ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت اور کراچی
ایک اخبار میں 50 سال پرانی خبر ، 16 ستمبر 1976ء کی اشاعت چونکا دینے والی ہے۔ اس خبر کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے کراچی کے ٹریفک کے مسائل کے حل کے لیے کے ڈی اے میں Rapid Transic Cell (RTC) بنایا تھا۔ اس سیل کو Antigrated Rapid Transit System (ARTS) کی تعمیر کے لیے ایک فزیبلٹی رپورٹ تیار کرنی تھی۔ اس رپورٹ میں تحریر کیا گیا تھا کہ ARTS ٹیپ، سرکلرریلوے، الیکٹرک ٹرام اور الیکٹرک ٹرالر بسوں پر مشتمل ہوگا۔
اس منصوبے پر 1300 ملین روپے کی لاگت آنی تھی اور ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ 5سال میں مکمل ہوگا۔ اس منصوبے کے تحت میری ویدر ٹاور سے براستہ صدر لیاقت آباد، ڈاکخانہ تک ٹیوب تعمیر ہونی تھی۔ منصوبہ یہ تھا کہ یہ ٹیوب 5میل طویل ہوگی اور اس ٹیوب کو فیڈرل بی ایریا سے گزرنے والی 11 میل طویل الیکٹرک ٹرام وے سسٹم سے منسلک کیا جائے گا۔ یہ ٹرام وے نارتھ ناظم آباد اور نارتھ کراچی تک تعمیر ہونی تھی۔
اس کے ساتھ ہی 150 ملین روپے کی لاگت سے سرکلر ریلوے کے نظام میں توسیع ہونی تھی۔ اس جدید نظام اور ٹرام وے ٹرالر بسوں یا عام بسوں سے منسلک کیا جانا تھا۔ اس پورے منصوبے میں 30 فیصد زرِ مبادلہ خرچ ہونا تھا، مگر پھر 5 جولائی، 1977ء کو جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم کا عدالتی قتل کیا گیا اور یہ منصوبہ کہیں کاغذوں میں کھوگیا۔
جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں کراچی کی ترقی کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔ کراچی کے شہری منی بسوں میں مرغا بن کر سفر کرنے پر مجبور ہوئے۔ ٹرانسپورٹ مافیا کی جڑیں اتنی گہری ہوگئیں کہ پولیس اور بیوروکریسی اس مافیا کے سامنے سرنگوں ہوگئی، شہر میں ٹریفک کے حادثات بڑھتے چلے گئے۔ جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں سرکلر ریلوے کا معیار گرنے لگا۔
جنرل ایوب خان کے دورِ اقتدار میں سرکلر ریلوے تعمیر کی گئی تھی۔ سرکلر ریلوے سے روزانہ لاکھوں افراد سفر کرتے تھے۔ لانڈھی، ملیر اور ڈرگ کالونی سے کراچی سٹی اسٹیشن کا سفر 20 سے 30 منٹ میں مکمل ہوتا تھا۔ اسی طرح سٹی اسٹیشن سے سائٹ، ناظم آباد، گلشن اقبال سے ملیر لانڈھی جانے کے لیے سرکلر ریلوے ایک سستا اور محفوظ ذریعہ سفر تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں کراچی میں مختلف نوعیت کے فسادات ہوئے۔ 80ء کے آغاز پر پہلا تضاد فرقہ وارانہ نوعیت کا تھا۔
اس تضاد کو ہوا دینے میں اس وقت کے بااثر سیاسی افراد کی خصوصی دلچسپی تھی۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا مسئلہ اتنی شدت اختیار کرگیا کہ 1987ء میں ناظم آباد کے علاقے میں قائم سرسید گرلز کالج کی دو طالبات کو ایک تیز رفتار منی بس نے کچل دیا جس کے بعد پورے شہر میں آگ لگادی گئی۔ ٹرانسپورٹ مافیا کے خلاف احتجاج لسانی تضاد میں تبدیل ہوا۔ ایک پورا عشرہ کراچی مختلف نوعیت کے فسادات، مذہبی، لسانی اور سیاسی بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ اور بوری بند لاشوں کا شہر بن گیا۔
