فکسڈ ٹیکس اسکیم: 9 ہزار 800 دکانداروں نے ریٹرن تیار کر لیے، صرف 3 جمع

حکومت نے رواں مالی سال تاجروں سے اسکیم کے تحت 50 ارب روپے ٹیکس وصولی کاہدف مقررکیاہے

حکومت کی جانب سے تاجروں کیلیے متعارف کرائی گئی ایک فیصد فکسڈ ٹیکس اسکیم کو ابتدائی مرحلے میں شدید سست روی کا سامنا ہے، جہاں اب تک صرف تین نئے رجسٹرڈ دکانداروں نے اسکیم کے تحت اپنے ٹیکس ریٹرن جمع کرائے ہیں، جبکہ تقریباً 9 ہزار 800 دکانداروں نے ریٹرن تیار کر لیے ہیں مگر انہیں فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں جمع نہیں کرایا۔

حکومت نے رواں مالی سال تاجروں سے اسکیم کے تحت 50 ارب روپے ٹیکس وصولی کاہدف مقررکیاہے، تاہم جمعہ تک صرف 3 کروڑ 25 لاکھ روپے ٹیکس وصول ہوا۔وزارت خزانہ کے مطابق مجموعی طور پر 428 دکانداروں نے ریٹرن جمع کرائے ہیں، تاہم ان میں نئے ٹیکس دہندگان کی تعدادصرف تین ہے۔

حکام کے مطابق ایک ہزار 929 نئے تاجروں نے پہلی مرتبہ ٹیکس نظام میں رجسٹریشن کرائی،جن میں سے 57 نے ریٹرن تیارکیے لیکن ابھی تک انہیں جمع نہیں کرایا۔صورتحال کا اندازہ اس امر سے بھی لگایاجاسکتاہے کہ تاجروں کے ساتھ اسکیم طے کرنیوالے اہم رہنماؤں میں شامل اجمل بلوچ نے بھی تاحال اسکیم کے تحت ریٹرن جمع نہیں کرایا۔ ان کاکہنا تھاکہ مصروفیات کے باعث ابھی ریٹرن جمع نہیں کراسکے، تاہم وہ جلد یہ عمل مکمل کرینگے۔

وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہرکیانی نے اسکیم پر عمل درآمدکاجائزہ لیا اور تاجروں کے رہنماؤں پرزور دیاکہ وہ اسکیم کی کامیابی کیلیے اپناکردار اداکریں۔ اجلاس میں تاجروں کی جانب سے آن لائن ریٹرن فائل کرنے میں درپیش تکنیکی مشکلات کی نشاندہی بھی کی گئی۔

بلال کیانی نے ایف بی آرکو ہدایت کی کہ دکانداروں اور ٹیکس وکلا کی جانب سے اٹھائے گئے تکنیکی اعتراضات فوری طور پر دورکیے جائیں اورریٹرن جمع کرانیوالے دکانداروں کو ایف بی آر پلیٹس بھی جلدفراہم کی جائیں۔وزیر مملکت کے مطابق فکسڈ ٹیکس اسکیم دکانداروں کیلیے خصوصی سہولت ہے،جس کے تحت انہیں آڈٹ اور ڈیجیٹل ٹرانزیکشن ڈیوائسزکی تنصیب سے استثنیٰ دیاگیا،جبکہ ٹرن اوور پر صرف ایک فیصدٹیکس عائدکیاگیا۔

دوسری جانب تنخواہ دار طبقے کی جانب سے تاجروں کودی جانیوالی مراعات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ گزشتہ مالی سال تنخواہ دار طبقے سے تقریباً 630 ارب روپے ٹیکس وصول ہوا، جبکہ تاجروں کی ٹیکس شمولیت طویل عرصے سے حکومت کیلیے چیلنج رہی ہے۔

حکام کاکہناہے کہ تقریباً 9 ہزار 806 دکانداروں نے ریٹرن تیارکر لیے ہیں ،توقع ہے کہ وہ 30 ستمبر تک انہیں جمع کرادینگے۔ سیکریٹری خزانہ امداداللہ بوسال نے بھی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایاکہ تاجروں کی اسکیم نے سست آغاز لیاہے، اس میں بہتری کیلیے اقدامات کی ضرورت ہے۔

Load Next Story