اور نیشنل ہائی وے این 5 کو مختلف مقامات پر 23 ستمبر کی شام سے ہر قسم کی ٹریفک کے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 23 ستمبر بدھ کی شام سے موٹروے M-1 اسلام آباد ٹول پلازہ سے چھچھ انٹرچینج تک دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی، اسی طرح موٹروے M-1 اسلام آباد ٹول پلازہ ، فتح جنگ/ ترنول انٹرچینج ، سنگجانی/AWT انٹرچینج، براہمہ باہتر انٹرچینج ، برہان انٹرچینج ، ہزارہ موٹروے انٹرچینج، غازی بھروٹھا نہر انٹرچینج، چھچھ انٹرچینج بند رہیں گے۔
23 ستمبر، بدھ کی شام سے موٹروے M-14 ہکلہ تا کنڈل بھی دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی اور ہکلہ،فتح جنگ انٹرچینج، پنڈی گھیپ انٹرچینج، کھڑپہ انٹرچینج، تراپ انٹرچینج، داؤد خیل انٹرچینج، کوٹ بیلیاں انٹرچینج، عیسی خیل انٹرچینج، کنڈل انٹرچینج بھی بندرہیں گے۔
اسی طرح 23 ستمبربدھ کی شام سے جی ٹی روڈ N-5, اٹک خورد کے مقام پر دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کےلیے بند رہے گا۔