کیا واقعی قانون کی نظر میں سب برابر ہیں؟

ملکی تاریخ میں پہلی بار خواتین ملزمان کو بھی ہتھکڑی پہنا دی گئی

جب ہم کسی پولیس وین سے کسی کو ہتھکڑی لگے اترتے دیکھتے ہیں تو ہم اپنے اور اس کے درمیان ایک لکیر کھینچ دیتے ہیں۔ اسے آپ نفرت یا ناپسندیگی کی لکیر بھی کہہ سکتے ہیں۔ ہم فوری طور پر اسے مجرم مان بھی لیتے ہیں۔ جب جیل سے اگر کوئی قیدی عدالت کے احاطہ میں داخل ہوتا ہے تو اسے ایک دم سے مجرم اور سزاوار سمجھ لیتے ہیں۔

جبکہ اگر یہی منظر کسی خاتون سے متعلق ہو، یعنی وہ پولیس وین سے اتر رہی ہو اور کسی عدالت میں پیش ہونے کے لیے جارہی ہو تو ہم سب چلتے چلتے رک جاتے ہیں اور ہماری آنکھوں میں تجسس کی آگ تو کبھی نفرت کے تیر اس متاثرہ کو اپنے جسم پر یقیناً محسوس ہوتے ہوں گے۔ اس کا سر جھکا ہوتا ہے اور شائد اس کی آنکھوں میں آنسو بھی ہوتے ہوں گے کہ وہ کوئی کرائم ہسٹری رکھنے والی خاتون نہیں تھی اور ابھی عدالت نے اسے بھی سننا ہے اور اس کے بعد بے گناہی یا گناہگاری کا فیصلہ ہونا تھا۔ ابھی تو وہ زیر تفتیش ہے۔

فرض کریں کہ اب پولیس وین سے ایک ایسی عورت برآمد ہوتی ہے جسے ہتھکڑی لگی ہو اور وہ احاطہ عدالت میں داخل ہو اور اسے کسی کورٹ میں پیش ہونا ہو تو کیا منظر ہوگا؟ جج صاحب نے کئی پیشیوں کے بعد جاکر اسے گناہ گار یا بے گناہ کا سرٹیفکیٹ دینا ہے مگر دیکھنے والے تو ایک ہی نظر میں اسے بہت ہی گھناونے جرائم سے جوڑتے ہوئے ایک لمبی چارج شیٹ جاری کردیتے ہیں۔

ایسا ہی ایک عجیب منظر راولپنڈی کی کچہری میں لوگوں نے دیکھا، جب ملکی تاریخ میں پہلی بار خواتین ملزمان کو بھی ہتھکڑی پہنا دی گئی اور یہ تاریخ رقم بھی ہوئی تو راولپنڈی کی کچہری میں جہاں پہلی بارخواتین کو بھی ہتھکڑیاں لگا کر اڈیالہ جیل سے کچہری اور پھر واپس جیل لایا گیا۔ افسوس کی بات یہ تھی کہ نہ تو وہ کسی دشمن سر زمین کی تھیں اور نہ ہی ان میں سے کوئی خود کش بمبار یا دہشت گرد تھی۔ ابھی یہ طے ہونا باقی تھا کہ وہ کس نوعیت کے جرم کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ ایک خاتون نے تو الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکار مدد کے بہانے خواتین کو پولیس وین میں سوار کرواتے وقت پیچھے سے پکڑتے اور نیچے اتارتے ہوئے ان کے ہاتھ تھامتے تھے۔

ذرا جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان پریزن رولز 1978 اس بارے میں کیا بیان کرتے ہیں, کہ اگر کوئی کمزور اور لاوارث شہری جرم کرنے میں کامیاب ہوجائے اور خوش قسمتی سے پولیس کے ہتھے چڑھ جائے تو اسے کس قسم کے حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ ویسے انگریز نے یہ قانون 1894 میں نافذ کیا تھا مگر پھر ان انگریزوں کے رخصت ہونے کے بعد ہر حکمران کو اس قدر اچھا لگا کہ اس نے معمولی سی چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے اسے اسی طرح آج تک نافذ رکھا۔

اگر بات کی جائے ان ہتھکڑیوں کی تو یہ بھی اس دور سے ہی ہمارے تھانوں اور جیلوں میں چلی آ رہی ہیں۔ پاکستان پریزن رولز 491 صفحات پر مشتمل ایک ایسی گائیڈ لائن ہے جو کسی بھی ملزم اور پھر جرم ثابت ہونے کے بعد مجرم کو اس کے حقوق واضح طور پر بیان کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا جیل مینول بن جاتا ہے جس کے تحت کسی بھی قیدی کو حقوق و فرائض کے تحت اپنی سزا پوری کرنا ہوتی ہے۔ جیل رولز کے مطابق قیدیوں کو تین اقسام A,B,C میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سادہ الفاظ میں جیسے ہمارا معاشرہ اشرافیہ، اپر و مڈل کلاس اور پھر لوئر کلاس میں تقسیم ہے اور ان کی زندگیوں میں زمین و آسمان کا فرق دکھائی دیتا ہے یہی حال جیلوں کا ہے۔

