اسلام کے خلاف دشمنی اور اسلاموفوبیا دنیا میں وبا کی طرح پھیل رہے ہیں، ترک صدر اردوان

ترک صدر نے اقوام متحدہ کے موجودہ کردار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے ادارے میں اصلاحات پر زور دیا

ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسلام کے خلاف دشمنی اور فلسطین کی صورتحال سمیت متعدد عالمی مسائل پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے موجودہ کردار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے ادارے میں اصلاحات پر زور دیا۔

اردوان نے کہا کہ اسلام کے خلاف دشمنی اور اسلاموفوبیا دنیا میں وبا کی طرح پھیل رہے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے حوالے سے کہا کہ عالمی امن اور سلامتی برقرار رکھنے کے لیے قائم کیے گئے ادارے کی مؤثریت وقت کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے اور موجودہ نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔

ترک صدر نے فلسطین کی صورتحال کو بھی اپنی تقریر کا اہم حصہ بنایا۔ انہوں نے فلسطینی صدر محمود عباس کی مسلسل دوسرے سال جنرل اسمبلی کے اجلاس میں عدم موجودگی کو فلسطینی عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافی قرار دیا اور کہا کہ اس صورتحال سے عالمی ضمیر متاثر ہو رہا ہے۔

اردوان نے کہا کہ محمود عباس ذاتی طور پر جنرل اسمبلی میں موجود نہیں، تاہم ترکیے آزاد اور خودمختار فلسطین کی آواز اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر بلند کرتا رہے گا۔ انہوں نے ان ممالک سے بھی فلسطین کو تسلیم کرنے پر غور کرنے کا مطالبہ کیا جو اب تک فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرتے۔

ترک صدر نے مسئلہ کشمیر کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جنوبی ایشیا کے تمام تنازعات، جن میں کشمیر بھی شامل ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے دائرے میں مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔

اردوان نے غزہ کی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور عالمی برادری سے فلسطینیوں کے تحفظ اور خطے میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔ ان کی تقریر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں اصلاحات کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

Load Next Story