12 سال کی عمر میں اپنا اسمارٹ فون رکھنا بچوں کے لیے کتنا خطرناک ہے؟
ایک نئی تحقیق کے مطابق جن بچوں کے پاس 12 سال کی عمر میں اپنا اسمارٹ فون ہوتا ہے، ان میں اپنے ہم عمر ان بچوں کے مقابلے میں کھانے سے متعلق خرابیوں کی علامات ظاہر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جن کے پاس اس عمر میں اپنا فون نہیں ہوتا۔
طبی جریدے جاما نیٹورک اوپن میں جمعہ کو شائع ہونے والی اس تحقیق میں امریکا بھر سے تقریباً نو ہزار کم عمر افراد کے وسیع سروے کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر جیسن ناگاٹا کے مطابق اسمارٹ فون ظاہری شکل و صورت پر مرکوز مواد کی ایک پوری دنیا بچے کی جیب میں پہنچا سکتا ہے، جہاں اسے ایسی تصاویر اور پیغامات کا سامنا ہوسکتا ہے جو کھانے کے غیر صحت مند رویوں کو فروغ دیں۔
انہوں نے والدین کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ بچے کو اسمارٹ فون دینا محض ایک ڈیوائس اس کے ہاتھ میں تھمانا نہیں بلکہ اس کے ذریعے بچے کی ڈیجیٹل دنیا میں مختلف قسم کے مواد اور تجربات تک رسائی بھی بدل جاتی ہے۔
ڈاکٹر ناگاٹا کے مطابق سوال صرف یہ نہیں کہ بچے کو اسمارٹ فون دیا جائے یا نہیں بلکہ یہ بھی اہم ہوسکتا ہے کہ اسے فون کس عمر میں دیا جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق اسکرین اور سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنے کا تعلق بچوں میں متعدد منفی نتائج سے بھی دیکھا گیا ہے جن میں ڈپریشن، خود اعتمادی میں کمی، اور منشیات و الکوحل آزمانے کا رجحان شامل ہیں۔
ڈاکٹر ناگاٹا کی تحقیقی ٹیم کی سابقہ تحقیق میں اسکرین ٹائم اور ضرورت سے زیادہ کھانا کھانے کے درمیان بھی تعلق سامنے آچکا ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو میں شعبہ اطفال کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ناگاٹا کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے ہونے والی بیشتر تحقیقات میں اس بات پر توجہ دی گئی کہ بچے اپنے فون یا دیگر ڈیوائسز پر کتنا وقت گزارتے ہیں۔
نئی تحقیق میں انہوں نے توجہ کا مرکز بدلتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی کہ بچے کس عمر میں اسمارٹ فون استعمال کرنا شروع کرتے ہیں اور کم عمری میں اسمارٹ فون تک رسائی مستقبل میں کھانے سے متعلق غیر صحت مند رویوں کی نشوونما سے کس طرح منسلک ہوسکتی ہے۔
البتہ، محققین کے نتائج اسمارٹ فون کے استعمال اور ایٹنگ ڈس آرڈر کی علامات کے درمیان تعلق ظاہر کرتے ہیں، یہ لازماً ثابت نہیں کرتے کہ اسمارٹ فون خود ان علامات کا براہِ راست سبب بنتا ہے۔