جامعہ کراچی: ملازمین کے لیے ہاؤس سیلنگ کی سمری اعتراضات لگا کر واپس
حکومت سندھ نے جامعہ کراچی کے ملازمین (تدریسی و غیر تدریسی) کے لیے ہاؤس سیلنگ کی ادائیگی سے متعلق سمری اعتراضات لگا کر واپس کردی ہے اور اطلاعات ہیں کہ اس حوالے سے کسی بھی قسم کے فنڈ کے اجراء کو موجودہ معاشی صورتحال میں ناممکن قرار دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں حکومت سندھ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جامعہ کراچی بھی دیگر یونیورسٹیز کی طرز پر ہاؤس سیلنگ اگر اپنے مالی وسائل سے ادا کرے تو اس پر حکومت سندھ کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
ادھر معلوم ہوا ہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے خصوصی فنڈز سے متعلق مذکورہ اعتراضات کے بعد جامعہ کراچی کی انتظامیہ فی الحال ایک ماہ کی ہاؤس سیلنگ رواں ماہ کی تنخواہ کے ساتھ جاری کرنے پر غور کررہی ہے جس سے ملازمین اپنی ممکنہ وقتی آسودہ حالی پر خوش نظر آرہے ہیں۔
ہاؤس سیلنگ کی مد میں مجموعی طور پر چار کروڑ سے زائد کی رقم ملازمین کی تنخواہوں کے ساتھ شامل کی جا سکتی ہے۔ تاہم، کوئی مخصوص فنڈ نہ ہونے کی صورت میں مذکورہ رقم سندھ ایچ ای سی کی جانب سے حکومت سندھ کی ملنے والی سالانہ غیر ترقیاتی گرانٹ، فیڈرل ایچ ای سی کی غیر ترقیاتی گرانٹ اور سندھ ایچ ای سی کی گرانٹ سے قائم انڈوومنٹ فنڈ میں سے کسی ایک گرانٹ/فنڈ سے دیے جانے پر غور کیا جارہا ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اسپیشل گرانٹ کے عدم اجراء کی صورت میں یہ سلسلہ کتنے ماہ تک جاری رہ سکے گا۔
واضح رہے کہ انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے سالانہ انتخابات ماہ نومبر میں ہونے ہیں۔ ایکسپریس نے اس سلسلے میں جامعہ کراچی کے قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل احمد سے بھی رابطے کی کوشش کی تاہم وہ رابطے سے گریز کرتے رہے۔
ادھر حکومت سندھ کے ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ نے محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کی جانب سے ہاؤس سیلنگ کے اجراء سے متعلق بھجوائی گئی سمری پر اعتراضات کا پیرا لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہاؤس سیلنگ سے متعلق وفاقی حکومت کی پالیسی کو حکومت سندھ نے اڈاپٹ نہیں کیا ہے جن جامعات نے اپنے ملازمین کو ہاؤس سیلنگ جاری کی ہے وہاں انتظامیہ کی جانب سے اون ریسورسز استعمال کی گئی ہیں۔ لہٰذا اگر جامعہ کراچی اس حوالے سے اپنے دستیاب فنڈز سے یہ ادائیگی کرنا چاہے تو سندھ حکومت کو اعتراض نہیں ہے۔
دوسری جانب سمری پر مذکورہ اعتراضات کے بعد اطلاع ہے کہ قائم مقام وائس چانسلر کی جانب سے سمری پر اعتراضات کے ضمن میں جواب تحریر کیا جارہا ہے۔
یاد رہے کہ ہاؤس سیلنگ کے عدم اجراء پر انجمن اساتذہ جامعہ کراچی نے رواں برس مئی کے پہلے ہفتے سے تقریبا 40 روزہ ہڑتال کی تھی جس میں بعد ازاں غیر تدریسی ملازمین بھی شامل ہوگئے تھے۔ اس وقت کے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کی انتظامیہ کا یہ موقف تھا کہ جامعہ کراچی کے پاس اپنے مالی ذرائع اتنے نہیں ہیں کہ ہاؤس سیلنگ کا اجراء کیا جائے جبکہ وہ اساتذہ کو ہڑتال ختم کرنے پر قائل نہیں کرسکے تھے کیونکہ اساتذہ و وائس چانسلر میں فاصلے بڑھ گئے تھے جس کے بعد اس معاملے پر مذاکرات سندھ ایچ ای سی میں چیئرمین ڈاکٹر طارق رفیع، سربراہ چارٹر انسپیکشن کمیٹی ڈاکٹر سروش لودھی ، سیکریٹری نعمان احسن اور سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈ عباس بلوچ اور ڈاکٹر خالد عراقی کی موجودگی میں ہوئے تھے جبکہ جامعہ کراچی کی تینوں ایسوسی ایشنز کے نمائندے بھی موجود تھے جس میں مذکورہ سمری حکومت سندھ کو بھجوائے جانے کا فیصلہ ہوا تھا۔