فیکٹ چیک: حوثی حملے سے ریاض ایئرپورٹ تباہ ہونے کی ویڈیو وائرل، حقیقت کیا ہے؟
سوشل میڈیا پر ایک خوفناک ویڈیو کو سعودی عرب کے ریاض ایئرپورٹ پر حوثیوں کے مبینہ میزائل حملے کا منظر قرار دیا جا رہا ہے۔
تحقیقات سے سامنے آیا ہے کہ یہ ویڈیو حقیقی نہیں بلکہ اے آئی سے تیار کردہ ہے۔
دعویٰ کیا ہے؟
20 ستمبر کو فیس بک سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں لوگوں کو ایک عمارت کے اندر بھاگتے دیکھا جا سکتا ہے اور چند لمحوں بعد زور دار دھماکے سے شیشے ٹوٹتے دکھائی دیتے ہیں۔
ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ یہ مناظر حوثیوں کے میزائل حملے کے بعد ریاض ایئرپورٹ کے ہیں۔
حقیقت کیا ہے؟
فیکٹ چیکنگ کے مطابق یہ دعویٰ غلط ہے۔ وائرل کلپ حالیہ واقعات سے کئی ماہ پہلے، 19 مارچ 2026 کو بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی جا چکی ہے، جہاں اسے دبئی ایئرپورٹ سے منسوب کیا گیا تھا۔
ایکس نے اس پرانی پوسٹ کو ’مینوپولیٹڈ میڈیا‘ کا لیبل بھی دیا تھا جبکہ ریاض کے بین الاقوامی ایئرپورٹ کو نشانہ بنائے جانے کی کوئی سرکاری رپورٹ بھی سامنے نہیں آئی۔
ویڈیو کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر کئی غیرمعمولی خامیاں نظر آتی ہیں۔ ایک مقام پر ایک شخص بظاہر شیشے کے دروازے کے اندر سے گزرتا دکھائی دیتا ہے، جبکہ دوسرے منظر میں ایک شخص کے کان کے قریب موبائل فون ہوا میں معلق نظر آتا ہے۔
یہ بصری غلطیاں مصنوعی طور پر تیار کردہ ویڈیوز میں سامنے آنے والی بے قاعدگیوں سے مطابقت رکھتی ہیں۔
ویڈیو کو میٹا کے اے آئی ڈیٹیکشن ٹول سے بھی جانچا گیا، جس کے تجزیے میں اسے جنریٹو اے آئی سے تیار کردہ قرار دیا گیا۔
نتیجہ
ریاض ایئرپورٹ پر حوثیوں کے میزائل حملے کے نام سے وائرل ہونے والی ویڈیو حقیقی حملے کی فوٹیج نہیں۔ یہ کلپ مارچ 2026 سے آن لائن موجود ہے اور دستیاب شواہد کے مطابق اسے اے آئی کی مدد سے تخلیق کیا گیا ہے۔