حوثی پیش قدمی کے اثرات

حوثی ملیشیا کی برق رفتار پیش قدمی سعودی عرب کے لیے کئی حوالوں سے تشویش ناک ہے۔اب تک حوثی ملیشیا اپنے یمنی حریف سے لڑ رہے تھے

gfhlb169@gmail.com

اس مہینے کے دوسرے ہفتے کے شروع میں خبر آئی تھی کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بہت جلد یہ فیصلہ کرنے والے ہیں کہ آیا ایران کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ یا تو ایران کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے یا پھر ایران کو مکمل طور پر معاشی تباہ حالی سے دوچار کر دیا جائے یا پھر یہ دیکھا جائے کہ کیا ایران کے ساتھ کوئی بڑی ڈیل/کوئی بڑا معاہدہ ہو سکتا ہے۔

امریکی صدر کیمپ ڈیوڈ گئے ہوئے تھے۔مغربی ایشیا میں بگڑتی صورتحال کی وجہ سے وہ اپنے شیڈول سے ذرا پہلے کیمپ ڈیوڈ سے نکل کر وائٹ ہاؤس آ گئے اور فوکس نیوز کو ایک انٹرویو دیا۔ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ نے یورپ کے ایک مقام پر خلیجی ممالک اور اسرائیل کے فوجی کمانڈروں کے ساتھ ایک ملاقات میں جاری صورتحال کا جائزہ لیا۔شنید ہے کہ اس جائزہ اجلاس کے نتیجے میں مرتب کی گئی سفارشات صدر ٹرمپ کو فیصلہ کرنے میں مدد دیں گی۔یہی بیانیہ انھوں نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنایا۔ویسے صدر ٹرمپ بہت بڑا بول بولتے ہیں۔کسی بھی ملک کو شکست تو دی جا سکتی ہے لیکن صفحۂ ہستی سے صرف اﷲ مٹا سکتا ہے کوئی دوسرا نہیں۔

اسی عرصے میں یمن کے حوثی ملیشیا نے مغربی ایشیا میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔اب تک حوثی ملیشیا چھوٹی چھوٹی یہاں وہاں چاند ماری کر رہی تھی۔حوثی ملیشیا کو ایران کی طرف سے ہتھیاروں اور فنڈز کی فراہمی ایک لمبے عرصے سے ہوتی رہی ہے۔پھر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مابین جاری کشیدگی کی وجہ سے یہ تبدیلی آئی کہ یو اے ای بھی یمن میں اپنا تعلق بڑھانے لگا جو سعودیوں کو بہت برا لگا۔اب حوثی ملیشیا نے بہت شدید حملے کرکے پیش قدمی کرتے ہوئے یمنی ساحل کا اکثریتی علاقہ اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔جہازرانی کے لیے بہت ہی اہم مقام باب المندب کے قریب پہنچ گئے ہیں۔بظاہر یہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کا تیسرا راؤنڈ لگتا ہے۔

پہلے راؤنڈ میں امریکا،اسرائیل نے رجیم چینج سمیت جتنے اہداف مقرر کیے تھے سب کے سب فیل ہو گئے اور آبنائے ہرمز کا نیا قضیہ شروع ہو گیا۔جون 2025 میں امریکا و اسرائیل نے ایران کے خلاف 12روزہ جنگ اس اطلاع پر بند کر دی تھی کہ ایرانی آبنائے ہرمز بند کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

نہ جانے اس مرتبہ اس خدشے کو کیوں پسِ پشت ڈال کر ایران پر حملہ کرکے آبنائے ہرمز بند کروا دی اور پوری دنیا کو انرجی کرائسز میں دھکیل دیا۔امریکا نے سمندری محاصرہ کر کے اور آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو کسی حد تک صاف کرکے جہازرانی کو دوبارہ بہت حد تک ممکن بنا دیا یوں جنگ کا دوسرا راؤنڈ معمولی سا امریکا کے حق میں جانے لگا تو حوثی ملیشیا نے پیش قدمی کر کے صورتحال یکسر بدل کر رکھ دی۔

آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی پہلے ہی کم ہو گئی ہے۔سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو ایرانی حمایت یافتہ عراقی تنظیم نے میزائل مار کر بہت نقصان پہنچایا ہے۔اب باب المندب کے ذریعے تیل کی سپلائی اگر ناممکن ہو جاتی ہے تو سعودی تیل کی سپلائی بہت حد تک محدود ہو جاتی ہے۔ایران کا تیل پہلے ہی امریکی سمندری محاصرے کی وجہ سے مارکیٹ سے باہر ہے۔

