عالم اسلام کا درد محسوس کیا جائے

امریکا سمیت پوری عالمی برادری کو پاکستان کا نقطہ نظر سمجھنے کی ضرورت ہے

ہلیری کلنٹن سے ملاقات میں صدر نے گستاخانہ امریکی فلم کی مذمت کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کو پاکستانیوں کے جذبات سے آگاہ کیا۔ فوٹو: اے ایف پی

صدر آصف زرداری پاکستان کی تاریخ اور پاک امریکا تعلقات کے ایک انتہائی نازک سیاق وسباق میں امریکا پہنچے ہیں اور ان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کا محور بھی بلاشبہ دیگر اہم عالمی امور ، پاکستان کی داخلی سلامتی و قومی خود مختاری کے معاملات سمیت اسلام مخالف امریکی فلم ہے۔

جس نے توہین رسالت کرتے ہوئے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی، صدر زرداری عالمی برادری پر یہ بھی واضح کریں گے کہ پاکستان اور اس کے عوام انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے ہیں ۔

امریکی صدر بارک اوباما کے مشیروں نے یہ تاثر دیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں صدر اوباما گستاخانہ فلم کے ایشو کے حوالہ سے عالمی ایشوز کو پیش نظر رکھنے کو ناگزیر سمجھتے تھے ۔

تاہم وہ لاکھ اس فورم کو اپنی بے نام جیسی خاموش انتخابی مہم کے طور پر استعمال کریں دنیا امریکا کی پالیسیوں سے نالاں ہی رہے گی۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اوباما اپنے خطاب میں امریکا مخالف جذبات اور عالم اسلام کے اضطراب سمیت امریکا کی داخلی سیاست اور گلوبل صورتحال کا جائزہ لینے پرمجبور ہیں ۔

صدر زرداری نے امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سے کہا کہ گستاخانہ فلم پر پاکستانی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، امریکا اس بات کا احساس کرے اور اس واقعہ پر فوری ایکشن لے، اظہار رائے کے نام پر کسی کو عالمی امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، پاکستان امریکا سے امداد کے بجائے تجارت کو ترجیح دیتا ہے۔

ہلیری کلنٹن سے ملاقات میں صدر نے گستاخانہ امریکی فلم کی مذمت کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کو پاکستانیوں کے جذبات سے آگاہ کیا۔انھوں نے کہا ٹیکسٹائل اور دیگر پاکستانی مصنوعات کو امریکی منڈیوں تک رسائی دی جائے، پاکستان امداد کے بجائے تجارت کو ترجیح دیتا ہے۔

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے صدر آصف زرداری کو ''میرے دوست'' کہہ کر مخاطب کیا ، انھوں نے پاکستان کے لیے نئے امریکی سفیر رچرڈ اولسن سے بھی صدر مملکت کو ملوایا۔حقیقت میں اصل پیغام جو صدرمملکت دنیا کو دینا چاہتے ہیں وہ جنرل اسمبلی میں ان کا فکر انگیز خطاب ہے جس میں پاکستان اوراس کے عوام کی جانب سے مغرب کو اس کے تاریخی تناظر میں جواب دینے کی کوشش کا عندیہ ملتا ہے جو مستحسن اور خوش آیند ہے۔

تاہم امریکا سمیت پوری عالمی برادری کو پاکستان کا نقطہ نظر سمجھنے کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی امریکی گستاخانہ فلم کی تیاری کے پس پردہ محرکات،صہیونی ریشہ دوانیوں،اور آزادی تقریر و آزادی اظہار سمیت فلم میکنگ آرٹ کی جملہ باریکیوں اور جمالیاتی معیار کو بھی پیش نظر رکھا ہوگا۔

معاملہ صرف بدنیتی میں ملوث ایک شخص کی بیہودہ فلم سازی کا نہیں ہے، امریکی میڈیا اور اوباما انتظامیہ کو اپنے پورے امریکی فلم کلچر کا سیاق و سباق سامنے رکھتے ہوئے یہ دیکھنا اور اپنے دل میں جھانک کر یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ کیا مسلمانوں کی دل آزاری ہی اظہار کی آزادی سے مشروط ہے؟

یہاں قابل ذکر امر یہ ہے کہ گستاخانہ فلم میں شیطانی کام کرنے والی امریکی اداکارہ سنڈی لی گارشیانے دعویٰ کیا ہے کہ اسے دھوکادیاگیا۔وہ ریاستی عدالت میں مقدمہ مستردکیے جانے کے بعدوفاقی عدالت سے رجوع کریگی۔


اس کی وکیل نے این بی سی ٹی وی کوبتایاان کے اپنے اصول وضوابط کے مطابق نفرت انگیزتقریرکی اجازت نہیںتویہ کیسے نفرت انگیزنہیں؟یہ اخلاقی،فکری اورقانونی طورپرغلط کیوں نہیں؟مغرب میں بے شمار مورخین اسلامی تہذیب کا دفاع کرتے ہیں۔

لیکن کئی اسکالر مسلم معاشرے میں تضادات ڈھونڈنے ہی کو اپنا منصب حقیقی تصور کرتے ہیں۔ مسلم معاشرے کے زوال کے اسباب گنوانے کے لیے مغربی میڈیا نے گزشتہ چند برسوں میں عالم اسلام کی پسماندگی کو مذہب سے جذباتی وابستگی کا شاخسانہ قرار دینے کی مہم چلائی ۔معروف مورخ برنارڈ لیوس کی مشہور کتاب ''مسلمانوں کی غضبناکی کے بنیادی اسباب''The Roots of Muslim Rage کے حوالے سے مسلم مفکرین اور دانشوروں کو یہی اعتراض ہے کہ برنارڈ نے مسلم معاشروں میں تہذیبی انتشار کا سبب یہی بتایا کہ وہ ریاست میں مذہب کا عمل دخل زیادہ رکھتے ہیں ادھر مغرب جہادی اسلام کی رٹ لگاتا ہے۔

