سندھ بھر کے سرکاری اسپتالوں میں ہاؤس آفیسرز تین ماہ سے تنخواہوں اور وظائف سے محروم
سندھ بھر کے سرکاری اسپتالوں میں خدمات انجام دینے والے ہزاروں ہاؤس آفیسرز گزشتہ تین ماہ سے تنخواہوں اور وظائف سے محروم ہیں جس کے باعث ڈاکٹروں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ نئی ادائیگی پالیسی کے نفاذ کے بعد سندھ بھر میں ہاؤس آفیسرز کی تنخواہوں کی ادائیگیاں تعطل کا شکار ہیں اور 100 روز سے زائد گزرنے کے باوجود واجبات ادا نہیں کیے جاسکے۔
مئی 2026 میں ہاؤس آفیسرز کو تنخواہوں کی ادائیگی کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی، جس کے تحت پہلے کی طرح اسپتال کے ذریعے چیک دینے کے بجائے ہاؤس آفیسرز کو براہِ راست ان کے بینک اکاؤنٹس میں رقم منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
نئی پالیسی پر عملدرآمد کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے وقت طلب کیا گیا، تاہم یہ عمل طویل ہونے کے باعث گزشتہ تین ماہ سے ہاؤس آفیسرز کو تنخواہیں نہیں مل سکیں۔
ایک سرکاری اسپتال کے فنانس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس سے قبل ہاؤس آفیسرز کی تنخواہ اسپتال کے اکاؤنٹ میں آتی تھی جس کے بعد اسپتال انتظامیہ بینک کے ذریعے چیک تیار کرکے ڈاکٹروں میں تقسیم کرتی تھی۔ نئی پالیسی کے بعد براہِ راست بینک اکاؤنٹس میں ادائیگی کا طریقہ کار اپنایا گیا۔
فنانس افسر کے مطابق اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ (اے جی سندھ) کی ہدایات پر تمام ہاؤس آفیسرز سے مطلوبہ فارم پُر کروائے گئے، شناختی کارڈز کی نقول اور سابقہ چیکس کی نقول بھی حاصل کی گئیں، جبکہ اسپتال کے تمام ہاؤس آفیسرز کا مطلوبہ ڈیٹا اے جی سندھ کو فراہم کردیا گیا ہے، تاہم اس کے باوجود تاحال تنخواہوں کی ادائیگیاں جاری نہیں ہوسکیں۔
فنانس افسر کا کہنا تھا کہ روزانہ درجنوں ہاؤس آفیسرز اسپتال انتظامیہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی شکایات کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہاؤس آفیسرز بعض اوقات 36، 36 گھنٹے مسلسل اسپتال میں ڈیوٹی انجام دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود تین ماہ سے انہیں ان کا وظیفہ نہیں ملا۔
انہوں نے واضح کیا کہ مطلوبہ دستاویزات اور ڈیٹا فراہم کرنا اسپتال انتظامیہ کی جانب سے مکمل کیا جاچکا ہے، اس لیے براہِ راست ادائیگی کے موجودہ طریقہ کار میں اسپتال انتظامیہ کا کوئی کردار باقی نہیں رہتا۔ تاہم ہاؤس آفیسرز کی مشکلات کے پیش نظر اے جی سندھ سے متعدد مرتبہ رابطہ کرکے واجبات جاری کرنے کی درخواست کی جاچکی ہے۔
کراچی کے سول اسپتال میں ہاؤس آفیسرز کی تعداد تقریباً 280 ہے، جبکہ جناح اسپتال کراچی میں 700 سے زائد ہاؤس آفیسرز اور 450 سے زائد پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹرز خدمات انجام دے رہے ہیں۔ سندھ کے مختلف سرکاری اسپتالوں میں ہاؤس آفیسرز کی مجموعی تعداد تقریباً 3 ہزار 800 سے زائد بتائی جاتی ہے، جو تین ماہ سے تنخواہوں اور وظائف کی ادائیگی کے منتظر ہیں۔
اس صورتحال پر جناح اسپتال کی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر شاہد اعوان نے مطالبہ کیا ہے کہ ہاؤس آفیسرز اور پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کے گزشتہ تین ماہ کے تمام بقایا وظائف فوری طور پر ان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیے جائیں۔
ڈاکٹر شاہد اعوان کا کہنا ہے کہ تمام واجبات آئندہ چند روز میں ادا نہ کیے گئے تو اسپتال میں باقاعدہ احتجاج شروع کیا جائے گا، جس کے بعد او پی ڈیز کے مکمل بائیکاٹ کی طرف بھی قدم اٹھایا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق ہسپتال کی سروسز میں تعطل اور مریضوں کو درپیش کسی بھی ممکنہ پریشانی کی ذمہ داری اسپتال انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ صحت پر عائد ہوگی۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ ہاؤس آفیسرز اسپتال کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اوربعض اوقات 36، 36 گھنٹے تک ڈیوٹیاں انجام دیتے ہیں۔ ایسے میں تین ماہ تک وظائف کی عدم ادائیگی ڈاکٹروں کے لیے شدید مالی مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔
ہاؤس آفیسرز نے مطالبہ کیا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت درکار تمام کارروائی مکمل ہونے کے بعد بلا تاخیر ان کے تین ماہ کے واجبات جاری کیے جائیں تاکہ اسپتالوں میں خدمات انجام دینے والے جونیئر ڈاکٹروں کو مزید مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