جیلوں میں A اور B کلاس اعلیٰ سماجی حیثیت، اچھے تعلیم یافتہ یا مخصوص سرکاری عہدیدران یا پھر اثرورسوخ والوں کو حاصل ہوتی ہے، جبکہ C کلاس میں عوام الناس مڈل کلاسیے یا صاحب اقتدار کے ناپسندیدہ لوگ شامل ہیں، جنہیں صبح و شام یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اب جب تم پکڑ میں آ ہی گئے ہو تو پھر بھگتو۔

خواتین قیدیوں کے بارے میں یہ بہت واضح ہے کیونکہ ایک مرد قیدی کی نسبت خاتون قیدی کے حقوق زیادہ حساس نوعیت کے ہیں۔ پریزن ایکٹ کی سیکشن 27 جو کہ سب سے بنیادی اصول ہے کہ ایک ہی جیل میں مرد اور خواتین دونوں مکمل طور پر الگ الگ حصوں میں قید رکھے جائیں گے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ یہ نہ تو ایک دوسرے کو دیکھ سکیں اور نہ ہی کسی قسم کا رابطہ یا بات چیت ممکن ہو۔ خواتین قیدیوں کے حصے میں تمام ذمے داریاں بھی خواتین عملہ ہی سر انجام دے سکتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کی بیرک میں کسی بھی مرد اہلکار کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ خواتین (میٹرنز) ہی کسی حساس معاملے پر ان کی تلاشی لے سکتی ہیں۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی یہ اس قدر جامع قانون ہے کہ قیدی خاتون کی رہائی کے طریقہ کار کو بھی واضح کرتا ہے کہ قیدی خاتون جب اپنی قید پوری کرتی ہے تو اس کے رشتے داروں کو اطلاع دی جاتی ہے تاکہ وہ رہائی کے وقت جیل کے مرکزی دروازے پر موجود ہوں۔ بعض صورتوں میں تو قیدی خاتون کو جیل وارڈر اس کے گھر تک چھوڑ کر بھی آتی ہے۔ اگر کسی خاتون کی رہائی کا پروانہ شام ڈھلے یا کچھ دیر سے جیل حکام کو ملتا ہے تو وہ اس جیل کی بیرک سے نکال کر الگ کردیا جاتا ہے تاکہ دن کی روشنی میں وہ اپنے گھر روانہ ہو۔

اب اگر ہم بات کریں اس واقعے کی جس میں ہتھکڑی لگائی گئی تو اس کے بارے میں رول نمبر 313 واضح ہے۔ جس کے مطابق کسی خاتون قیدی کو ہتھکڑی، بیڑی یا کوڑے مارنے کی سزا نہیں دی جائے گی، بشرطیکہ اگر بالکل ناگزیر ہو تو خاتون قیدی کو صرف قابو میں رکھنے کے مقصد سے ہتھکڑی لگائی جا سکتی ہے۔ منتقلی کے دوران خواتین قیدیوں کو بیڑیاں نہیں پہنائی جائیں گی۔ خاتون اگر کسی کرائم سین کا کوئی حصہ بھی ہو تو اس کی گرفتاری کی بھی ایک مکمل گائیڈ لائن موجود ہے کہ اسے پولیس خاتون عملے کے بغیر چھوا تک نہیں جاسکتا۔

اعلیٰ عدالتوں نے بھی بار بار ہدایات جاری کی ہیں کہ بالخصوص خواتین، بچوں اور بیمار قیدیوں کو بغیر کسی ٹھوس وجہ، خطرے یا عدالتی اجازت کے بغیر ہتھکڑی لگا کر پیش کرنا انسانی وقار اور آئین کے آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے۔ جب وہ تعاون کر رہی ہے، نہ وہ بھاگ رہی ہے حراست سے اور نہ اس پر ایٹم بم چلانے یا خودکش بمبار کا کوئی الزام ہے، ایسے میں اس طرح ایک انسان کی تذلیل کرنا کیا ہمیں یہ اجازت دیتا ہے کہ ہم کسی خاتون قیدی کو ہتھکڑیاں لگائے جیل سے پیشی کےلیے عدالت اور پھر عدالت سے واپس جیل ٹرانسفر کریں؟

حیرت کی بات ہے کہ وکلاء نے بھی احتجاج کیا اور اس دفعہ تو ان کا یہ احتجاج واقعی میں جائز تھا کہ یہ غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر انسانی عمل ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے اس قدر واضح خلاف ورزی پر کوئی کاروائی ہوتی بھی ہے یا اس تاثر کو مضبوطی ملے گی کہ اگر ایسا واقعہ کسی طاقتور کی خاتون کے ساتھ ہوتا تو کس کس کے ٹرانسفر ہوتے اور کس کس کی نوکری جاتی اور یہ جو آئینی کتب میں درج ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں، تو کیا واقعی میں سب برابر ہی ہیں؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story