پولیس کی ناکامیاں

بنیادی طور پر پولیس کی ناکامی کی بہت ساری وجوہات ہیں ، یہ بات اب عام ہوگئی ہے کہ پولیس میں تقرریاں میرٹ پر نہیں ہوتیں

روئیداد حسین پیشہ کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں، وہ کراچی کے مغربی علاقہ منگھوپیر ، مہران ٹاؤن میں رہتے ہیں۔14 ستمبر کی رات ایک خوف ناک رات تھی، اس رات ڈاکٹر روئیداد حسین کی زندگی برباد ہوگئی، ان کا ایک ہی بیٹا روشم خان تھا۔ اس رات پولیس کی وردیوں میں ملوث 6ڈاکو روئیداد حسین کے گھر کی دیواروں پھلانگ کر گھر میں داخل ہوئے، جب روئیداد حسین اور گھر کے افراد ڈاکوؤں کی آوازوں سے نیند سے اٹھ گئے اور شور مچایا تو ڈاکوؤں نے اندھادھند فائرنگ کی اور ان کے 15 سالہ بیٹے روشم خان کو نشانہ بنایا، روشم خان کے سینے پر گولی لگی، اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ حسب روایت پولیس بہت دیر سے پہنچی۔ پولیس ڈاکوؤں کے بارے میں کوئی پتہ نہیں لگاسکی۔

گزشتہ 15 دنوں سے روئیداد حسین اور اہل محلہ جنازہ لیے منگھوپیر تھانے کے سامنے دھرنا دیے ہوئے ہیں، اگرچہ میت کو کولڈ اسٹوریج میں منتقل کردیا گیا ہے مگر روئیداد حسین اور اہل محلہ دھرنا ختم کرنے کو تیار نہیں۔ روئیداد نے اعلان کیا کہ جب تک ان کے بیٹے کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کرتے ،وہ اپنے بیٹے کی تدفین نہیں کریں گے۔ جب یہ احتجاج زور پکڑگیا تو علاقہ کے ایس پی اور ڈی آئی جی کو اس دھرنے کا نوٹس لینا پڑا مگر پولیس افسران کے آجانے اور تفتیش کے نئے طریقہ کار آزمانے کے باوجود پولیس قاتلوں کو گرفتار نہ کرسکی۔ جب ڈاکٹر روئیداد کے بیانات الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے کہ وہ اپنے بیٹے کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے ہی نہیں بلکہ مستقبل میں نوجوانوں کو قتل ہونے سے بچانے کے لیے بھی جدوجہد کررہے ہیں تو پھر پولیس حکام نے منگھوپیر تھانے کے ایس ایچ او کو معطل کیا، تاہم قاتلوں کا سراغ نہیں لگ سکا۔

کراچی پولیس کے سربراہ بھی دھرنے میں پہنچے۔ ان کا کہنا تھا کہ قاتل پنجاب فرار ہوگئے ہیں، پولیس کی ٹیمیں قاتلوں کا پیچھا کررہی ہیں۔

منگھو پیر ٹاؤن کراچی کا ایک قدیم علاقہ ہے مگر اب اس علاقہ میں نئی بستیاں تعمیر ہورہی ہیں۔ منگھوپیر ٹاؤن کی آبادی 18لاکھ کے قریب ہے۔ پہلے منگھوپیر گڈاپ ٹاؤن کا حصہ تھا مگر اب اس کو کورنگی ضلع کا حصہ بنادیا گیا ہے۔ منگھوپیر کے علاقہ میں نئی بستیاں تعمیر ہورہی ہیں اور پولیسنگ کا نظام موثر نہیں ہے۔ اس بناء پر اسٹریٹ کرائمز کے علاوہ گھروں اور دکانوں میں رہزنی کی وارداتیں عام ہیں۔ عجیب اتفاق ہے کہ اس علاقہ میں گھروں میں ہونے والی وارداتوں میں پویس کی وردیوں میں ملبوس ڈاکو ملوث تھے۔ پولیس والے ہر واردات کی فوری طور پر ایف آئی آر درج نہیں کرتے ،یوں بہت سارے جرائم کا ریکارڈ ہی نہیں ہوتا اور اسی طرح بہت کم وارداتوں میں ملوث ملزمان کی نشاندہی ہوتی ہے۔

منگھوپیر کراچی کی مضافاتی آبادی ہے اور اس علاقہ میں نچلے متوسط طبقہ کی اکثریت آباد ہے۔ اس بناء پر ان لوگوں کی الیکٹرونک میڈیا پر بھی زیادہ شنوائی نہیں ہوتی۔ جب ذرائع ابلاغ ان علاقوں میں امن و امان کی صورتحال پر توجہ نہیں دیتے تو پھر پولیس حکام بھی دوسرے ضروری معاملات نمٹانے لگ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی کی مضافاتی بستیوں میں جرائم کی شرح خاصی زیادہ ہے۔ اس علاقہ میں امن و امان کی بدتر صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس علاقہ میں متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی نصیر احمد نے سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کے نام ایک مراسلہ میں مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ 15سالہ روشم خان کے قتل کا نوٹس لیں۔ انھوں نے اپنے مراسلہ میں یہ نکتہ اٹھایا کہ اس سانحہ کو ہوئے کافی دن ہوگئے مگر پولیس کی تفتیش کہیں رکی ہوئی ہے۔ نصیر احمد نے اس مراسلہ میں اس حقیقت کا بھی انکشاف کیا ہے کہ اب تک منگھوپیر میں اس بستی جو ان کا حلقہ انتخاب ہے کے کئی گھروں میں پولیس کی وردیوں میں ملوث ڈاکو داخل ہوئے اور لوٹ مار کی۔ نصیر احمد نے اس مراسلہ میں یہ بھی کہا کہ اب تک 5گھروں کو اسی طرح لوٹا گیا ہے۔

