ایران امریکا کشمکش میں امن کی آخری گنجائش

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہوسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشمکش اب محض دو ریاستوں کے درمیان ایک عسکری یا سفارتی تنازع نہیں رہی، بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی سیاست کے پورے ڈھانچے تک پھیل چکے ہیں۔ ایسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہوسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی، امید کی ایک کھڑکی ضرور کھولتا ہے، مگر اس کھڑکی کے باہر اب بھی جنگی دھوئیں کی دبیز تہہ موجود ہے۔

 اصل سوال یہ نہیں کہ واشنگٹن اور تہران دوبارہ بات چیت کریں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا دونوں فریق اپنے اپنے زیادہ سے زیادہ مطالبات سے کچھ پیچھے ہٹ کر ایسا قابل عمل راستہ نکال سکتے ہیں جو جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی محفوظ بحالی، جوہری تنازع اور علاقائی سلامتی کے مسائل کو ایک ہی سفارتی فریم میں سمو سکے۔ موجودہ حالات میں بالواسطہ مذاکرات کی بحالی کا امکان اس امر کی علامت ہے کہ جنگ کے باوجود سفارت کاری کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔

یہ معمولی پیش رفت نہیں، کیونکہ جب میدان جنگ گرم ہو اور دونوں جانب سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہو تو مذاکرات کی طرف ایک قدم بھی آیندہ تباہی کو روکنے کی بنیاد بن سکتا ہے۔یہاں سفارت کاری کی اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔ جنگ کے میدان میں طاقت کا اظہار نسبتاً آسان ہوتا ہے، لیکن مذاکرات کی میز پر طاقت کو مفاہمت میں ڈھالنا کہیں زیادہ پیچیدہ فن ہے۔ دونوں جانب ایسے حلقے موجود ہیں جو کسی بھی رعایت کو کمزوری تصور کرسکتے ہیں۔ ایران کے لیے آبنائے ہرمز محض ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ اس کی تزویراتی قوت کا اہم ذریعہ ہے، جب کہ امریکا کے لیے اس راستے کی آزادانہ اور محفوظ نقل و حرکت عالمی توانائی کے نظام سے جڑی ہوئی ہے۔

ایران واضح کرچکا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ معمول کے مطابق کھولنے کا معاملہ بعض شرائط سے وابستہ ہے اور تہران اپنے موقف سے آسانی سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ دوسری طرف واشنگٹن ایران پر معاشی اور عسکری دباؤ برقرار رکھ کر مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ یوں دونوں فریق ایک دوسرے کو دباؤ میں لانے کی کوشش بھی کررہے ہیں اور مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔ ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی امریکی کوششیں بھی اس بحران کا بنیادی پہلو ہیں۔

واشنگٹن کا موقف ہے کہ متعدد ممالک پر دباؤ ڈال کر تہران کے تجارتی اور مالیاتی راستے محدود کیے جارہے ہیں اور آنے والے ہفتوں میں ایرانی معیشت پر دباؤ مزید بڑھے گا، لیکن معاشی پابندیوں کی تاثیر کا اندازہ صرف اس بات سے نہیں لگایا جاسکتا کہ کسی ملک پر کتنی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ پابندیاں عالمی تجارت کو کس حد تک متاثر کرتی ہیں، ایران متبادل راستے کتنی تیزی سے تلاش کرتا ہے اور ان پابندیوں کے نتیجے میں خود عالمی منڈیوں پر کتنا دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ ایران طویل عرصے سے پابندیوں کا سامنا کرتا آیا ہے اور اس دوران اس نے متبادل تجارتی راستوں، مختلف مالیاتی ذرائع اور علاقائی شراکت داری کے ذریعے اپنی معاشی گنجائش برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔

دوسری طرف ایران کی طرف سے یہ پیغام بھی واضح ہے کہ اقتصادی دباؤ اسے غیر مشروط سیاسی پسپائی پر مجبور نہیں کرسکتا۔ ایرانی قیادت کے سخت بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران جنگ کی صورت میں جواب دینے کی صلاحیت اور ارادہ دونوں رکھتا ہے، جب کہ ساتھ ہی سفارت کاری کے لیے بھی آمادگی ظاہر کررہا ہے۔ یہی تضاد دراصل موجودہ بحران کی سب سے اہم حقیقت ہے۔ ایران جنگ نہیں چاہتا تو بھی اسے اپنی سلامتی کے تصور میں کمزوری دکھانے سے گریز کرنا ہوگا اور امریکا اگر جنگ ختم کرنا چاہتا ہے تو اسے بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ مسلسل دباؤ کے ذریعے ایسا معاہدہ حاصل کرنا مشکل ہوگا جسے تہران دیرپا طور پر قبول کرسکے۔آبنائے ہرمز کی صورتِ حال اس پورے بحران کا سب سے حساس معاشی پہلو ہے۔

دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور توانائی کی مصنوعات اس راستے سے گزرتی ہیں، اگر یہ گزرگاہ غیر محفوظ ہو تو عالمی منڈی میں صرف موجودہ رسد ہی متاثر نہیں ہوتی بلکہ مستقبل کی رسد کے بارے میں خدشات بھی قیمتوں کو اوپر دھکیلتے ہیں۔ اسی لیے جنگ کے خاتمے کی ہر خبر اور مذاکرات کی ہر پیش رفت کا اثر تیل کی منڈی پر فوری طور پر پڑتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی تیل کی قیمتوں میں کمی کی توقع بھی اسی وسیع تر تناظر میں دیکھی جانی چاہیے، اگر واقعی جنگ کا خاتمہ ہوتا ہے، ہرمز محفوظ ہوجاتا ہے اور توانائی کی ترسیل معمول پر آتی ہے تو عالمی منڈی میں خطرے کا وہ اضافی بوجھ کم ہوسکتا ہے جو موجودہ کشیدگی نے پیدا کیا ہے۔پاکستان کے لیے اس بحران کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی بظاہر دکھائی دیتی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھنے کا مطلب صرف پٹرول مہنگا ہونا نہیں بلکہ نقل و حمل، بجلی، صنعت، زراعت، درآمدی اخراجات اور بالآخر عام آدمی کے گھریلو بجٹ پر اضافی دباؤ ہے۔