سعودی عرب کا تیل بھی اگر ممالک کو سپلائی نہیں ہو سکتا تو مارکیٹ میں تیل کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔اگر ایسا ہوا تو تیل کی قیمتیں آسمان کو چھوئیں گی۔امریکا اور دوسرے امیر ممالک جہاں لوگوں کی قوتِ خرید بہت اچھی ہے شاید بہت زیادہ فرق نہ پڑے لیکن غریب اور چھوٹی معیشتوں والے ممالک اس سے بہت متاثر ہوں گے۔ان ممالک میں غربت میں اضافہ ہو سکتا ہے اور عام آدمی کی زندگی مزید مصیبتوں میں پڑ سکتی ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد جناب محمد بن سلمان نے حوثی ملیشیا کے بڑھتے حملوں کو روکنے کے لیے ایک دن میں دوبار امریکی صدر ٹرمپ کو فون کرکے مدد کی اپیل کی لیکن شنید یہ ہے کہ امریکا نے سعودی عرب اور حوثی ملیشیا کے مابین جنگ کی موجودہ لہر میں شامل ہونے سے پہلو تہی کی۔سعودی عرب والے یہ سمجھے ہوئے تھے کہ کسی بھی مشکل وقت میں امریکا ان کے لیے آگے آئے گا۔ امریکا نے حوثی ملیشیا کے ٹھکانوں پر پہلے بھی اپنے جہازوں سے بمباری کی تھی اور میزائل داغے تھے۔

ان حملوں سے حوثی ملیشیا کا کچھ نہیں بگڑا۔حوثی یمن کے ایک بڑے رقبے پر قابض ہیں۔گوریلا جنگ ان کا ہتھیارہے جس میں وہ طاق ہیں۔ویت نام میں بھی امریکا نے بہت بمباری کی تھی لیکن آخر کار امریکا کو وہاں سے بھاگنا پڑا۔امریکا اور اسرائیل نے ایران پر بھی بے پناہ بمباری کی لیکن ایران قائم و دائم ہے۔کہا جا سکتا ہے کہ صرف ہوائی بمباری سے ٹھوس مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے۔چونکہ امریکا و اسرائیل نے پہلے حوثی ملیشیا کے خلاف بمباری کر کے دیکھ لیا تھا شاید اسی وجہ سے اب کی بار صدر ٹرمپ اس جنگ میں کودنے سے اجتناب کر گئے۔

حوثی ملیشیا کی برق رفتار پیش قدمی سعودی عرب کے لیے کئی حوالوں سے تشویش ناک ہے۔اب تک حوثی ملیشیا اپنے یمنی حریف سے لڑ رہے تھے۔حوثیوں کے حریف کو البتہ سعودی عرب اتحادکی حمایت حاصل تھی جب کہ حوثیوں کو ایران کی پشت پناہی مل رہی تھی۔اب تو حوثی ملیشیا سعودی عرب کے پیچھے پڑ گیا ہے۔حوثیوں کا یمنی حریف بہت کمزور نکلا ہے ۔ حوثی ملیشیا کامیابیوں کے اوپر کامیابیاں سمیٹ رہا ہے۔ حوثی ملیشیا اگر اسی برق رفتاری سے آگے بڑھتے ہیں تو یہ سعودی ریاست کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن جائے گا۔اب حوثی ملیشیا کی برق رفتار پیش قدمی کی خبریں آنی بند ہو گئی ہیں۔ مشرقی سرحد پر انڈیا جیسا مکار اور کمینہ دشمن بیٹھا ہے۔شمال اور مغرب میں افغانستان جیسا مکار اور ناشکرا ملک ہے۔کئی دہائیوں تک پاکستان نے افغانوں کی میزبانی، اور مدد کی لیکن موقع ملتے ہی افغانستان پاکستان کو دکھ دینے کے لیے انڈیا کی گود میں جا بیٹھا۔ سعودی عرب کی مدد کرنا بہت ضروری ہے۔

سعودی عرب کو سفارتی میدان میں بہت مدد ملنی شروع ہو گئی ہے۔ایک آدھ ملک کو چھوڑ کے ساری دنیا حوثیوں کے خلاف سعودیہ کے حق میں ہے لیکن میدان پر تو حوثیوں کو برتری حاصل ہے۔شمالی یمن میں پہاڑوں کے اندر پہنچنا اتنا ہی دشوار گزار ہے جتنا افغانستان کے پہاڑوں میں پہنچنا۔ حوثی بہت نڈر اور اچھے جنگ جو ہیں اور بڑی موئثر جتھہ بندی کرتے ہیں۔لگتا ہے وہ اس وقت مکمل طور پر ایران کے قابو میں بھی نہیں ۔حوثیوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ہی علاقے میں پائیدار امن ممکن ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ کچھ ایسا ہو جائے کہ مڈ ٹرم الیکشن میں ان کی پارٹی نہ ہارے لیکن وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ جو نقصان ہونا تھا وہ ہو چکا،اب مزید نقصان نہیں ہونے والا۔جو ووٹر مہنگائی اور اہداف حاصل ہونے میں ناکامی سے ٹوٹنے تھے وہ ٹوٹ چکے اب باقی لوگ ان کے ساتھ پکے ہیں ۔اس لیے صدر ٹرمپ فی الحال ایران کے ساتھ ڈیل کرنے میں بہت پرجوش نہیں۔ایران البتہ چاہتا ہے کہ اس کی شرائط پر معاہدہ ہو جائے،وہ اسلام آباد ایم او یو کو بنیاد بنانا چاہتا ہے۔امریکا ایسا نہیں چاہتا۔بدھ 23ستمبر نیویارک میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوئے۔خدا کرے بہتر نتائج نکلیں۔ ایرانی صدر کو امریکی سیکرٹ سروس کی سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔بہر حال ایران اور سعودی عرب مل کر بہت فائدے اُٹھا سکتے ہیں اور علاقے میں امن آ سکتا ہے۔

Load Next Story