ایران تنازع کے دوران یو اے ای پر سائبر حملوں کی یلغار، ایک دن میں 6 لاکھ 40 ہزار حملے

ان حملوں میں توانائی اور دیگر اہم قومی انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی کوششیں شامل تھیں

دبئی: ایران تنازع کے دوران متحدہ عرب امارات کو بڑے پیمانے پر سائبر حملوں کا سامنا ہے اور اماراتی حکام کے مطابق صرف ایک دن میں 6 لاکھ 40 ہزار سائبر حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ان حملوں میں توانائی اور دیگر اہم قومی انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی کوششیں شامل تھیں۔

یو اے ای کے سائبر سکیورٹی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر محمد الکویتی کے مطابق حملہ آوروں نے تیل و گیس، بجلی، پانی، سرکاری نظام اور مالیاتی شعبے کو ہدف بنایا۔ ان کے مطابق حکام نے متعدد حملوں کو بروقت شناخت کرکے ان سے نمٹنے میں کامیابی حاصل کی۔

اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ سائبر حملوں کی شدت اس سے قبل بھی بہت زیادہ رہی ہے۔ رواں سال اپریل میں حملوں کی تعداد تقریباً 8 لاکھ یومیہ تک پہنچ گئی تھی، جبکہ حالیہ حملوں کی تعداد اس بلند ترین سطح سے کم ہونے کے باوجود معمول سے کہیں زیادہ ہے۔

یو اے ای سائبر سکیورٹی کونسل نے کمپنیوں اور اداروں کو مسلسل چوکس رہنے کی ہدایت کی ہے۔ حکام کے مطابق موجودہ دور میں سائبر حملے جنگ کا ایک اہم ذریعہ بنتے جارہے ہیں اور حملہ آور بعض اوقات کسی نظام میں داخل ہونے کے بعد کئی ماہ تک خاموش رہ سکتے ہیں، پھر مناسب موقع پر کارروائی کرتے ہیں۔

حکام نے یہ بھی بتایا کہ 85 فیصد سے زیادہ سائبر خطرات صارفین کی غلط یا غیر محتاط کلک سے شروع ہوسکتے ہیں، جس کے باعث اداروں میں ملازمین کی سائبر سکیورٹی آگاہی کو انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین نے کمپنیوں کو سکیورٹی آڈٹ، باقاعدہ ٹیسٹنگ اور اہم ڈیجیٹل نظام کی مسلسل نگرانی کی بھی ہدایت کی ہے۔

یو اے ای کے سائبر سکیورٹی سربراہ نے حالیہ حملوں میں ایران کو ایک اہم کردار ادا کرنے والا فریق قرار دیا ہے، تاہم یہ الزام اماراتی حکام کا مؤقف ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مصنوعی ذہانت نے سائبر حملوں کی رفتار اور پیچیدگی میں اضافہ کیا ہے، جبکہ یو اے ای دفاعی نظام میں بھی AI ٹیکنالوجی استعمال کررہا ہے۔

Load Next Story