عراقچی کا یورپ پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام، امریکا اور اسرائیل پر بھی کڑی تنقید
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیدرلینڈز کے وزیر خارجہ ٹام ڈی بروئن سے ملاقات میں یورپی ممالک پر ’دوہرے معیار‘ اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق نیویارک میں ہونے والی ملاقات کے دوران عراقچی نے خطے کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف اقدامات پر یورپی ممالک کے ردعمل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ان کے مطابق یورپی ممالک نے ان اقدامات کے حوالے سے خاموشی اختیار کی یا ان کے بارے میں نرم رویہ اپنایا۔
عراقچی نے کہا کہ یورپی ممالک ایک طرف قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی حمایت کا دعویٰ کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ان کے بقول ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر لاتعلق رہتے ہیں یا ان کی حمایت کرتے ہیں۔
ملاقات میں ڈچ وزیر خارجہ ٹام ڈی بروئن نے سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا اور خطے میں جاری پیش رفت کے بارے میں نیدرلینڈز کے مؤقف سے ایرانی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے ایران اور یورپ کے درمیان تعلقات اور موجودہ علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکا اور ایران کے درمیان بھی ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے مطابق دونوں وفود نے طویل بات چیت کی ہے اور ثالثوں نے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ کے خاتمے سے متعلق متعدد شرائط پیش کیے جانے کے بعد نیویارک میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہوئی ہیں۔ دوسری جانب یورپی حکام بھی آزادانہ بحری آمدورفت اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