1988ء میں بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی دوسری حکومت قائم ہوئی تو پیپلز پارٹی کی حکومت نے ماس ٹرانزٹ منصوبہ میں فزیبلٹی پر کچھ کام کیا مگر یہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری نہ کرسکی۔ پیپلز پارٹی کی تیسری حکومت قائم ہوئی تو وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے بائیں بازو کے معروف کارکن فہیم الزماں خان کو ایڈمنسٹریٹر بلدیہ کراچی کے عہدے پر مقرر کیا۔
معروف کمیونسٹ استاد اور انجینئر پروفیسر محمد نعمان فہیم الزماں کے مشیر بنائے گئے۔ فہیم الزماں کے دور میں کراچی ماس ٹرانزٹ منصوبہ کا سنگِ بنیاد رکھا گیا،مگر فہیم الزماں کی حریت پسندی کی بناء پر ایک دن انھیں رخصت کردیا گیا۔ پروفیسر نعمان نے پھر این ای ڈی یونیورسٹی میں تدریس شروع کردی اور یہ منصوبہ پھر کہیں کھوگیا۔
جب سابق صدر پرویز مشرف نے نچلی سطح تک اختیارات کا بلدیاتی نظام قائم کیا تو جماعت اسلامی کے نعمت اﷲ خان ایڈووکیٹ کراچی کے پہلے منتخب ناظم ہوئے۔ نعمت اﷲ خان کے دورِ نظامت میں شہر کی ترقی کی ابتدائی منصوبہ بندی ہوئی۔ سڑکوں کی تعمیر ، اوورہیڈ برج اور انڈر پاس کے کئی منصوبے بنے۔ بلدیہ کے اسپتالوں کے حالات بہتر ہوئی مگر ماس ٹرانزٹ پروگرام پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ نعمت اﷲ خان کی کوششوں سے اس دور میں مختلف نوعیت کی بسیں سڑکوں پر دوڑنے لگیں۔ ان بسوں میں ایئرکنڈیشنڈ آٹومیٹک آلات اور پبلک براڈ کاسٹنگ والی بسیں شامل تھیں۔
شہر کے مختلف علاقوں میں ایسی بسیں چلنے لگیں جن میں مسافر سیٹوں پر بیٹھ کر سفر کرتے تھے۔ یہ وزیر اعظم شوکت عزیز کا دور تھا۔ ان کے دور میں کمرشل بینکوں نے جدید بسوں کی خریداری کے لیے اربوں روپے کے قرضے دیئے مگر نعمت اﷲ خان کے عہدے کی معیاد ختم ہونے کے ساتھ ہی یہ بسیں سڑکوں سے غائب ہونے لگیں۔ اخبارات کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ بسیں دوسرے علاقوں میں منتقل ہوگئیں اور بیشتر بسوں کے مالکان نے بینکوں کی قسطیں ادا نہیں کیں۔ بینک والوں نے ان بسوں کو گوداموں میں بھر دیا۔
ایم کیو ایم کے مرد آہن مصطفی کمال کے سر پر ناظم کراچی کے عہدے کا تاج آیا ۔ مصطفی کمال نے پورے شہر میں جدید سڑکیں، اوورہیڈ برج اور انڈر پاس تعمیر کیے۔ اب سپر ہائی وے سے کلفٹن و ڈیفنس تک کار سواروں کا سفر آسان ہوا۔ ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد اور گلستان جوہر کی سڑکوں کو دیکھ کر کراچی کا موازنہ دنیا کے جدید شہروں سے ہونے لگا مگر مصطفی کمال کے دورِ نظامت میں ماس ٹرانزٹ منصوبہ پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔1987ء سے 2010ء تک ہونے والے ہنگاموں، بسوں میں لوٹ مار اور اغواء برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتوں سے پبلک ٹرانسپورٹ کا شعبہ شدید متاثر ہوا۔
