جنرل اسمبلی اجلاس؛ ٹرمپ میں اپنی تقریر میں اہلیہ میلانیا کے گُن کیوں گاتے رہے
صدر ٹرمپ نے اپنی اہلیہ کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے؛ فوٹو: فائل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں جہاں کبھی ایران پر برہم ہوتے نظر آئے اور کبھی کیوبا کو خبردار کرتے رہے وہیں اپنی اہلیہ خاتون اوّل میلانیا کی تعریفوں کے پل بھی باندھے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اپنی تقریر میں صدر ٹرمپ نے اپنی اہلیہ اور خاتونِ اوّل ملانیا ٹرمپ کے انسانی ہمدردی کے کاموں کی خصوصی تعریف کی۔ میلانیا بہت اچھا کام، انھوں نے اس کے لیے بہت محنت کی۔
امریکی صدر نے کہا کہ اپنی عظیم خاتونِ اوّل کی غیر معمولی خدمات کو سراہنا چاہتا ہوں جنہوں نے روس یوکرین جنگ میں بے گھر ہونے والے بچوں کو بحفاظت ان کے خاندانوں سے ملوانے کو یقینی بنایا۔
اس موقع پر انھوں نے شرکا پر طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے پوچھا کہ ’خاتونِ اوّل کہاں ہیں؟ وہ کہاں ہیں؟ وہ یہیں کہیں موجود ہوں گی تاہم انھیں نہ پاکر وہ بولے آپ تصور کر سکتے ہیں؟ مجھے خاتونِ اوّل نظر نہیں آ رہیں۔
اس کے فوراً بعد ٹرمپ نے ملانیا کے اقوام متحدہ کے کام کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ اس سال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کرنے والی تاریخ کی واحد خاتونِ اوّل بنیں اور یہ کام بہت اچھے انداز میں انجام دیا۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ملانیا اسی روز ’’Futuro Juntos‘‘ نامی اجلاس پیش کر رہی ہیں جس میں دنیا بھر کے نوجوانوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے تقریباً 60 ارکان شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ کے اپنی اہلیہ کی سماجی خدمات کے اس فراخ دلانہ اعتراف پر جنرل اسمبلی میں موجود شرکا نے تالیاں بجائیں۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کے مطابق گزشتہ ماہ تک ملانیا ٹرمپ کی کوششوں کے بعد روس اور یوکرین کے 34 بچوں کو ان کے خاندانوں سے دوبارہ ملایا تھا جبکہ ملانیا نے گزشتہ برس روسی صدر کو خط بھی لکھا تھا جس میں جنگ سے متاثرہ بچوں کی واپسی کی اپیل کی گئی تھی۔