میرا فیڈ، میری مرضی:ڈیجیٹل سامراجیت
صبح کے چھ بج رہے ہیں۔ افریقا کے ایک دور افتادہ قصبے میں زیمبیا کے باشعور باشندے ڈیوڈ کی آنکھ کھلتی ہے، وہ ابھی بستر سے اٹھا بھی نہیں کہ حسب عادت تکیے کے پاس رکھا اسمارٹ فون اٹھا لیتا ہے۔ اسکرین آن ہوتے ہی نوٹی فکیشنز کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی ہے۔ واٹس ایپ کے ایک وائس نوٹ میں گھبرائی ہوئی آواز سنائی دیتی ہے۔ ’’الیکشن کمیشن کے فارم تبدیل کر دیے گئے ہیں، خبردار رہیں!‘‘ وہ چونک کر فوراً فیس بک پر جاتا ہے، جہاں ایک سنسنی خیز اور جذباتی ویڈیو اسے روک لیتی ہے۔
ٹک ٹاک پر پندرہ سیکنڈ کا ایک کلپ اس کے سیاسی نقطہ نظر کو ہلا کر رکھ دیتا ہے اور ایکس (ٹویٹر) پر ایک نام نہاد سرکاری نوٹیفکیشن کا اسکرین شاٹ دعویٰ کرتا ہے کہ حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز معطل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ ڈیوڈ ابھی ناشتے کی میز تک بھی نہیں پہنچا کہ اس کا ذہن ایک مخصوص سیاسی بیانیے کے سانچے میں ڈھل چکا ہے۔ اسے پکا یقین ہے کہ اس نے دنیا کا حتمی سچ دیکھ لیا ہے،مگر المیہ یہ ہے کہ ڈیوڈ اس بھیانک سچائی سے بالکل بے خبر ہے کہ اس کی اسکرین پر ابھرنے والی ہر تصویر، ہر آواز اور ہر خبر کا انتخاب اس نے خود نہیں، بلکہ اس سے ہزاروں میل دور سلیکون ویلی کے ایک ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں نصب نادیدہ کمپیوٹر الگورتھم نے کیا ہے۔
یہ صرف ڈیوڈ یا زیمبیا کی داستان نہیں ہے، بلکہ یہ اکیسویں صدی کے ہر اس باشعور انسان کی کہانی ہے، جس کی جیب میں ایک اسمارٹ فون موجود ہے۔ موبائل فون اب محض اطلاعات کے تبادلے کا ایک معصوم آلہ نہیں رہا، بلکہ یہ جدید دور کی سیاست کا سب سے بڑا اور خطرناک ترین میدان جنگ بن چکا ہے۔ ماضی میں انتخابات کے گرد معلومات کا ایک ہالہ موجود ہوتا تھا، لیکن آج معلومات بذات خود وہ بنیادی ڈھانچہ بن چکی ہیں جس کے ذریعے جمہوریت کو محسوس، سمجھا اور کنٹرول کیا جاتا ہے۔
اس ڈیجیٹل انقلاب کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ جہاں اسمارٹ فون نے عام آدمی کو زبان دے کر انتخابی اور سیاسی عمل کو جمہوریت بخشنے کا تاثر دیا، وہیں اس نے ’’سیاسی دست برد‘‘ کو بھی تاریخ میں پہلی بار عالمگیر سطح پر انتہائی آسان اور موثر بنا دیا ہے۔ ہم اب حقیقی دنیا کا سامنا نہیں کر رہے، بلکہ اس ’’تیار کردہ حقیقت‘‘ کا مقابلہ کر رہے ہیں، جسے کاپوریٹ منافع کے لیے بنائے گئے الگورتھمز نے ہمارے لیے تراشا ہے۔عالمی اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بھر کی 60 فیصد سے زائد آبادی اور بالخصوص ’’عالمی جنوب‘‘ کے 75 فیصد سے زائد نوجوان اپنی سیاسی آگاہی اور خبروں کے لیے براہِ راست سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انحصار کرتے ہیں۔
اسی خطرے کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے آسٹریلیا کی حکومت نے حال ہی میں ’’میرا فیڈ، میری مرضی‘‘ کے نام سے ایک تاریخی قانون سازی کی پیشکش کی ہے، جس کے تحت شہریوں کو یہ بنیادی حق دیا جائے گا کہ وہ الگورتھم کے ذریعے تیار کردہ مواد کو مسترد کر کے اپنی پسندیدہ فیڈ دیکھ سکیں۔ اسی طرح یورپی یونین نے اپنے ’’ڈیجیٹل سروسز ایکٹ‘‘ کے ذریعے بڑی ٹیک کمپنیوں پر یہ قانونی ذمے داری عائد کر دی ہے کہ وہ جمہوری اور انتخابی عمل کو لاحق سسٹمک خطرات کو کنٹرول کریں۔
یہ تمام حقائق اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مسئلہ اب ’’ڈیجیٹل تقسیم‘‘ یعنی محض انٹرنیٹ کی دستیابی کا نہیں رہا، بلکہ یہ ’’حکمرانی کی تقسیم‘‘ کا روپ دھار چکا ہے ،یعنی سوال یہ نہیں کہ ہم تکنیک سے جڑے ہیں یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم جس تکنیک سے جڑے ہیں، اس کی باگ ڈور آخر کس کے ہاتھ میں ہے؟یہیں سے ایک گہرے اور تشویشناک سوال کا جنم ہوتا ہے۔ تکنیکی اور سیاسی اصطلاح میں اسے ’’جھوٹے کا منافع‘‘ کہا جاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں جب جعلی تصاویر اور ویڈیوز اتنی مہارت سے بنائی جا سکتی ہوں کہ وہ بالکل سچ لگیں، تو اس کا سب سے بھیانک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اب کسی بھی سچی ویڈیو، اصلی دستاویزی ثبوت یا حقیقت کو بڑی آسانی سے یہ کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے کہ ’’یہ تواے آئی کی جادوگری ہے‘‘ گویا مصنوعی ذہانت نے جہاں جھوٹ بنانا اور پھیلانا آسان کر دیا ہے، وہیں سچائی کا ثبوت دینا ناممکنات میں شامل کر دیا ہے۔
یہ صرف ایک تکنیکی خرابی نہیں، بلکہ جمہوری اعتماد، سماجی یگانگت اور باہمی یقین کے بنیادی فلسفے پر ایک گہرا زخم ہے۔ المیہ یہ نہیں ہے کہ انسان نے سچائی کی تلاش چھوڑ دی ہے، بلکہ المیہ یہ ہے کہ سچائی کی تعریف اب سلیکون ویلی کے کسی سَرور پر چلنے والے کوڈ کے مرہونِ منت ہو چکی ہے۔یاد رکھیے! اگر ہم نے اپنے شعور اور توجہ کی حاکمیت کا دفاع نہ کیا، تو جمہوری میدان میں بیلٹ بکس میں گرے گا تو ہمارا اپنا ہی ووٹ، لیکن اس کے اندر سے نکلنے والا فیصلہ الگورتھم کا ہو گا۔