منی پور نسلی فسادات کے باعث ریلیف کیمپس میں رہنے والے متاثرین کی مشکلات کم نہ ہوسکیں
گزشتہ سال سے اب تک منی پور میں سیکڑوں بے گناہوں کی جانیں گئی ہیں (فوٹو: فائل)
منی پورکے سرکاری ریلیف کیمپس متاثرین کے لیے پناہ گاہ کے بجائے مشکلات کی نئی تصویر بن گئے.
بھارتی جریدہ دکن ہیرالڈ کےمطابق زمینی رپورٹس نے منی پورکےریلیف کیمپس میں غذائی قلت، پینے کے پانی کی کمی اورطبی سہولیات کے فقدان کو بے نقاب کردیا.
منی پورتصادم میں بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد عارضی پناہ گاہوں میں گنجائش سے زیادہ تعداد میں مقیم ہیں، منی پورمیں حکومت کیجانب سےاقدامات نہ ہونے کے باعث تقریباً 24 ہزار افراد بنیادی سہولیات سے محروم ہیں.