امید اور فریب کے درمیان، شاہراہِ امکاں
اس تحقیق سے پُرامید رہنے کی اہمیت ثابت ہوتی ہے اور خود کو بری عادتوں اور حرکتوں سے محفوظ رکھنے کا ایک آسان طریقہ بھی سامنے آتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)
دوا کی ہر خوراک ایک امید ہے اور زندگی کے جھمیلوں میں امید ہی ایک عظیم نعمت ہے۔ بیماری کے بستر پر پڑا مریض صحت یاب ہونے کی، ڈاکٹر علاج کا راستہ تلاش کرنے کی، ریسرچر نئے امکان کی جستجو کی، اور سائنس اس یقین کے ساتھ آگے بڑھتی ہے کہ آج کا نامعلوم کل کے علم کا حصہ بن سکتا ہے۔
ادویہ سازی بھی اسی امید کا عملی اظہار ہے مگر یہاں امید ایک بنیادی ذمے داری کے ساتھ پیوستہ ہے۔ حقیقت کو اپنی خواہش کے مطابق نہ سمجھیں، اسے اتنا ہی سمجھیں جتنا شواہد بتاتے ہوں۔ قوم کی سیاسی ترقی کا معاملہ ہو یا مریض کی صحت کا، کسی حقیقت کے بارے میں غلط یقین کی قیمت محض ایک فکری غلطی نہیں، قومی مستقبل داؤ پر لگا ہوتا ہے اور صحت کے معاملے پر انسانی جان سولی پر لٹکی ہوتی ہے۔
جب ایک مایوس بستی کے لوگ ایک شخص کی واپسی کو نئی زندگی کی امید سمجھ لیتے ہیں۔ ان کے پاس اس امید کی مضبوط ضمانت نہیں مگر تبدیلی کی شدید خواہش ان کی اپنی امید کو دلیل بنانے لگتی ہے۔ یہاں فریب جگہ بناتا ہے، امید رکھنی چاہیے یا نہیں۔ اس کو ایک بار پرکھ لیں کہ ہم کسی بات کو کس بنیاد پر سچ سمجھتے ہیں؟
امید کہتی ہے کہ حالات بدل سکتے ہیں، فریب اس وقت پیدا ہوتا ہے جب خواہش حقیقت کو پرکھنے کا معیار بن جائے۔ یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ انسان کیا چاہتا ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی خواہش اور حقیقت کے درمیان فرق برقرار رکھ پاتا ہے یا نہیں۔ یہ کلیدی نکتہ اجتماعی زندگی سے گزرتا ہوا علم اور سائنس تک آتا ہے۔ قومی امید معاشروں کو آگے بڑھاتی ہے لیکن جب بے بنیاد یقین، سوال اور اختلاف کی گنجائش ختم کردے تو انسان ثبوت کے بجائے اپنے یقین کی تصدیق تلاش کرنے میں تعصب کا شکار ہوجاتا ہے۔ سائنس اسی انسانی کمزوری کے مقابل ایک طریقۂ کار فراہم کرتی ہے، دعویٰ کیا ہے؟ ثبوت کیا ہیں؟ ثبوت جمع کرنے کا طریقہ کتنا معتبر ہے؟ اس سے کشید کیے گئے نتیجے کی حدود کیا ہیں؟ اور کون سی نئی معلومات ہمیں اپنی رائے بدلنے پر مجبور کرسکتی ہیں؟
حقیقت کے قریب پہنچنے کا مطلب صرف درست جواب حاصل کرنا نہیں بلکہ یہ جاننا بھی ہے کہ حاصل کیا ہوا اور سب سے اہم کیسے حاصل ہوا؟ یہی سوالات ہمارے ادویاتی علوم کے ضمن میں بہت اہم ہیں۔
فرض کیجیے ایک گولی میں فعال دوا کی مقدار کا ٹیسٹ مقررہ حد کے اندر آتا ہے۔ نتیجہ درست ہے، طریقہ بھی درست ہے اور رپورٹ اطمینان بخش ہے۔ لیکن اگر اس ایک نتیجے سے یہ سمجھ لیا جائے کہ پوری دوا لازماً مطلوبہ انداز میں کام کرے گی تو ایک درست مشاہدے سے ایسا نتیجہ اخذ کیا گیا جو اس مشاہدے سے ثابت ہی نہیں ہوتا۔ دوا کی کارکردگی سمجھنے کے لیے یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ نمونہ پوری کھیپ کی کتنی نمائندگی کرتا ہے، فعال جزو کس طرح پورے بیچ میں تقسیم ہوا ہے، گولی مناسب رفتار سے تحلیل ہوتی ہے یا نہیں اور متعلقہ عمل و معیار ایک دوسرے سے کیسے جڑے ہیں۔
ٹیسٹ کا نتیجہ حقیقت کا فقط ایک مشاہدہ ہے، یہ خود ایک حقیقت نہیں۔ یہاں امید اور فریب کا فرق ادویہ سازی کی عملی ذمے داری بن جاتا ہے۔ اگر ایک تسلی بخش رزلٹ دیکھ کر باقی سوالات چھوڑ دیے جائیں تو اہم مسئلہ سرٹیفکیٹ آف اینالسز میں نہیں بلکہ یقین کے طریقے میں ہے۔ ہم نے ایک محدود حقیقت کو مکمل حقیقت سمجھ لیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ادویہ سازی کی موروثی غفلت جنم لے سکتی ہے۔ غلط ٹیسٹ سے یا غلط عدد سے نہیں بلکہ اس وقت جب صحیح نتیجے کو اس کی حدود سے باہر استعمال کیا جائے۔ مریض کے لیے محفوظ دوا بنانے کا مطلب صرف یہ ثابت کرنا نہیں کہ ایک مخصوص معیار پورا ہوا، یہ سمجھنا بھی لازمی ہے کہ وہ معیار کیا بتاتا ہے، کیا نہیں بتاتا، اور سب سے اہم کہ مجموعی عمل میں اس کا کیا اور کتنا مقام ہے۔
سائنس یقین کو ذمے دار بناتی ہے، اسے ختم نہیں کرتی۔ ایک ڈاکٹر کو شواہد نظر انداز کرکے علاج کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ ایک محقق کو اپنے مفروضے پر اعتماد ہونا چاہیے، مگر اس اعتماد کو نئے یا امید کے خلاف ابھرنے والے نتیجے کو تسلیم کرنے کا حوصلہ بھی ہونا چاہیے، جو مفروضے کو غلط ثابت کرے۔ ادویہ سازی میں نظام تسلی بخش رپورٹس پر اطمینان ضرور رکھے مگر نظام کو اس اطمینان کا یقین کی حد اچھی طرح معلوم ہونی چاہیے۔ شاید ایک ذمے دارانہ امید یہی ہے کہ حقیقت سے نظریں چرائے بغیر بہتر مستقبل کا خواب دیکھا جائے۔
ایک سچی بات کو ہمیشہ کےلیے ہر حالات میں مکمل سچ سمجھ لینا آمریت سا ہے اور یہیں کہیں فریب کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ دوا کے معاملے میں یہ فرق محض فلسفہ نہیں رہتا، یہ مریض کی حفاظت کا اصول بن جاتا ہے۔ لیبارٹری کے ٹیسٹ رزلٹس دیکھیے، پڑھیے، مگر اس کا مطلب بھی سمجھنے کی کوشش میں وقت لگائیے۔ شواہد کو اس کے حدود کے ساتھ مقدم جانیے۔ حقائق کو امید سے جوڑے رکھیے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