کپاس کی پیداوار میں تشویشناک حد تک کمی، اربوں ڈالر کی درآمد ضروری ہوگئی

کپاس کی مقامی پیداوار میں 4.9 ملین بیلز کی کمی تشویشناک ہے، سفید سونے کی معیشت کو تباہ ہوگئی، میاں زاہد حسین

فوٹو: فائل

ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے کاٹن جنرز کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کپاس ملکی زرعی معیشت اور برآمدات کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جس کی پیداوار میں شدید گراوٹ نے پاکستانی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کاٹن زونز میں کام کرنے والی شوگر ملوں کو فوری طور پر منتقل کیا جائے، کپاس اور اس کی بائی پراڈکٹس بشمول کاٹن سیڈ اور کاٹن سیڈ کیک پر عائد سیلز ٹیکس کا مکمل خاتمہ کیا جائے، بجلی کے بلوں میں شامل فکسڈ ٹیکسز کو ختم کیا جائے اور کاٹن کنٹرول ایکٹ پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

حکومت پی سی جی اے کی تجویز کردہ 'کپاس اگاؤ، معیشت بچاؤ' مہم پر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کرے اور جننگ سیکٹر کو انڈسٹری اسٹیٹس دے تاکہ اسے مسابقتی صنعتی نرخوں پر بجلی اور گیس فراہم کی جاسکے۔

انہوں  نے کہا کہ امریکن ڈپارٹمنٹ آف ایگریکلچر کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سال 2027-2026 میں پاکستان میں کپاس کی کل پیداوار محض 4.9 ملین بیلز رہنے کا امکان ہے، جبکہ پیداوار کا ہدف 9.6 ملین بیلز تھا۔ مقامی اسپننگ انڈسٹری کی سالانہ ضرورت 10 ملین بیلز ہے۔ اس بڑے شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کو 5 ملین بیلز سے زائد درآمد کرنا پڑیں گی، جن کی مالیت کم و بیش 2ارب ڈالر یا 600ارب روپے ہے۔

انہوں نے کہا کہ کپاس کی ملکی پیداوار میں کمی کے باعث یہ خطیر رقم پاکستانی کسانوں کے بجائے غیر ملکی کسانوں کو ادا کی جائے گی، جس سے نہ صرف مقامی کسانوں کا معاشی استحصال ہو گا بلکہ پہلے سے دباؤ کا شکار ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی 2 ارب ڈالر کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال 2024-2023 میں کپاس کی ملکی پیداوار 7 ملین بیلز تھی اور درآمدات 3.2 ملین بیلز رہیں، تاہم مالی سال 25-2024 میں پیداوار گر کر 5 ملین بیلز رہ گئی جس کے باعث درآمدات بڑھ کر 6.1ملین بیلز تک پہنچ گئیں۔

اُن کے مطابق مالی سال 2026-2025 میں بھی پیداوار 5.6 ملین بیلز رہی اور درآمدات کا حجم 6 ملین بیلز رہا۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کی پیداوار میں تسلسل کے ساتھ گراوٹ کی بنیادی وجہ کپاس کے پیداواری رقبے میں گزشتہ 10 سالوں میں تقریباً 33 فیصد کمی ہے جس کے باعث پاکستان کا جی ڈی پی 452 ارب ڈالر اور ملکی برآمدات 30 ارب ڈالر کی سطح پر منجمد ہو کر رہ گئی ہیں جبکہ دوسری طرف ہماری آبادی میں سالانہ 60 سے 70لاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے یعنی ہم سنگاپور کے برابر ایک ملک ہر سال جنم دے رہے ہیں۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان میں صنعتی پیداواری لاگت علاقائی بنیادوں پر سب سے زیادہ ہے جس نے ہماری جننگ، اسپننگ، اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس وقت پڑوسی ممالک میں صنعتوں کو 8 سینٹ فی یونٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ پاکستان میں یہی بجلی 14سینٹ فی یونٹ پر مل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں شامل فکسڈ چارجز اور بے تحاشہی ٹیکسز نے کاروباری مسابقت کو ناممکن بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی سطح پر کپاس، بنولہ، اور کاٹن سیڈ کیک پر عائد سیلز ٹیکس جیسی پالیسیوں نے مارکیٹ کو مزید نڈھال کر دیا ہے، جنہیں فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ کاٹن زونز میں شوگر ملوں کے قیام کی اجازت دینا ایک تاریخی اور اسٹریٹجک غلطی تھی، جس نے کپاس کے زیرِ کاشت رقبے اور پیداواری صلاحیت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے پی سی جی اے کے مطالبے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کاٹن زونز میں قائم شوگر ملوں کو فوری طور پر منتقل کیا جائے اور کاٹن کنٹرول ایکٹ پر اس کی روح کے مطابق مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے، جس کا بنیادی مقصد کاٹن زونز کو دیگر فصلوں اور غیر متعلقہ صنعتوں کی دراندازی سے محفوظ رکھنا، مارکیٹ میں معیاری اور خالص بیج کی فراہمی کو قانونی تحفظ فراہم کرنا، اور کپاس کی فصل کو بیماریوں اور ملاوٹ شدہ پیسٹیسائڈ سے بچا کر اس کے معیار کو بین الاقوامی سطح پر بحال کرنا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومتی ادارے، کاٹن جنرز اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو فوری ریلیف فراہم کرنے اور کسانوں تک آب و ہوا کے موافق جدید بیجوں کی رسائی میں ناکام رہے، تو عالمی مارکیٹ میں پاکستان کا بچا کھچا حصہ بھی دیگر ممالک چھین لیں گے اور ملک میں بے روزگاری کا ایک نیا طوفان کھڑا ہوجائے گا۔

 

Load Next Story