گڈ گورننس

پاکستان جب 14 اگست 1947 کو ایک آزاد ملک کے طور پر قائم ہوا، تو اس کے سامنے صرف ایک نئی حکومت چلانے کا چیلنج نہیں تھا

پاکستان جب 14 اگست 1947 کو ایک آزاد ملک کے طور پر قائم ہوا، تو اس کے سامنے صرف ایک نئی حکومت چلانے کا چیلنج نہیں تھا، بلکہ مختلف زبانوں، علاقوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے کروڑوں لوگوں کو ایک مضبوط انتظامی اور آئینی نظام کے تحت جوڑنے کا چیلنج بھی تھا۔ ابتدائی سالوں میں مہاجرین کی آبادکاری، معاشی مشکلات، اداروں کی تشکیل اور آئین سازی جیسے اہم مسائل درپیش تھے۔ 1956 میں ملک کو پہلا آئین ملا، لیکن سیاسی عدم استحکام ختم نہ ہو سکا اور 1958 میں مارشل لا نافذ ہو گیا۔

اس کے بعد 1962کا آئین آیا، پھر 1969 میں دوبارہ غیر سول اقتدار قائم ہوا، اور 1971 میں ملک کو مشرقی پاکستان کی جدائی کا بڑا قومی سانحہ دیکھنا پڑا۔ 1973 میں ملک کو ایک متفقہ آئین تو مل گیا، مگر 1977 میں ایک بار پھر غیر سول حکومت آ گئی۔ 1980 اور 1990کی دہائیاں سیاسی کشمکش اور حکومتوں کی قبل از وقت برطرفیوں میں گزریں، اور 1999میں ایک بار پھر اقتدار تبدیل ہوا۔ 2008کے بعد سے مسلسل جمہوری حکومتوں کا دور شروع ہوا اور 2010کی اٹھارہویں ترمیم نے وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کو ایک نئی بنیاد فراہم کی۔ یہ پوری تاریخ دراصل ہمارے نظامِ حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ ہم نے بار بار حکومتیں بدلیں، نئے نظام آزمائے اور کئی اصلاحات کیں، لیکن ایک ایسا مستقل اور قابلِ اعتماد انتظامی ڈھانچہ قائم نہ کر سکے جو سیاسی تبدیلیوں سے متاثر ہوئے بغیر مسلسل چلتا رہتا۔

اسی تاریخی پس منظر میں اگر آج کے پاکستان کا تجزیہ کیا جائے، تو گڈ گورننس کا سوال محض ایک سرکاری یا انتظامی اصطلاح نہیں رہتا، بلکہ یہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا بنیادی مسئلہ بن جاتا ہے۔ عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں بھی پاکستان کے بنیادی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں سیاسی عدم استحکام، پالیسیوں کا عدم تسلسل، اداروں کی کمزوری اور فیصلہ سازی پر مخصوص مفاداتی گروہوں کے اثرات شامل ہیں۔ جب حکومت بدلنے کے ساتھ ہی قومی پالیسیاں بدل جائیں، افسران کے بار بار تبادلے کیے جائیں اور اداروں کے دائرہ کار واضح نہ ہوں، تو سرکاری مشینری کی کارکردگی متاثر ہونا لازمی ہے۔ ایسی صورت میں مسئلہ کسی ایک حکومت یا فرد تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پورے حکمرانی کے نظام میں سرایت کر جاتا ہے۔

اس انتظامی کمزوری کا سب سے بڑا اور براہِ راست اثر عام شہری کی روزمرہ زندگی پر پڑتا ہے۔ گڈ گورننس کا اصل امتحان پارلیمنٹ کے ایوانوں یا سرکاری فائلوں میں نہیں ہوتا، بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب ایک عام شہری کسی سرکاری اسپتال پہنچتا ہے، اپنے بچے کو اسکول بھیجتا ہے، تھانے میں شکایت درج کراتا ہے، زمین کا ریکارڈ درست کراتا ہے یا پنشن اور کسی دوسرے جائز حق کے لیے سرکاری دفتر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے، اگر اسے بروقت اور عزت کے ساتھ سہولت مل جائے تو ریاست پر اس کا اعتماد بڑھتا ہے، لیکن اگر اسے ایک معمولی کام کے لیے بھی بار بار دفاتر کے چکر لگانے پڑیں، سفارش تلاش کرنی پڑے یا رشوت دینی پڑے، تو اس کے ذہن میں ریاست کا احترام ختم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدعنوانی صرف قومی خزانے کو نقصان نہیں پہنچاتی، بلکہ شہری اور ریاست کے تعلق کو بھی کھوکھلا کر دیتی ہے اور جب قانون کے بجائے اثر و رسوخ کامیابی کا ذریعہ بن جائے تو معاشرے میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں نہیں ہے۔

 اسی لیے گڈ گورننس کو صرف کرپشن کے خاتمے تک محدود رکھنا درست نہیں ہو گا۔ اچھی حکمرانی میں قانون کی پاسداری، حکومتی موثریت، شفافیت، جواب دہی، سیاسی استحکام اور عوام کی شرکت سب شامل ہیں، اگر سرکاری محکمے تو موجود ہوں لیکن ان کی خدمات موثر نہ ہوں، قوانین موجود ہوں مگر ان پر عمل یکساں نہ ہو اور بجٹ خرچ ہونے کے باوجود عوام کی حالت نہ بدلے، تو محض اداروں کے وجود کو گڈ گورننس نہیں کہا جا سکتا۔ اسی تناظر میں احتساب کا نظام بھی انتہائی اہم ہے، لیکن احتساب کا مقصد کسی فرد یا سیاسی مخالف کو نشانہ بنانا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ نظام کے نقائص کو دور کرنا ہونا چاہیے۔ پاکستان میں نیب اور ایف آئی اے جیسے ادارے موجود ہیں، لیکن دیرپا بہتری اس وقت آئے گی جب پارلیمانی نگرانی، آڈٹ، عدالتی نظام اور آزاد صحافت مل کر کام کریں۔ اصل اصول یہ ہونا چاہیے کہ احتساب شخصیت کا نہیں بلکہ فیصلے اور عمل کا ہو اور قانون کا معیار عہدے اور تعلق سے بالاتر ہو۔

یہی اصول وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کے تعلقات پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم نے صوبوں کو وسیع اختیارات دیے، لیکن اگر یہ اختیارات وفاق سے صوبوں تک پہنچ کر صوبائی دارالحکومتوں تک ہی محدود ہو جائیں، تو عام شہری تک وسائل کی منتقلی نہیں ہو پاتی۔ پینے کے پانی، صفائی، مقامی سڑکوں، بنیادی صحت اور ابتدائی تعلیم جیسے مسائل میں فیصلہ سازی شہری کے قریب ہونی چاہیے۔ اس لیے وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان ذمے داریوں کی واضح تقسیم ضروری ہے۔ وفاق قومی پالیسی اور دفاع جیسے امور سنبھالے، صوبے قانون سازی اور اپنے شعبوں کی ذمے داری قبول کریں اور مقامی حکومتوں کو اختیارات، وسائل اور جواب دہی دی جائے، کیونکہ جس سطح پر اختیار ہو اسی سطح پر کارکردگی کا حساب بھی ہونا چاہیے۔

Load Next Story