لاہور چڑیا گھر کا فش ایکویریم نایاب اور رنگ برنگی آبی حیات کی نئی اقسام سے سج گیا

پہلی بار 15 اقسام کی تقریباً 100 سمندری اور میٹھے پانی کی مچھلیاں ایکویریم کا حصہ بنائی گئی ہیں

لاہور:

لاہور چڑیا گھر کا فش ایکویریم نایاب اور رنگ برنگی آبی حیات کی نئی اقسام سے سج گیا۔

پہلی بار 15 اقسام کی تقریباً 100 سمندری اور میٹھے پانی کی مچھلیاں ایکویریم کا حصہ بنائی گئی ہیں، جہاں آنے والے شہریوں خصوصاً بچوں کی دلچسپی میں اضافہ ہوگیا ہے۔

فش ایکویریم میں داخل ہوتے ہی شیشے کے پیچھے تیرتی مختلف رنگوں اور شکلوں کی مچھلیاں توجہ اپنی جانب کھینچتی ہیں۔ بعض مچھلیاں تیزی سے پانی میں تیرتی دکھائی دیتی ہیں تو بعض مرجانی چٹانوں اور کورلز کے درمیان حرکت کرتی ہیں۔

نئی آبی حیات میں گرین برڈ وراس، مونو اینجل فش، مختلف اقسام کی ڈیمسل فش، اسکوائرل فش، ریڈ ٹوتھ ٹرگر فش اور لائر ٹیل وراس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسٹار فش، سینڈ شفٹنگ اسٹار فش اور مختلف اقسام کے کورلز بھی ایکویریم کا حصہ بنائے گئے ہیں، جس سے یہاں سمندری ماحول کی ایک جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔

لاہور چڑیا گھر آنے والی فاطمہ نے بتایا کہ وہ پہلی بار چڑیا گھر آئی ہیں اور ایکویریم میں مچھلیوں کی اتنی مختلف اقسام دیکھ کر حیران ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے اس طرح کی کئی مچھلیاں صرف ڈاکومنٹریز میں دیکھی تھیں۔

ایک اور وزیٹر عمارہ نے بتایا کہ وہ بچوں کے ساتھ آئی ہیں۔ رنگ برنگی مچھلیاں اور اسٹار فش دیکھ کر بچے بہت خوش ہوتے ہیں اور انہیں سمندری حیات کے بارے میں معلومات بھی ملتی ہیں۔

لاہور چڑیا گھر کے ویٹرنری آفیسر ڈاکٹر محمد اظہر کے مطابق چڑیا گھر میں جنگلی جانوروں اور پرندوں کے ساتھ آبی حیات کی کلیکشن میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ فش ایکویریم میں میرین فش کے ساتھ فریش واٹر فش بھی رکھی گئی ہیں اور مزید اقسام کو بھی مرحلہ وار شامل کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ایکویریم میں موجود مچھلیوں کی صحت اور پانی کے معیار کی باقاعدگی سے نگرانی کی جاتی ہے تاکہ نایاب آبی حیات کو مناسب ماحول فراہم کیا جاسکے۔

فش ایکویریم کے کیئر ٹیکر عدنان شاہ کے مطابق کھارے پانی اور میٹھے پانی کی مچھلیوں کی دیکھ بھال کے طریقے مختلف ہیں۔ سمندری مچھلیوں کے لیے پانی کی نمکیات، معیار اور صفائی کو برقرار رکھنا ضروری ہے جبکہ میٹھے پانی کی مچھلیوں کے لیے پانی کا درجہ حرارت اور معیار خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

عدنان شاہ کے مطابق گھروں میں مچھلیاں پالنے والے بعض افراد ضرورت سے زیادہ خوراک دے دیتے ہیں، جس سے پانی میں نامیاتی فضلہ اور امونیا بڑھ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پانی کا معیار خراب اور مچھلیوں کی صحت متاثر ہوسکتی ہے۔ چڑیا گھر میں مچھلیوں کی خوراک، پانی کے معیار اور آکسیجن کی فراہمی کا باقاعدہ خیال رکھا جاتا ہے۔

ان کے مطابق بعض مچھلیاں مناسب ماحول اور دیکھ بھال میں کئی سال تک زندہ رہ سکتی ہیں، اس لیے ایکویریم میں ان کی نگہداشت کے لیے مخصوص طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔

فش ایکویریم میں موجود مچھلیوں میں زیادہ تر سمندری اقسام بیرون ملک سے درآمد کی گئی ہیں جبکہ کچھ مقامی میٹھے پانی کی مچھلیاں بھی شامل ہیں۔ چڑیا گھر انتظامیہ کے مطابق بہت جلد پفرفش سمیت مزید دلچسپ اقسام کو بھی نمائش کے لیے شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ پفرفش کو عام طور پر اس کے دفاعی انداز کی وجہ سے منفرد سمجھا جاتا ہے، تاہم اسے آدم خور مچھلی کہنا درست نہیں ہے۔

لاہور چڑیا گھر کے فش ایکویریم میں نایاب آبی حیات کا یہ اضافہ صرف تفریح تک محدود نہیں بلکہ شہریوں، بالخصوص بچوں کو سمندری اور میٹھے پانی کی حیات کے بارے میں قریب سے معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ بھی بن رہا ہے۔

Load Next Story