اب 80ء کی دہائی میں ٹرانسپورٹ مافیا ختم ہوچکی تھی اور کوئی شخص پبلک ٹرانسپورٹ میں سرمایہ کاری پر تیار نہیں تھا۔ کراچی کی ایک سوغات W11 منی بس تھی۔ اس کا روٹ نئی کراچی سے ٹاور تک کا تھا۔ اس روٹ پر ایک خام اندازہ کے مطابق ایک ہزار بسیں دوڑتی تھیں اور تقریباً صبح 3بجے تک یہ بسیں چلتی تھیں۔ ان بسوں میں جو آڈیو کیسٹ بجائے جاتے تھے ان میں فنکاروں کے لطیفے ممبئی تک مشہور تھے۔ اب W11کی بہاریں ختم ہوچکی ہیں۔ اب کبھی کبھی لیاقت آباد اور گرومندر پر W11 کے کنڈیکٹروں کی آواز سنائی دیتی ہے۔
پیپلز پارٹی 18سال قبل صوبہ سندھ میں برسرِ اقتدار آئی۔ اس دوران وفاق میں بھی پیپلز پارٹی کی حکومت رہی۔ صدر زرداری نے چین کے کئی دورے کیے۔ چین کے ساتھ سی پیک منصوبہ پر دستخط ہوئے۔ لاہور میں میٹرو بس دوڑنے لگی۔ سی پیک منصوبہ کے تحت لاہور میں اورنج ٹرین متحرک ہے۔ اب تو لاہور میں انڈرگراؤنڈ ٹرین کی تعمیر کی فزیبلٹی تیار ہورہی ہے۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی میں بڑا بورڈ سے نمائش تک میٹرو بس کا ٹریک تعمیر کیا تھا۔ یہ منصوبہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے دورِ اقتدار میں مکمل ہوا۔ پیپلز پارٹی نے 7سال قبل ملیر کینٹ سے نمائش تک ریڈ لائن منصوبہ شروع کیا جو پیپلز پارٹی کی حکومت کی ناکام طرز حکومت کا نمونہ بن گیا۔ سوشل میڈیا پر یہ ٹرینڈ آج بھی مقبولِ عام ہے کہ ’’پہلے آبنائے ہرمز کھلے گی یا ریڈ لائن سروس مکمل ہوگی۔‘‘
پیپلز پارٹی کی حکومت نے 2021ء میں پبلک ٹرانسپورٹ کی اہمیت کو محسوس کیا اور Sindh Intra-District Peoples Bus Service Project شروع کیا۔ اس منصوبے کے تحت کراچی میں 300کے قریب بسیں چلائی گئیں جن میں گرین بسیں بھی شامل ہیں۔
اس وقت کراچی کو کم از کم 10ہزار بسوں کی ضرورت ہے، اگرچہ پیپلز پارٹی کے رہنما اتنی کم تعداد میں بسوں کو اپنا کارنامہ قرار دے رہے ہیں مگر مسئلہ بدستور گھمبیر ہے۔ وفاقی حکومت نے گزشتہ 18برس کے دوران سندھ حکومت کو 22 ہزار ارب سے زیادہ کی رقم دی۔ یہ رقم کن مدوں میں خرچ ہوئی، حکومت سندھ کو اس سوال کا جواب دینا چاہیے۔ کراچی کو ایک جدید ترین پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کی ضرورت ہے۔ یہ نظام نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی نظام اور مکمل خودمختار سٹی گورنمنٹ کے تحت قائم ہوسکتا ہے، اگر بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا کے دورِ اقتدار کی اس فزیبلٹی کا مطالعہ کرلیں تو کراچی مستقبل میں ٹریفک مسائل سے محفوظ ہوسکتا ہے۔