سیاسی تقسیم

وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ملک کے موجودہ حکمران ملک تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔

m_saeedarain@hotmail.com

وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ملک کے موجودہ حکمران ملک تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ الزام انھوں نے وزیر آباد میں حکمرانوں پر لگایا ہے۔ وہ اسٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں دوسری بار پنجاب کے دورے پر آئے تھے اور انھوں نے الزام لگایا کہ ان کی لاہور آمد پر شہر میں کرفیو کا سماں تھا ۔

وزیر اعلیٰ کے پی کے دورہ پنجاب پر تنقید کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے صوبے میں کام اور عوام کی خدمت کی بجائے پنجاب کیوں آ جاتے ہیں جہاں ان کی عوام کو ان کی زیادہ ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ کے پی کو پنجاب آ کر جو ترقی نظر آتی ہے وہ ایسی ترقی اپنے صوبے کے پی میں کیوں نہیں کراتے اور اپنا اصل کام چھوڑ کر پنجاب میں آ کر سیاست کیوں کرتے ہیں۔

ملک کے ہر شخص کا آئینی حق ہے کہ وہ ملک کے جس صوبے میں جانا چاہے ،وہاں رہے اسے اس حق سے کوئی حکومت محروم نہیں کر سکتی، یہ اس کا بنیادی حق ہے۔وزیر کے پی دوسری بار سندھ و پنجاب کے دورے پر آئے تھے جہاں ان کے مطابق اچھا سلوک نہیں کیا گیا اور سندھ کے مقابلے میں پنجاب میں مشکلات پیش آئیں، وہ جہاں گئے، وہاں بجلی بند کی گئی اور جنریٹر تک لانے نہیں دیا گیا اور انھیں گرمی میں رات گزارنا پڑی ۔

ویسے تو ملک کے ہر صوبے کے گورنر اور وزرائے اعلیٰ ہر صوبے کا دورہ کرتے رہتے ہیں جہاں انھیں سرکاری پروٹوکول ملتا ہے وہاں وہ اپنے پارٹی رہنماؤں سے بھی ملتے ہیں وہاں ان کی حکمرانوں سے ملاقاتیں بھی ہوتی ہیں مگر وہ دیگر صوبوں میں سرکاری طور پر اطلاع دے کر آتے جاتے ہیں اور انھیں کوئی شکایت بھی نہیں ہوتی۔ گورنروں اور وزرائے اعلیٰ کے بین الصوبائی دوروں سے صوبائی تعلقات میں بہتری آتی ہے شکایات دور ہوتی ہیں مگر وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی مختلف نقطہ نظر پیش کر رہے ہیں۔

شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بھی سندھ اور پنجاب میں حکومت مخالف نظریہ لے کر آئے تھے اور انھوں نے بھی صوبائی حکومتوں کو بے جا تنقید کا نشانہ بنایا۔جو سوچ وہ لے کر پنجاب اور سندھ آئے تھے اور جو جارحانہ رویہ انھوں نے اپنایا ایسے میں صوبائی حکومتیں ان کو کیسے خوش آمدید کہہ سکتی تھیں۔اگر وہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ بہتر تعلقات بنانے اور ترقی کا ایجنڈا لے کر آتے تو جو ان کو شکایات پیدا ہوئی ہیں وہ کبھی پیدا نہ ہوتیں۔

پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت میں کراچی آمد پر مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما مریم نواز کے ساتھ سندھ حکومت کی لاعلمی میں ان کے ہوٹل کے گیٹ توڑنے کا واقعہ ضرور ہوا تھا جس کے علاوہ کبھی کسی سرکاری عہدیدار یا سیاسی رہنما کے ساتھ کسی صوبے میں کبھی کوئی ایسے ناخوشگوار واقعات نہیں ہوئے جیسے بقول پی ٹی آئی ان کے دو وزرائے اعلیٰ کے ساتھ پنجاب و سندھ کے دوروں میں مبینہ طور پر پیش آ چکے ہیں۔

کے پی کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور اور موجودہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے دیگر صوبوں کے سیاسی دورے سے قبل کے پی کے کسی حکمران کو سندھ و پنجاب میں کبھی کوئی ایسی شکایت نہیں ہوئی تھی جتنی کے پی کے ان دونوں وزرائے اعلیٰ کو ہیں اور وزیر اعلیٰ کے پی الزامات کی سیاست کر رہے ہیں مگر موجودہ ملکی حالات میں ملک و قوم پہلے ہی مسائل کا شکار ہیں ۔

پیپلز پارٹی کے سرکاری اور پارٹی عہدیداروں نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے لیے سینیٹ یا قومی اسمبلی سے قراردادیں منظور ہوئیں تو ہم مسترد کر دیں گے۔ سندھ و پنجاب کی حکومتوں اور کے پی کے وزرائے اعلیٰ کے درمیان ناخوشگوار تعلقات ہمیشہ ہی پی ٹی آئی حکومتوں ہی میں پیدا ہوئے جب کہ ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا جو ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔ جو نفرت انگیز بیانات سامنے آئے ہیں وہ سیاسی تقسیم بڑھانے کی مذموم کوشش ہے جس سے عوام میں نفرت پیدا کرنے کی کوشش ہی کہا جا سکتا ہے۔

سیاستدانوں کو جذبات میں دیے گئے غلط بیانات پر معافی مانگنی چاہیے کیونکہایسے بیانات کشیدگی کا سبب بنتے ہیں مگر ذمے داری کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا اور عوام میں سیاسی تقسیم جان بوجھ کر بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے جو نہیں ہونی چاہیے۔کے پی کے حکمرانوں پر یہ زیادہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پنجاب اور سندھ کے دوروں میں ایسی متنازع تقاریر نہ کریں جو وہاں کے حکمرانوں اور عوام میں غلط تاثر پیدا ہو کیونکہ پنجاب اور سندھ میں کے پی کے لاکھوں افراد عشروں سے مقیم ہیں کاروبار کر رہے ہیں۔ یہیں وہ الیکشن میں حصہ لیتے ہیں اور انھیں سیاسی آزادی بھی حاصل ہے۔

حکمرانوں کی غلطیوں کی وجہ سے ملک و قوم پہلے ہی تقسیم ہیں سندھ کو بھٹو دور میں کوٹہ سسٹم نافذ کرکے تقسیم کیا گیا تھا اور اب پی پی رہنما اپنے جذباتی خطابات سے سندھ کارڈ کھیل رہے ہیں اور دیگر جماعتوںپر مختلف الزامات لگا رہے ہیں۔پانی کے مسئلے پر بھی سیاستدان ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں پنجاب اور کے پی نے گندم امپورٹ کے لیے ڈیمانڈ ایک ایک لاکھ ٹن کم کر دی ہے جس سے گندم کی قیمت بڑھنے کا خدشہ ہے۔ چاروں صوبوں کی حکمران جماعتوں کو سیاسی مفادات کے حصول میں محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

Load Next Story