ایران نے سفارتی پیغام کے لیے ’باہوبلی‘ کا سہارا لے لیا، پربھاس کی جنگی ویڈیو وائرل

پوسٹ کے ساتھ صدر پزشکیان سے منسوب یہ پیغام درج کیا گیا کہ ایران ’اپنا سر نہیں جھکائے گا اور گھٹنے نہیں ٹیکے گا‘

ایرانی قونصل خانے نے سفارتی پیغام کو بھارتی سنیما کے ایک مقبول منظر سے جوڑتے ہوئے پربھاس کی فلم ’باہوبلی: دی بگننگ‘ کی جنگی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کردی۔ حیدرآباد میں قائم ایرانی قونصل خانے کی اس پوسٹ میں پربھاس کے کردار کو کالکیا فوج کے خلاف لڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

قونصل خانے نے یہ ویڈیو ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے 23 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کے بعد شیئر کی۔ پوسٹ کے ساتھ صدر پزشکیان سے منسوب یہ پیغام درج کیا گیا کہ ایران ’اپنا سر نہیں جھکائے گا اور گھٹنے نہیں ٹیکے گا‘۔

’باہوبلی‘ کے جس منظر کا انتخاب کیا گیا وہ ایس ایس راجامولی کی 2015 میں ریلیز ہونے والی فلم ’باہوبلی: دی بگننگ‘ کے مشہور ترین ایکشن مناظر میں شمار ہوتا ہے۔ اس میں پربھاس کا کردار کالکیا فوج کے مقابلے میں اپنی فوج کی قیادت کرتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں جب کسی ایرانی سفارتی مشن نے اپنے آن لائن پیغام کے لیے تیلگو سنیما کا سہارا لیا ہو۔ 23 ستمبر کو زمبابوے میں ایرانی سفارت خانے نے بھی ننداموری بالاکرشنا کی 2023 کی فلم ’بھاگونت کیسری‘ کا 58 سیکنڈ کا ایکشن کلپ شیئر کیا تھا۔ یہ پوسٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقوام متحدہ میں ایران سے متعلق بیان کے بعد سامنے آئی تھی۔ ایرانی سفارت خانے نے کلپ کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ ایران بے دفاع نہیں ہے اور ساتھ ہی طنزیہ انداز میں کہا کہ امریکی شاید ہالی ووڈ کے بجائے بالی ووڈ دیکھ رہے ہیں۔

اس پوسٹ میں ایک دلچسپ غلطی بھی سامنے آئی، کیونکہ ’بھاگونت کیسری‘ دراصل تیلگو زبان کی فلم ہے، بالی ووڈ کی نہیں۔ بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے اس تضاد کی نشاندہی کی، جس کے بعد حیدرآباد میں موجود ایرانی سفارتی مشن نے بھی اسی بالاکرشنا کلپ کو شیئر کرتے ہوئے تیلگو فلموں کی تعریف میں ’Telugu movies are GOAT‘ لکھا۔

اب چند ہی دن بعد ایرانی قونصل خانے کی نئی پوسٹ میں بالاکرشنا کی جگہ پربھاس اور ’باہوبلی‘ نے لے لی ہے۔ ایرانی قونصل خانے کی تازہ پوسٹ نے یوں ایک معروف بھارتی فلمی منظر کو ایک غیر معمولی سفارتی پیغام کا حصہ بنا دیا، جس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آرہے ہیں۔

Load Next Story