پٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل
پاکستان کی معیشت کی ایک عجیب تصویر ہمارے سامنے ہے۔ ہم بیرون ملک سے اربوں ڈالر کا پٹرولیم خام تیل اور دوسری توانائی درآمد کرتے ہیں۔ پھر اس کا بوجھ روپے میں تبدیل کرکے اپنے ہی شہریوں کے کندھوں پر رکھ دیتے ہیں۔ بات یہیں تک رہتی تو کچھ بات نہ تھی لیکن یہاں تو لیوی اور دیگر ٹیکس بھی عائد کرکے پٹرول مہنگا سے مہنگا کیا جا رہا ہے جبکہ دیگر ملکوں میں صورتحال برعکس ہے۔
تازہ ترین تجارتی اعداد و شمار کے مطابق جولائی اور اگست 2026 میں پاکستان کی پٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل 2.75 ارب ڈالر رہا جبکہ اس کے بالمقابل گزشتہ سال کے انھی دو ماہ کا بل تقریباً 2.53 ارب ڈالر تھا۔ اس طرح 8.35 فی صد کا اضافہ نوٹ کیا گیا۔ یہ صرف پونے تین ارب ڈالر کی کہانی نہیں ہے بلکہ اس بات کی کہانی ہے کہ پاکستان کی معیشت، توانائی کے مقابلے میں بڑی بیرونی ضرورت کی اسیر ہے۔ جب قیمت بڑھتی ہے ،اس کا براہ راست اثر غریب پر پڑتا ہے۔ حکومت پٹرولیم کی قیمت پر دوسرے ٹیکس لاد کر قیمت مقرر کرتی ہے اور سمجھتی ہے کہ اس نے صرف پٹرول، ڈیزل وغیرہ کی قیمت کا تعین کیا ہے،وہ شاید معیشت کے اس زنجیری نظام کو بھول جاتے ہیں جس میں پٹرول ہر چیز کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔
سبزی منڈی تک سبزی کیسے پہنچے گی؟ ظاہر ہے ٹرک سے۔ اور ٹرک کیسے چلے گا، ڈیزل سے۔ فیکٹری کا خام مال کیسے آئے گا؟ ٹرانسپورٹ سے، دکان کا سامان کیسے پہنچے گا؟ سوزوکی میں لاد کر، وہاں بھی پٹرول اور ڈیزل صرف ہوگا۔ مزدور سودا گھر کیسے لے کر آئے گا؟ موٹرسائیکل پر، رکشہ پر… یہاں بھی پٹرول کا خرچہ موجود ہے اور جب یہ خرچہ بڑھتا چلا جائے گا تو گھر کے خرچے کی گاڑی کیسے چلے گی۔ چنانچہ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو صرف پٹرول مہنگا نہیں ہوتا بلکہ معیشت کے پہیے کا ہر دانت مہنگا ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایندھن کی قیمت میں اضافہ عام آدمی کی زندگی میں کئی گنا اخراجات بڑھا دیتا ہے۔
حکومت نے گزشتہ دنوں موٹرسائیکل والوں کے ریلیف کے لیے کچھ اقدامات کیے تھے لیکن عمومی طور پر موٹرسائیکل والے کو ان سہولیات سے استفادے کی صورت عام نہیں ہے۔ غریب کی معیشت کا المیہ یہ ہے کہ اس کے بجٹ میں اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ وہ ہر روز تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر برداشت کرلے۔ میرپور خاص کے ایک شخص جس کے دو بچے ہیں اس نے بتایا کہ جب سے پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہونا شروع ہوا ہے وہ بے روزگار ہو کر رہ گیا ہے، کیونکہ پہلے وہ سپلائی کا کام کرتا تھا، مختلف اشیا کی سپلائی کرکے اپنی روزی کماتا تھا، وہ پھیری لگا کر دکانداروں کو انڈے بھی فروخت کرتا تھا اور کچھ نہ کچھ رقم بچا لیتا تھا۔ اب اتنی رقم نہیں بچتی کہ اپنی روزی کما لے، لہٰذا اس نے موٹر سائیکل پر سپلائی کا کام چھوڑ دیا ہے، اب 3 ماہ سے کوشش کر رہا ہے کہ کہیں کام مل جائے اور وہ بھی ایسی جگہ پر جہاں وہ پیدل 15 منٹ یا آدھے گھنٹے میں پہنچ سکتا ہو۔ جس شہر کے کارخانے بند ہو رہے ہوں اور وہاں بھی مسئلہ توانائی کا ہی ہے تو روزگار کہاں مل سکتا ہے۔
