میانمار میں خواتین قیدیوں کو تشدد کا سامنا
ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ میانمار میں خواتین قیدیوں کو بڑے پیمانے پر تشدد، جنسی تشدد اور جان لیوا طبی غفلت کا نشانہ بنایا جارہا ہے.
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے جنگ زدہ ملک میں ہزاروں قیدیوں کے ساتھ دائمی ناروا سلوک کی نشاندہی کی۔
فروری 2021 کی بغاوت میں فوج کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے، ایک طویل خانہ جنگی نے میانمار کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس میں کئی علاقوں کو تباہ کر دیا گیا ہے اور تقریباً 100,000 افراد ہلاک جبکہ 35 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو گئے ہیں۔
نیویارک میں قائم انسانی حقوق گروپ نے رپورٹ میں کہا کہ بغاوت کے بعد سے حراست میں لیے گئے 30,000 سے زیادہ سیاسی قیدیوں میں 6,600 سے زیادہ خواتین، جن میں سابق رہنما آنگ سان سوچی بھی شامل ہیں، اور 640 بچے بھی شامل ہیں۔