ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیاں، امریکی عوام مسائل سے دوچار

اس تمام تر سلسلہ وار معاشی تنائو کا پانچواں اور سب سے نچلا اثر فضائی سفر، سیاحت اور سروسز کے شعبے پر پڑا

امریکا کی جانب سے ایران پر مسلط کی جانے والی جنگ کے حالات نے نہ صرف علاقائی سیاست کو بلکہ عالمی معیشت بالخصوص امریکی معیشت اور عوامی سطح پر معاشی استحکام کو شدید طور پر متاثر کر دیا ہے۔اس جنگ کے نتائج میں جہاں ایک طرف ایران میں مشکلات کا سامنا ہے ،وہاں ساتھ ساتھ خطے کے دیگر ممالک اور بالخصوص امریکی عوام کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔

برائون یونیورسٹی کے مشہور واٹسن انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیئرز کے حال ہی میں جاری کردہ ایران وار انرجی کاسٹ ٹریکر کی مصدقہ رپورٹس اور بین الاقوامی معاشی اعداد و شمار کے مطابق، جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک امریکی عوام اضافی توانائی، گیسولین اور ڈیزل کے چارجز کی مد میں100 ارب ڈالر سے زائد کی خطیر رقم خرچ کر چکے ہیں۔ یہ بو جھ امریکی تاریخ میں کسی بھی جنگ کی صورت میں عوام پر براہ راست پڑنے والے سب سے زیادہ ہنگامی مالی بوجھ میں سے ایک شمار ہو رہا ہے۔ برائون یونیورسٹی کی تحقیق بتاتی ہے کہ یہ رقم اوسطاً فی امریکی گھرانہ تقریباً 763 سے 767 ڈالر کا اضافی بوجھ بنتی ہے اور اب یہ صورتحال محض پیٹرول پمپوں تک محدود نہیں رہی،گزشتہ چھ ماہ کے دوران اس جنگ اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی وجہ سے پیدا ہونے والے سپلائی چین کے بحران کے باعث امریکی زندگی کے متعدد شعبہ جات سخت ابتری کا شکار ہوئے ہیں۔

اس اقتصادی بحران کا سب سے پہلا اور براہ راست مرحلہ ایندھن اور پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہوا، جس نے عام امریکی شہری کی یومیہ نقل و حمل پر شدید اثر ڈالا۔ٹرپل اے (American Automobile Association) کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے بعد سے پیٹرولیم اور ڈیزل کی قیمتیں غیر معمولی بلندی پر پہنچ چکی ہیں، جس کے نتیجے میں عام گیسولین 39 فیصد اضافے کے ساتھ 15.4ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی اور ایندھن کی مد میں امریکی صارفین کے تقریباً 55 ارب ڈالر اضافی خرچ ہوئے۔

 کارخانو ں سے مال منگوانے اور دکانوں تک پہنچانے کی لاگت میں د گنا اضافہ کر دیا، جس کے نتیجے میں سپلائی چین سست روی اور تاخیر کا شکار ہوئی اور حتمی مصنوعات کی ترسیل کے اخراجات میں بیجا ناگزیر اضافہ دیکھا گیا۔ عام گروسری اور کھانے پینے کی اشیاء عام شہریوں کی پہنچ سے دور ہونے لگیں۔ پھل، سبزیوں، گوشت اور دودھ کی نقل و حمل شدید مہنگی ہو گئی۔ گروسری اسٹورز اور وال مارٹ جیسے بڑے ریٹیلرز نے اپنی سپلائی کی لاگت میں اضافے کو براہ راست صارفین کی طرف منتقل کرنا شروع کر دیا، جس کی وجہ سے گزشتہ چھ ماہ میں کھانے پینے کی عام اشیاء کی قیمتوں میں واضح اور تیز ترین اضافہ درج کیا گیا۔ یوں امریکی خاندانوں کے بنیادی ماہانہ اخراجات کا خاکہ بگڑ گیا۔

 بحران کا چوتھا مرحلہ امریکی ہائوسنگ، رئیل اسٹیٹ اور تعمیرا تی شعبے میں نمایاں ابلاغ کے ساتھ ابھرا۔ امریکی فیڈرل ریزرو پر شرائع سود کو متوقع حد سے زیادہ طویل عرصے تک بلند رکھنے کا شدید دبائو آیا، یوں ہائوسنگ مارکیٹ پر جمود طاری ہو گیا۔ نئے گھروں کی خریداریاں اور ہائوسنگ کی تعمیراتی سرگرمیاں 6ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئیں۔ عمارتی خام مال، سیمنٹ،اسٹیل اور تعمیرا تی مشینری کی نقل و حمل کی لاگت بڑھ گئی، نئے گھروں کی قیمتوں کو ریکارڈ حد تک پہنچا دیا۔

اس تمام تر سلسلہ وار معاشی تنائو کا پانچواں اور سب سے نچلا اثر فضائی سفر، سیاحت اور سروسز کے شعبے پر پڑا۔ ایوی ایشن فیول (جیٹ فیول) کی ریکارڈ قیمتوں کی وجہ سے ایئر لائنز کو ٹکٹوں کے کرایوں میں اضافہ کرنا پڑا۔ سروسز انڈسٹری، ریسٹورنٹس اور مہمان نوازی کے شعبے نے صارفین کے اخراجات میں کمی محسوس کی، کیونکہ عام امریکی اپنے لازمی اخراجات (پیٹرول، بجلی اور گروسری) کو پورا کرنے کے لیے غیر ضروری تفریح، سفر اور کھانے پینے کے بجٹ میں کٹوتی کرنے پر مجبور ہوئے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ نتیجتاً، اس چھ ماہ کے اندرونی و بیرونی معاشی بحران نے معیشت کی کلی بنیا دوں، ملازمتوں کے بازار اور افراطِ زر (Inflation) پر آخری مرحلے کے طور پر ضرب لگائی۔ 100ارب ڈالر سے زائد کا ایندھن پر خرچ ہونے والا اضافی سرمایہ اصل میں امریکی معاشی گردِش سے نکل کر ضایع ہو چکا ہے، جس کی بحالی کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ براون یونیورسٹی کی رپورٹ متنبہ کرتی ہے کہ یہ 100ارب ڈالر کا ہندسہ آخری نہیں ہے، مسلسل بڑھ رہا ہے۔ امریکی عوام کے لیے، خاص طور پر آیندہ سیاسی اور معاشی فیصلے کرتے وقت، ایران کے خلاف جنگ سے پیدا ہونے والے اس مہنگائی کے جھٹکے نے معاشی عدم تحفظ کو جنم دیا ہے ۔یہ سب کچھ صرف امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

Load Next Story