پاکستان واحد ملک ہو سکتا ہے جہاں پٹرول پر اتنے زیادہ ٹیکس لگا کر اسے مہنگا کرکے شہریوں کو فروخت کیا جا رہا ہے۔حکومت کے سامنے جو سوال سب سے اہم ہونا چاہیے کابینہ حکام، پٹرول کی قیمت کا تعین کرنے والے ذمے داروں کے ساتھ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہر تیل کے عالمی بحران کے نتیجے میں سارا بوجھ پاکستانی شہریوں کو برداشت کرنا پڑے گا؟ یہاں پر پہلے ایسے مواقعے آتے رہے جب عالمی قیمت میں جیسے ہی اضافہ ہوتا تھا ،اس بات کا اتنا چرچا کیا جاتا کہ قیمت بڑھانے کا جواز بھی پیدا کر لیا جاتا تھا اور جب قیمت میں خاطر خواہ کمی ہوتی تو کوئی چرچا نہیں ہوتا بلکہ چپ سادھ لی جاتی ہے اور اگر قیمت میں کمی کی بھی تو 2 یا 3 روپے کی کمی کرکے احسانات گنوا دیے جاتے۔ پاکستان کی ہر حکومت کا یہ دستور رہا ہے ۔ یہ قیمت میں اضافہ تو 20 یا 30 روپے کردیا جاتا ہے اور کمی 2 یا 3 روپے کی، کی جاتی ہے۔
اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ریاست پٹرول کو محصولات اکٹھا کرنے کا اہم ذریعہ سمجھتی ہے، اگر اسے معاشی زندگی کا بنیادی ایندھن سمجھ لیں تو قیمتوں کی سطح کو کم رکھنے کی صورت میں معیشت کے تمام پہیے بدستور چلتے رہیں گے۔ نہ ہی اس بات کو اہمیت دی جا رہی ہے ،نہ اس کو ترجیح دی جا رہی ہے کہ ایسے پیمانے وضع کیے جائیں جن میں ان تمام باتوں کا خیال رکھا جائے کہ معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔ کیا سمجھنے کے لیے اتنا کافی نہیں ہے ، پہلے ہی اس ملک میں کارخانے بند ہو رہے ہیں، صنعتی بحالی کا کام مشکل ترین ہو کر رہ گیا ہے۔
لہٰذا ایسی منصوبہ بندی کی جائے اور پٹرول کی قیمت میں اضافہ کرنا بھی ہو تو اس طرح سے کیا جائے کہ مہنگائی کا گراف تیزی سے اوپر نہ جائے، ابھی چند ماہ قبل کی بات ہے جب پٹرول کی قیمت میں 138 روپے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا تھا۔ جس سے بہت سے لوگوں کے کاروبار پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے، لہٰذا موجودہ خراب ترین معاشی صورت حال میں پٹرول مصنوعات کی قیمتوں کا تعین انتہائی حساس ترین معاشی معاملہ بن کر رہ گیا ہے جس کو کسی حال میں بھی عام معمول کی کارروائی نہیں سمجھنا چاہیے۔
اس کے ساتھ ہی پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے کفایت شعاری مہم میں سرکاری گاڑیوں میں بے دریغ استعمال ہونے والے ایندھن میں کمی لانے کی ہر صورت میں کوشش کرنا ہوگی۔ جب کہیں جا کر پٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں کمی لائی جا سکتی ہے، ورنہ صرف پٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل ہی کل درآمدات کا 40 سے 45 فی صد تک جا سکتا ہے۔