ایران امریکا جنگ کے خاتمے کی امید، خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہوگئی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتی راستہ کھلا رکھنے کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق تیل کی قیمتیں گزشتہ سیشن میں تقریباً 4 فیصد اضافے کے بعد اب نیچے آئی ہیں، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے طریقہ کار پر اب بھی نمایاں اختلافات موجود ہیں۔
برینٹ کروڈ کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 94 سینٹ یعنی 0.9 فیصد کم ہوکر 102.13 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 59 سینٹ یعنی 0.7 فیصد کمی کے بعد 91.56 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔
تیل کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کیلئے ایک اہم بحری راستہ ہے۔ کشیدگی میں اضافے کے خدشات نے گزشتہ سیشن میں قیمتوں کو تقریباً 4 فیصد اوپر پہنچایا تھا۔
تاہم ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کیلئے سفارت کاری کے امکان کو مسترد نہ کرنے کے بیان سے عالمی مارکیٹ میں کشیدگی کم ہونے کی کچھ امید پیدا ہوئی ہے۔ اس کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں اور مذاکرات کے ذریعے جنگ کے خاتمے کی کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
مارکیٹ میں سرمایہ کار اب امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ جنگ میں کمی یا سفارتی پیش رفت سے عالمی تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کم ہوسکتے ہیں، جبکہ کشیدگی میں دوبارہ اضافے کی صورت میں قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا امکان برقرار ہے۔