اگرچہ کراچی میں جرائم کی صورتحال حیرت انگیز حد تک خطرناک ہے۔ سی پی ایل سی کے مرتب کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سال جنوری سے ستمبر تک 52 افراد ڈاکوؤں اور اسٹریٹ کریمنلز کی گولیوں کا نشانہ بنے جب کہ شہر میں اسٹریکٹ کرائمز کی 5ہزار کے قریب وارداتیں ہوئی ہیں مگر پولیس ان میں سے اکثر معاملات کو حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ پولیس کے لیے ایک کاروباری نوجوان میر رضا کا کیس ہی معمہ بنا ہوا ہے۔ میر رضا کی جب لاش ملی تو وہ ایک نامعلوم شخص کی لاش تھی ،اس بناء پر پولیس اہلکاروں نے اس لاش کے بارے میں سنجیدگی سے تفتیش نہیں کی کیونکہ لاپتہ لاشوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہوتا ہے۔ عمومی طور پر ٹریفک حادثات میں ہلاک ہونے والے یا نشہ کرنے والے افراد کی لاشیں اس طرح ملتی ہیں جن کی شناخت کے لیے کوئی کوشش نہیں ہوتی۔ پھر آج کل لاپتہ افراد کی بھی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔ کراچی پولیس نے اس مفروضہ کی بناء پر میر رضا کے مقدمہ کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیا، یوں پہلے کئی دن تک اس مقدمہ کی تفتیش میں خامیاں رہ گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ پہلا پوسٹ مارٹم مشکوک قرار دیا گیا اور کچھ ماہرین دوسرے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے علاوہ کراچی یونیورسٹی کے ڈی این اے لیب کی رپورٹوں پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کررہے ہیں۔ حکومت سندھ نے دانش مندی کا ثبوت دیتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے معزز جج جسٹس سیال پر مشتمل ٹریبونل قائم کردیا۔ا س ٹریبونل کے سامنے ہر روز نئے انکشافات ہوتے ہیں۔ پہلے پولیس کے سربراہ نے یہ مفروضہ اخذ کیا تھا کہ میر رضا نے خودکشی کی مگر بعد کی تحقیقات سے یہ مفروضہ غلط ثابت ہوا۔ اب کراچی پولیس کے سربراہ آزاد خان سینیٹ اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے یہ اقرار کرچکے ہیں کہ 39 گواہوں کے بیانات کے باوجود پولیس قاتل کو گرفتار نہیں کرسکی ہے۔ اس بات کا خدشہ ہے کہ منگھوپیر ، مہران ٹاؤن بدقسمت نوجوان روشم خان کے قاتلوں کا بھی پتہ نہیں چلے اور مستقبل میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے میر رضا کی طرح اس مقدمہ کا نوٹس لیا تو پھر سے پولیس کے سربراہ کو پارلیمنٹ کی کمیٹیوں کے سامنے اپنی ناکامی کا اعتراف کرنا پڑے۔

 بنیادی طور پر پولیس کی ناکامی کی بہت ساری وجوہات ہیں ، یہ بات اب عام ہوگئی ہے کہ پولیس میں تقرریاں میرٹ پر نہیں ہوتیں۔ ابھی تک پولیس کے محکمہ کی جدید خطوط پرتنظیم سازی نہیں کی گئی۔ پولیس کے محکمہ میں اب بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور AI جیسی تکنیک کا کامیابی سے استعمال نہیں کیا جاتا۔ ہر واردات کے بعد جیو فینسنگ کے طریقہ کار اپنانے کا ذکر ہوتا ہے اور ماہرین فضا میں موجود ٹیلی فون سگنلز کے تجزیہ سے ملزمان کی نشاندہی کرتے ہیں ۔ دنیا بھر میں یہ انتہائی موثر طریقہ ہے مگر پولیس اس ٹیکنالوجی سے خاطرخواہ فائدہ نہیں اٹھاسکی ہے۔ پھر 18سال سے یہ شور ہے کہ اربوں روپے کی مالیت سے سیف سٹی کا نظام قائم کیا جارہا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت چھوٹی بڑی سڑکوں پر کلوز ڈور سرکٹ کیمرے لگائے جائیں گے مگر جب بھی کوئی واردات ہوتی ہے تو یہ کیمرے بند ملتے ہیں۔ گزشتہ دنوں کراچی ایئرپورٹ کے ڈاکوؤں کی فائرنگ سے شاہین فورس کا ایک اہلکار جاں بحق اور ایک زخمی ہوا ہے۔ ایک فرض شناس افسر جو وہاں سے گزررہے تھے، انھوں نے انھیں اسپتال اپنی گاڑی میں منتقل کیا۔ انھوں نے بعد میں سوشل میڈیا پر ایک وڈیو میں بتایا کہ شاہین فورس کے اہلکاروں کے پاس ناقص رائفلیں تھیں اور سپاہیوں کی گولیاں رائفلوں میں پھنس کر رہ گئی تھیں۔

 محکمہ پولیس کے لیے ہر سال اربوں روپے کا بجٹ مختص ہوتا ہے مگر مظلوم سپاہیوں کو ناقص اسلحے کی فراہمی ایک المیہ سے کم نہیں ہے۔ پولیس کو ہر سطح پر جدید نظام کے تحت تنظیم نو کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس کے احتساب کا عوامی نظام ہونا ضروری ہے۔ کراچی شہر میں لسانی و مذہبی تضادات بہت گہرے ہیں۔ جرائم کا کوئی بھی واقعہ ان تضادات کو بڑھاوا دیتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ لندن کی طرح کراچی میں بھی میٹروپولیٹن پولیس کا نظام قائم کیا جائے۔

Load Next Story