کبھی ہمت نہ ہارنا
زندگی کا دوسرا نام جدوجہد ہے۔ ہر انسان کی زندگی میں ایسے مواقع آتے ہیں جب اسے مشکلات، ناکامیوں، پریشانیوں اور مایوسیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بعض اوقات حالات اتنے سخت ہوجاتے ہیں کہ انسان کو لگتا ہے کہ اس کےلیے کامیابی کا راستہ بند ہوچکا ہے۔ لیکن ایسے ہی مشکل وقت میں انسان کی اصل صلاحیت سامنے آتی ہے۔ جو شخص مشکلات سے گھبرا کر ہمت ہار دیتا ہے، وہ منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی رک جاتا ہے، جبکہ جو شخص ثابت قدم رہتا ہے اور مسلسل کوشش کرتا ہے، آخرکار کامیابی حاصل کرلیتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کبھی ہمت نہ ہارنا۔
ہمت ایک ایسی خوبی ہے جو ہر کسی میں نہیں ہوتی۔ اس کے لیے دولت اور وسائل اہم نہیں بلکہ حوصلہ، صبر اور برداشت ضروری ہیں۔ اگر ایک انسان دولت مند ہو اس کے پاس بے شمار وسائل بھی ہوں لیکن اگر وہ حوصلہ مند نہیں ہے تو وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اس کے برعکس ایک محدود وسائل رکھنے والا آدمی اگر بلند حوصلگی سے کام لے تو وہ اپنے مقاصد حاصل کرلیتا ہے۔
دنیا میں آج جتنی بھی ایجادات ہیں، ہوائی جہاز، ٹرین، بلب، ٹی وی، ایکسرے، کمپیوٹر، مختلف مشینیں، یہ سب کسی نہ کسی کی ہمت اور جدوجہد کا نتیجہ ہیں۔ اگر ایڈیسن ہمت ہار دیتا تو آج بلب ایجاد نہ ہوتا، اسی طرح آئن سٹائن نے بھی بہت سی ناکامیوں کا منہ دیکھا لیکن ہمت نہیں ہاری، اپنی کوشش جاری رکھی اور بالآخر کامیاب ہوا۔
طالب علموں کی زندگی میں بھی ’کبھی ہمت نہ ہارنا‘ کا اصول بہت اہم ہے۔ بعض طلبا امتحان میں کم نمبر آنے پر مایوس ہوجاتے ہیں اور پڑھائی سے دل برداشتہ ہوجاتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ اپنی کمزوریوں کا جائزہ لیں، اپنی غلطیوں کو سمجھیں، بہتر منصوبہ بنائیں اور دوبارہ محنت شروع کریں۔ ایک امتحان میں ناکامی پوری زندگی کی ناکامی نہیں ہوتی۔ اصل ناکامی تب ہوتی ہے جب انسان کوشش کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
کھیل کے میدان میں بھی کامیابی کےلیے ہمت اور کوشش کی ضرورت ہے۔ ایک کھلاڑی سخت محنت، پریکٹس اور جیت کے جذبے سے سرشار ہو کر میدان میں اترتا ہے۔ اگر وہ ہار جائے تو اسے کھیل کا ایک اہم حصہ سمجھ کر دوبارہ سے محنت اور مشقت سے کام لیتا ہے اور پھر ایک دن ایسا بھی ہوتا ہے کہ کھیل کے میدان میں وہ جیت جاتا ہے اور تمام تماشائی اپنی تالیوں سے اس کی فتح کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ مشکالات انسان کی استاد ہوتی ہیں، وہ انسان کو بہت کچھ سکھاتی ہیں۔ آسانی میں یا کمفرٹ زون میں انسان کی بہادری کا علم نہیں ہوتا۔ انسان کی اصل صلاحیت کا اندازہ تو مشکلات کا سامنا کرنے سے پتہ لگتا ہے۔ جس طرح سونا آگ میں تپ کر کندن بن جاتا ہے بالکل اسی طرح انسان مسلسل جدوجہد سے کامیاب ہوتا ہے اور اس کی صلاحتیوں کا علم نہ صرف دنیا والوں کو ہوتا ہے بلکہ انسان کو خود بھی ہوتا ہے کہ وہ کن حالات میں تھا اور اب کن حالات میں ہے۔
اسلام ہمیں صبر، محنت اور ثابت قدمی کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘
اس فرمان سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ مشکل حالات میں گھبرانے کے بجائے صبر اور حوصلے سے کام لینا چاہیے۔ انسان کو اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور مشکلات کے سامنے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
ہمت ہارنے کی سب سے بڑی وجہ مایوسی ہوتی ہے۔ جب انسان مایوس ہوجاتا ہے تو وہ اپنی صلاحتیوں کو بھول جاتا ہے اور صرف ناکامیوں کو ہی یاد رکھتا ہے۔ جس سے اس میں کسی کام کے کرنے کی صلاحیت ختم ہونے لگتی ہے۔ اس صورتحال میں یہ چاہیے کہ انسان اپنی کامیابیوں کو یاد رکھے، مثبت سوچے اور مثبت سوچ والے افراد سے اپنا رابطہ مضبوط بنائے اور اپنے مقصد پر توجہ مرکوز رکھے۔
زندگی میں کوئی بھی حالت ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔ خوشی کے بعد غم اور غم کے بعد خوشی آتی ہے۔ اسی طرح مشکل وقت بھی ہمیشہ نہیں رہتا۔ اگر آج حالات خراب ہیں تو ضروری نہیں کہ کل بھی ایسے ہی ہوں۔ قرآن مجید میں بھی ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔
ہمیں مشکل وقت میں یہ سوچنا چاہیے کہ یہ مرحلہ بھی گزر جائے گا۔ انسان کو اپنی پوری کوشش جاری رکھنی چاہیے اور بہتر مستقبل کےلیے امید قائم رکھنی چاہیے۔
کبھی ہمت نہ ہارنے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ایک ہی طریقے سے مسلسل کوشش کرتا رہے، چاہے وہ طریقہ کام نہ کر رہا ہو۔ دانش مندی یہ ہے کہ مقصد وہی رکھتے ہوئے طریقہ بدل دیا جائے۔
مثلاً اگر ایک طالب علم پڑھائی کے ایک طریقے سے بہتر نتائج حاصل نہیں کر رہا تو اسے اپنا طریقہ تبدیل کرنا چاہیے۔ وہ استاد سے مدد لے سکتا ہے، مطالعے کا نیا شیڈول بنا سکتا ہے یا مشکل مضمون کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر سکتا ہے۔
اسی طرح زندگی میں بھی ناکامی کے بعد صرف زیادہ کوشش نہیں بلکہ بہتر طریقے سے کوشش کرنا ضروری ہے۔ زندگی کے سفر میں کامیابی کےلیے محنت، کوشش اور ہمت ازحد ضروری ہیں، لیکن صرف خواب دیکھنے سے کامیابی نہیں ملتی، خوابوں کو مکمل کرنے کےلیے عملی اقدامات کرنا بھی ضروری ہیں۔ ہمت و جرات ہمیں اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا موقع بھی دیتی ہے۔ اگر ہم اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں، حوصلہ نہ ہاریں، نہ ہی منفی باتوں کو دل میں جگہ دیں تو ہم زندگی کے بہت سے مسائل پر قابو پاسکتے ہیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