کلاؤڈ اے آئی نے انسانی جسم میں ممکنہ طور پر نیا انزائم سسٹم دریافت کرلیا

کمپنی نے اس دریافت کو جینیاتی تحقیق کے لیے انقلابی ٹیکنالوجی CRISPR سے مشابہ قرار دیا ہے

مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے اے آئی سسٹم کلاؤڈ نے انسانی جسم میں ڈی این اے کے اندر ایک ایسا انزائم سسٹم دریافت کیا ہے جو پہلے نامعلوم تھا۔ اس کو کمپنی نے جینیاتی تحقیق کے لیے انقلابی ٹیکنالوجی CRISPR سے مشابہ قرار دیا ہے۔

اینتھروپک کے مطابق یہ دریافت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس نظام کے حقیقی افعال اور ممکنہ طبی یا حیاتیاتی استعمال کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

کمپنی نے واضح کیا ہے کہ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ نیا دریافت شدہ نظام CRISPR کی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

CRISPR جینیاتی تحقیق اور ڈی این اے میں تبدیلی کے لیے استعمال ہونے والی ایک اہم ٹیکنالوجی ہے جس کی دریافت اور ترقی پر 2020 میں کیمسٹری کا نوبیل انعام دیا گیا تھا۔

اس اعلان کے ساتھ اینتھروپک نے پہلی مرتبہ اپنے کیلیفورنیا میں قائم حیاتیاتی تحقیقاتی لیب کے بارے میں بھی عوامی سطح پر بتایا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس لیب میں کلاؤڈ کے ذریعے حیاتیاتی تحقیق سے متعلق مفروضے تیار کیے جاتے ہیں جنہیں بعد ازاں حقیقی تجربات کے ذریعے جانچا جاتا ہے۔

اینتھروپک کے مطابق یہ طریقہ مصنوعی ذہانت کو حیاتیاتی تحقیق کے عملی عمل سے جوڑتا ہے لیکن نئے انزائم سسٹم کی اہمیت اور اس کے ممکنہ استعمال کے بارے میں حتمی نتائج تک پہنچنے کے لیے مزید تجربات درکار ہوں گے۔

Load Next Story