ٹرمپ کے ایران جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد سینیٹ میں مسترد

یہ قرارداد جولائی میں ایوانِ نمائندگان سے بھی منظور ہوچکی تھی

امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد معمولی فرق سے مسترد کردی۔ جمعرات کو ہونے والی ووٹنگ میں قرارداد کے حق میں 49 اور مخالفت میں 50 ووٹ آئے، جس کے بعد یہ اقدام ناکام ہوگیا۔

ڈیموکریٹس کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کا مقصد یہ تھا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں اس وقت تک روکی جائیں جب تک کانگریس ان کی باقاعدہ اجازت نہ دے۔ یہ قرارداد جولائی میں ایوانِ نمائندگان سے بھی منظور ہوچکی تھی، تاہم سینیٹ کی تازہ ووٹنگ میں اسے مطلوبہ حمایت حاصل نہ ہوسکی۔

ووٹنگ بڑی حد تک پارٹی بنیادوں پر ہوئی۔ زیادہ تر ریپبلکن سینیٹرز نے قرارداد کی مخالفت کی، جبکہ تقریباً تمام ڈیموکریٹس نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ چار ریپبلکن سینیٹرز، سوزن کولنز، لیزا مرکوسکی، رینڈ پال اور تھام ٹِلِس نے قرارداد کی حمایت کی، جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمن نے اس کی مخالفت کی۔ سینیٹر اینجلا السو بروکس نے ووٹ نہیں دیا۔

قرارداد کی حمایت کرنے والے قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے بارے میں فیصلہ سازی میں کانگریس کا کردار ہونا چاہیے، جبکہ ریپبلکن ارکان کا کہنا ہے کہ صدر کو بطور کمانڈر اِن چیف فوجی کارروائیوں کے حوالے سے اختیارات حاصل ہیں۔

تازہ ووٹنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کئی ماہ سے جاری ہے اور واشنگٹن میں صدر کے جنگی اختیارات اور کانگریس کے آئینی کردار پر بحث جاری ہے۔ اس قرارداد کی ناکامی کا مطلب ہے کہ سینیٹ نے فی الحال ٹرمپ کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو کانگریسی منظوری سے مشروط کرنے کی کوشش کو آگے نہیں بڑھایا۔

Load Next Story