پشاور سیکرٹریٹ میں تھریٹ الرٹ کے بعد اہم سرکاری دفاتر خالی کرا دیے گئے
فوٹو: فائل
پشاور میں ممکنہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر سول سیکریٹریٹ کے تمام ملازمین کو سیکریٹریٹ خالی کرنے کا حکم دے دیا گیا، اس سے قبل سول سیکریٹریٹ میں باہر سے آنے والے افراد کا داخلہ بند کیا گیا اور جمعے کی نماز کے لیے سیکریٹریٹ کی مسجد بھی بند کرکے وہاں موجود افراد کو باہر جانے کی ہدایت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی جانب سے جاری تھریٹ الرٹ کے بعد سول سیکریٹریٹ میں سیکیورٹی سخت کی گئی ہے اور مرحلہ وار مختلف حصوں کو خالی کرایا گیا، سول سیکریٹریٹ میں صوبائی حکومت کے تقریباً 28 محکموں کے سیکریٹریز اور دفاتر قائم ہیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ چیف سیکریٹری آفس بدستور کھلا رہا جبکہ محکمہ انسانی وسائل اور انتظامیہ سمیت بعض ضروری دفاتر میں محدود عملہ موجود رہا جبکہ سیکیورٹی خدشات کے باعث سرکاری گاڑیوں کو بھی سیکرٹریٹ سے باہر نکالنے کی ہدایت کی گئی۔
اسی طرح سول سیکریٹریٹ کے ساتھ ورسک روڈ پر واقع پرانے فاٹا سیکریٹریٹ کو بھی خالی کرا لیا گیا اور شامی روڈ پر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈائریکٹوریٹ بھی بند کردیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ محکمہ صحت، اطلاعات اور دیگر بعض سرکاری دفاتر کو بھی سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر خالی کرایا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ممکنہ خودکش حملے کے خدشے کے پیش نظر اہم سرکاری عمارتوں کے اطراف سیکیورٹی اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں اور صورت حال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی خالی سیکریٹریٹ پہنچ گئے جہاں انہوں نے چیف سیکریٹری سید شہاب علی شاہ کے ساتھ سیکریٹریٹ کی مسجد میں نماز جمعہ ادا کی بعد ازاں پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ملازمین کو یقین دلاتا ہوں کہ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