ٹرمپ کی ایران کو ’مٹانے‘ کی دھمکی پر تہران کا اقوام متحدہ سے بڑا احتجاج
نیویارک: ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایران کو ’’مٹانے‘‘ کی دھمکی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاملہ اقوام متحدہ کے سامنے اٹھا دیا ہے۔
ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر اور ناظم الامور غلام حسین درزی نے 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر جیروم بونافون کو خط لکھا۔ ایرانی سفیر کے مطابق ٹرمپ کی دھمکیاں اس لیے زیادہ سنگین اور تشویشناک ہیں کیونکہ یہ الفاظ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے کہے گئے۔
درزی نے اپنے خط میں 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کا حوالہ دیا، جس میں امریکی صدر نے ایران کے حوالے سے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ان کے پاس ایران کو ’’مٹانے‘‘ کا راستہ بھی موجود ہے۔
ایرانی سفیر نے مؤقف اختیار کیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی عالمی امن، بین الاقوامی تعاون اور ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کے فروغ کے لیے قائم اہم ترین عالمی فورم ہے، اس لیے اس پلیٹ فارم سے کسی رکن ملک کو تباہ کرنے کی دھمکی دینا انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ یہ مؤقف ایرانی حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔
ایران نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی صدر کے ان بیانات کو محض سیاسی بیان بازی سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے۔ ایرانی خط میں ان بیانات کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر سے متعلق سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے عالمی ادارے کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی ہے۔
Iran: Trump’s annihilation threats made at UNGA are ‘grave and alarming’https://t.co/pmRNO5rZdQ pic.twitter.com/vMsRrAO2sI
— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) September 28, 2026
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ، آبنائے ہرمز اور ممکنہ سفارتی مذاکرات کے حوالے سے کشیدگی برقرار ہے۔ ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران ایران کے ساتھ معاہدے کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ رابطے ثالثوں کے ذریعے جاری رہے ہیں۔