جب کہ امریکا اپنے دور استعمار و غلامی کی بہیمانہ یادوں کو تاریخ کے اوراق سے نوچنے میں کامیاب نہیں ہوسکا، سیاہ فاموں اور ریڈ انڈینز سے روا رکھے جانے والے حقائق اندوہ ناک ہیں۔ہر ملک اپنے اندر کے نسلی،تہذیبی اور ثقافتی تضادات سے دوچار ہے مگر اسلام میں رواداری،تحمل، رحم دلی، سخاوت،اخوت اور امن و آزادی اس کی بنیادی تعلیمات ہیں۔

نبی اکرم ﷺ کی توہین پر مبنی فلم کا دفاع کرنے والے فری اسپیچ اور مذہبی آزادی کو مشروط قرار دے کر در حقیقت فنون لطیفہ میں اخلاقیات اور جمالیاتی نزاکتوں کا انکار کرتے ہیں۔اسلامی انقلاب اور القاعدہ وطالبان کے حوالے سے اسلام کی مسخ شدہ تاویلیں پیش کرنے میں پیش پیش ہیں۔

تاہم ان سب کو مکالمہ اور استدلال سے مطمئن کرنے کی ضرورت ہے۔ گستاخانہ مووی بنانے کی شرانگیزی نا قابل معافی ہے۔ امریکا فری اسپیچ یا اظہار کی بے لگام آزادی کی بے شک وکالت کرے اس کا حق ہے مگر اسلام یا مسلم معاشروں کے نظام اقدار اور اس کے عوام کے دینی جذبات کا احترام بھی کرے ۔

مسلم تہذیب کے زوال کے اسباب مختلف النوع ہوں گے تاہم مغرب بھی اپنے انداز نظر میں ترمیم لائے اور اسلام کی تصویر کے دوسرے رخ کا بھی پرچار کرے جو امن ، روداری، ہم خیالی،لبرل ازم اور جدیدیت سے عبارت ہے۔ذرا سوچا جائے کہ اگر گستاخانہ فلم کا دانستہ واقعہ نہ ہوتا ، یہ چنگاری نہ بھڑکائی جاتی تو پاک امریکا تعلقات جو بظاہر تباہی کے دہانے تک پہنچ چکے تھے۔

اس میں کتنی مثبت پیش رفت ہوچکی ہوتی۔اس زیاں کا احساس ہی کافی ہے۔ مغربی میڈیا مسلمانوں کو اب بخش دے اور اپنے گریبانوں میں جھانکے۔ امریکی صحافی تھامس فرائیڈمین نے اپنے ایک تازہ کالم'' اپنے آئینہ میں جھانکیے'' میں جو سوشل میڈیا پر موجود ہے کچھ مثبت باتیں کی ہیں مگر سارا الزام مسلم ممالک پرلگانا مناسب نہیں۔ موجودہ صدی بلاشبہ معاشی اضطراب ، اقتصادی وعسکری اورسیاسی بالادستی کے جارحانہ اقدامات کی صدی ہے ۔

دنیا کے کئی منطقوں میں بے چینی ہے، جس میں امریکا اپنے استعماری عزائم اور پروپیگنڈے کی راہ میں ہر رکاوٹ کا الزام مسلم معاشرے میں شورش ،اقتصادی انحطاط،پسماندگی اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کے سر تھوپتا ر رہتا ہے جب کہ امریکی ڈپلومیسی اور خارجہ پالیسی کی دو عملی ہی دنیا میں بدامنی، جنگ،غربت اور استحصال کی وجہ ہے۔ گزشتہ روز اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر ایلین چیمبرلین ڈوناہو نے یہ خیال پیش کیا کہ مذہبی وقار کا سب سے بہترین تحفظ آزادی تقریر ہے۔

ادھر او آئی سی نے توہین رسالت کے خلاف عالمی قانون سازی کا درست مطالبہ کیا۔اسلام مخالف فلم کے حوالہ سے یورپی یونین کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا او آئی سی ، عرب لیگ،اور شمالی افریقی یونین کے ساتھ یکساں موقف کے سلسلہ میں معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت روداری اور مذہب کے کلی احترام کے لیے عالمی اتفاق رائے پید اکرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔

ہلیری کلنٹن نے کہاکہ گستاخانہ فلم سے امریکی حکومت کا کوئی تعلق نہیں، امریکا متنازعہ فلم کی مذمت کرتا ہے۔امریکا پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتاہے اور مستقبل میں بھی پاکستان کی مد د جاری رکھے گا ۔وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ ہمارے لیے نبی کریم حضرت محمد ﷺسے بڑھ کرکوئی ہستی نہیں' گستاخانہ فلم کے خلاف پوری مسلم امہ سراپا احتجاج ہے۔

صدر زرداری کے جنرل اسمبلی سے خطاب کا محور بھی یہی ہو گا' حکومت پاکستان اس سلسلہ میں او آئی سی اورمسلمان ممالک کے سفیروں سے رابطے میں ہے' انبیاء کرام ؑ کی شان میں گستاخی کو قابل سزا جرم قرا دیا جانا چاہیے اور اس حوالے سے عالمی سطح پر قانون سازی ہونی چاہیے، گستاخی رسول ﷺ کسی صورت برداشت نہیں کرینگے۔ان ارشادات میں سچائی ہے اور عالمی برادری کو عالم اسلام کا درد محسوس کرنا چاہیے۔
Load Next Story