روس اور یوکرین میں پھر خونریز جھڑپیں، 24 گھنٹوں میں 16 افراد ہلاک
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں ایک بار پھر حملوں میں تیزی آگئی ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دونوں جانب کے حملوں میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہوگئے۔ روس اور یوکرین دونوں نے اپنے اپنے علاقوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
یوکرین کے مطابق روسی حملوں میں شمال مشرقی علاقے سومی، زاپوریژیا اور دنیپروپیٹرووسک میں کم از کم 6 افراد مارے گئے، جن میں ایک 17 سالہ لڑکی بھی شامل ہے۔ دارالحکومت کیف میں بھی روسی حملے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ اس سے ایک روز قبل شہر میں ہونے والے حملے میں 7 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
دوسری جانب روس نے دعویٰ کیا کہ یوکرینی حملوں میں کراسنودار اور بیلگورود کے علاقوں میں 4 افراد ہلاک ہوئے۔ ماسکو کی جانب سے مقرر کردہ کھیرسون کے عہدیدار ولادیمیر سالدو کے مطابق ایک ڈرون نے کریمیا کے قریب واقع گاؤں اسکانیہ نووا میں ایک کیفے کو نشانہ بنایا، جہاں ملبے سے دو نوجوان لڑکیوں سمیت تین افراد کی لاشیں نکالی گئیں۔
روس کے زیرِ قبضہ زاپوریژیا کے ایک اور ماسکو نواز عہدیدار یوگینی بالیتسکی نے بھی دعویٰ کیا کہ رات کے دوران یوکرینی حملوں میں مزید 3 افراد ہلاک ہوئے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں ہوسکی۔
یہ حملے ایسے وقت میں جاری ہیں جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ پانچویں سال میں داخل ہوچکی ہے اور حالیہ مہینوں میں شہری علاقوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں یوکرین میں شہری ہلاکتیں اور زخمیوں کی تعداد پورے 2025 کے مقابلے میں زیادہ رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مبصرین کے مطابق جولائی 2026 میں یوکرین میں کم از کم 437 شہری ہلاک اور 2,610 زخمی ہوئے، جو اپریل 2022 کے بعد کسی ایک ماہ میں شہری ہلاکتوں کی بلند ترین تعداد تھی۔
ادھر سفارتی سطح پر جنگ بندی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران ایک بار پھر کہا کہ ماسکو اور کیف کے درمیان جنگ کے خاتمے کا معاہدہ ہوگا، تاہم زمینی صورتحال میں مسلسل حملوں کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات بدستور غیر یقینی دکھائی دیتے ہیں۔
کیف میں روسی حملوں سے متاثرہ رہائشی علاقوں میں شہری اپنے گھروں سے ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں۔ مقامی باشندوں کے مطابق مسلسل ڈرون حملوں کے باعث دارالحکومت میں رہنے والے خاندان شدید دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