چین کا ٹیکنالوجیکل پاور بننے کا عزم
پاکستان بھی اگر چین کے طریقہ کار پر عمل کرے تو وہ ترقی کی شاہراہ پر تیزی سے سفر کر سکتا ہے
چین نے ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی برق رفتاری سے ترقی کی۔ اب وہ ٹیکنالوجی میں نئی اختراعات پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
عوامی جمہوریہ چین دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے۔
جنہوں نے پسماندگی سے ترقی تک کا سفر حیرت انگیز تیز رفتاری سے طے کیا۔ اس وقت چین دنیا کی چند بڑی اقتصادی طاقتوں میں سے ایک ہے۔
چین نے ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی برق رفتاری سے ترقی کی۔ اب وہ ٹیکنالوجی میں نئی اختراعات پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔
چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی اور اسٹیٹ کونسل (کابینہ) کی مرتب کردہ تازہ ترین دستاویز کے مطابق حکومت نے قومی انوویشن سسٹم (National Invention System) پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔
اس پالیسی کا بنیادی مقصد 2020 تک چین کو انوویٹیو(Innovative) قوم کے درجے تک پہنچانا ہے ۔ عوامی جمہوریہ چین 2049میں اپنی آزادی کی سو سالہ سالگرہ منائے گا۔
چینی حکومت نے اس نے اس موقع پر مکمل ٹیکنالوجیکل پاور کا درجہ حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے ۔ چین کی حکومت نے 2010 تا 2015 تک پانچ سالہ منصوبہ تیار کیا ہے۔
اس پانچ سالہ منصوبے کے تحت ریسرچ اور ڈیوپلمنٹ سیکٹر کی ترقی کو کل جی ڈی پی کے 2.2فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر ہے۔ چین کی حکومت نے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ آیندہ 30سال میںٹیکنالوجی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن جائے گا۔
چینی حکومت کی طرف سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق چین سائنس اور انوویشن کے سیکٹرز پر بھرپور توجہ دے کر 2049میں دنیا کی بڑی ٹیکنالوجیکل قوت بننے کا خواہاں ہے ۔
چین کی ترقی کا راز گڈگورننس میں پوشیدہ ہے۔ چینی قیادت نے معیشت کو مادر پدر آزاد نہیں کیا بلکہ وہ منصوبہ بند معاشی نظام کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔ پانچ سالہ منصوبے اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
پاکستان میں بھی پانچ سالہ منصوبے بننے شروع ہوئے تھے لیکن آہستہ آہستہ انھیں ختم کر دیا گیا۔ چین پاکستان کا گہرا دوست ہے۔ پاکستانی قیادت کو چینی قیادت کی لگن سے سبق سیکھنا چاہیے۔
پاکستان بھی اگر چین کے طریقہ کار پر عمل کرے تو وہ ترقی کی شاہراہ پر تیزی سے سفر کر سکتا ہے۔ معاشی نظام کو جب تک منصوبہ بندی سے نہیں چلایا جائے گا اس وقت تک پاکستان معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کر سکتا۔
عوامی جمہوریہ چین دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے۔
جنہوں نے پسماندگی سے ترقی تک کا سفر حیرت انگیز تیز رفتاری سے طے کیا۔ اس وقت چین دنیا کی چند بڑی اقتصادی طاقتوں میں سے ایک ہے۔
چین نے ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی برق رفتاری سے ترقی کی۔ اب وہ ٹیکنالوجی میں نئی اختراعات پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔
چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی اور اسٹیٹ کونسل (کابینہ) کی مرتب کردہ تازہ ترین دستاویز کے مطابق حکومت نے قومی انوویشن سسٹم (National Invention System) پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔
اس پالیسی کا بنیادی مقصد 2020 تک چین کو انوویٹیو(Innovative) قوم کے درجے تک پہنچانا ہے ۔ عوامی جمہوریہ چین 2049میں اپنی آزادی کی سو سالہ سالگرہ منائے گا۔
چینی حکومت نے اس نے اس موقع پر مکمل ٹیکنالوجیکل پاور کا درجہ حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے ۔ چین کی حکومت نے 2010 تا 2015 تک پانچ سالہ منصوبہ تیار کیا ہے۔
اس پانچ سالہ منصوبے کے تحت ریسرچ اور ڈیوپلمنٹ سیکٹر کی ترقی کو کل جی ڈی پی کے 2.2فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر ہے۔ چین کی حکومت نے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ آیندہ 30سال میںٹیکنالوجی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن جائے گا۔
چینی حکومت کی طرف سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق چین سائنس اور انوویشن کے سیکٹرز پر بھرپور توجہ دے کر 2049میں دنیا کی بڑی ٹیکنالوجیکل قوت بننے کا خواہاں ہے ۔
چین کی ترقی کا راز گڈگورننس میں پوشیدہ ہے۔ چینی قیادت نے معیشت کو مادر پدر آزاد نہیں کیا بلکہ وہ منصوبہ بند معاشی نظام کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔ پانچ سالہ منصوبے اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
پاکستان میں بھی پانچ سالہ منصوبے بننے شروع ہوئے تھے لیکن آہستہ آہستہ انھیں ختم کر دیا گیا۔ چین پاکستان کا گہرا دوست ہے۔ پاکستانی قیادت کو چینی قیادت کی لگن سے سبق سیکھنا چاہیے۔
پاکستان بھی اگر چین کے طریقہ کار پر عمل کرے تو وہ ترقی کی شاہراہ پر تیزی سے سفر کر سکتا ہے۔ معاشی نظام کو جب تک منصوبہ بندی سے نہیں چلایا جائے گا اس وقت تک پاکستان معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کر سکتا۔