املی صرف کھانوں کی کھٹاس نہیں، صفائی میں بھی کام آسکتی ہے
املی کا نام سنتے ہی چٹنی، چاٹ اور کھٹی دال کا ذائقہ ذہن میں آتا ہے، لیکن یہ کھٹی پھلی باورچی خانے اور گھر کی صفائی میں بھی مختلف طریقوں سے استعمال کی جاسکتی ہے۔ اس میں موجود قدرتی تیزابیت بعض ضدی داغ اور میل کو نرم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
باورچی خانے کے سنک کی صفائی کے لیے املی کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ سنک پر تھوڑا سا نمک چھڑک کر املی سے رگڑنے کے بعد اسے اچھی طرح پانی سے دھو لیا جائے تو سطح کی میل اور جمع شدہ گندگی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
کچن کی چمنی پر وقت کے ساتھ تیل، دھواں اور چکنائی کی تہہ جم جاتی ہے۔ املی کی تیزابیت اس جمی ہوئی گندگی کو نرم کرنے میں معاون ہوسکتی ہے، جس کے بعد اسے اسکرب کرکے صاف کرنا نسبتاً آسان ہوجاتا ہے۔
چاندی کے برتن اور زیورات بھی وقت گزرنے کے ساتھ اپنی چمک کھو سکتے ہیں۔ املی کو صفائی کے ایک قدرتی طریقے کے طور پر استعمال کرنے کے لیے نمک کی معمولی مقدار کے ساتھ اسے متاثرہ سطح پر رگڑا جاسکتا ہے، تاہم قیمتی یا نازک زیورات پر کسی بھی گھریلو طریقے کو آزمانے سے پہلے چھوٹی اور غیر نمایاں جگہ پر جانچ کرنا بہتر ہے۔
اسٹیل کے برتنوں میں اگر کھانے کے ذرات یا چکنائی دیر تک رہ جائیں تو بدبو پیدا ہوسکتی ہے۔ ایسے برتن کو املی سے رگڑ کر دوبارہ اچھی طرح دھونے سے سطح پر موجود باقیات اور بدبو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم صفائی کے بعد برتن کو صاف پانی سے اچھی طرح دھونا ضروری ہے۔
تانبے اور پیتل کے برتنوں کی صفائی میں املی کا استعمال پرانا گھریلو طریقہ ہے۔ برتن پر تھوڑا سا نمک ڈال کر بھیگی ہوئی املی سے رگڑنے کے بعد اسے پانی سے دھویا جاسکتا ہے۔ یہی طریقہ ان دھاتی اشیا پر بھی آزمایا جاتا رہا ہے جن کی سطح وقت کے ساتھ ماند پڑ جائے۔
نلکوں پر زنگ یا معدنی تہیں بھی گھر کی صفائی میں پریشانی کا باعث بنتی ہیں۔ ایسی جگہ پر تھوڑا سا املی کا گودا رگڑ کر کچھ دیر کے لیے چھوڑا جاسکتا ہے، پھر اسکرب کی مدد سے سطح صاف کرکے پانی سے دھو لی جائے۔
املی میں موجود ٹارٹیرک ایسڈ بعض دھاتی سطحوں پر جمی گندگی اور زنگ جیسی تہوں کو ڈھیلا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم ہر سطح پر اس کا اثر یکساں نہیں ہوتا، اس لیے نازک، پالش شدہ یا خصوصی کوٹنگ والی اشیا پر استعمال سے پہلے احتیاط ضروری ہے۔
یوں املی کو صرف کھانوں کا ذائقہ بڑھانے والی چیز سمجھنے کے بجائے بعض گھریلو صفائی کے کاموں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، خاص طور پر وہاں جہاں اس کی قدرتی تیزابیت میل یا داغ کو نرم کرنے میں مدد دے سکتی ہو۔