پاکستان ایک درآمدی توانائی کی معیشت ہونے کے باعث مشرق وسطیٰ کی کسی بھی بڑی جنگ کے معاشی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس لیے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کا خاتمہ اور خلیج میں تجارتی راستوں کا تحفظ پاکستان کے لیے براہِ راست معاشی مفاد کا مسئلہ ہے۔ خطے میں امن کی ہر پیش رفت پاکستانی معیشت کے لیے بالواسطہ ریلیف بن سکتی ہے، جب کہ طویل جنگ عالمی مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا سکتی ہے۔یمن کا محاذ اس پیچیدہ صورتِ حال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔

حوثی حملوں، سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق خدشات اور ان کے جواب میں ہونے والی کارروائیوں نے ایران امریکا تنازع کو ایک وسیع تر علاقائی کشمکش سے جوڑ دیا ہے۔ اگر ایک طرف خلیجی ریاستوں کی سلامتی کا مسئلہ ہے تو دوسری جانب یمن میں جاری تنازع پورے خطے میں پراکسی محاذوں کے پھیلاؤ کا خطرہ پیدا کررہا ہے۔ سعودی عرب پر کسی بھی بڑے حملے کے اثرات صرف ریاض تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خلیجی سلامتی، تیل کی تنصیبات اور عالمی توانائی کی رسد پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خطے کے دیگر ممالک بھی سعودی سلامتی کو اپنے وسیع تر علاقائی مفادات سے جوڑ رہے ہیں۔

چین کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کے احترام پر زور دینا بھی موجودہ بحران کے عالمی پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔ فرانس سمیت دیگر مغربی ممالک بھی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اہم سمجھ رہے ہیں۔ یوں یہ تنازع اب محض ایران اور امریکا کے درمیان طاقت آزمائی نہیں رہا۔ اس میں عالمی تجارت، سمندری آزادی، توانائی کی سلامتی اور بین الاقوامی قانون کے سوالات بھی شامل ہوگئے ہیں۔ اگر بحران مزید پھیلتا ہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود رہنے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

موجودہ مرحلے پر سب سے بڑا خطرہ غلط اندازے کا ہے۔ اگر واشنگٹن یہ سمجھ لے کہ مسلسل دباؤ نے تہران کو مکمل طور پر بے بس کردیا ہے اور تہران یہ تصور کرے کہ امریکا صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے تو محدود جنگ ایک وسیع تصادم میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ جدید جنگوں کا سب سے خطرناک پہلو یہی ہے کہ ان کا آغاز ایک فریق کی مرضی سے ہوسکتا ہے لیکن اختتام ہمیشہ اس کی مرضی کے مطابق نہیں ہوتا۔ ڈرون، میزائل، بحری جنگی کارروائیاں اور توانائی کے مراکز پر حملے کسی ایک واقعے کو پورے خطے میں پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی فریق کے لیے سب سے دانشمندانہ راستہ یہ ہے کہ عسکری طاقت کو مذاکرات کی جگہ استعمال کرنے کے بجائے مذاکرات کے لیے دباؤ کے پس منظر کے طور پر رکھا جائے۔

اس مرحلے پر ضرورت کسی ایک فریق کی مکمل فتح کے اعلان کی نہیں بلکہ ایک ایسے قابلِ عمل علاقائی انتظام کی ہے جس میں تمام متعلقہ فریقوں کے بنیادی مفادات محفوظ ہوسکیں۔ آبنائے ہرمز کی محفوظ بحالی، قابلِ تصدیق جنگ بندی، جوہری معاملے پر مذاکرات، تجارتی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی، خلیجی ریاستوں کی سلامتی اور یمن سمیت علاقائی محاذوں پر کشیدگی میں کمی ایک وسیع سفارتی پیکیج کی بنیاد بن سکتی ہے۔ ایسا راستہ شاید فوری اور آسان نہ ہو، لیکن جنگ کے مقابلے میں اس کی قیمت بہرحال کم ہوگی۔دنیا کو محض جنگ بندی نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی بندوبست درکار ہے جو سمندری راستوں کو محفوظ، توانائی کی منڈیوں کو مستحکم اور خطے کے ممالک کو مسلسل جنگ کے خطرے سے باہر نکال سکے۔اب گیند واقعی واشنگٹن اور تہران دونوں کے میدان میں ہے۔

ایران جنگ اور سفارت کاری دونوں کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کررہا ہے، جب کہ امریکا بھی مذاکرات کی طرف واپسی کے امکانات کا اشارہ دے رہا ہے۔ اس موقع کو محض ایک عارضی وقفہ سمجھنا خطے کے لیے ایک اور خطرناک غلطی ہوگی، اگر دونوں فریق اپنے اپنے سخت موقف کو مذاکرات کی میز پر لچک میں تبدیل کرسکیں تو موجودہ بحران ایک نئی جنگ کی تمہید بننے کے بجائے ایک وسیع سفارتی بندوبست کی ابتدا بن سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کو ایک اور فاتح کی ضرورت نہیں، اسے ایک ایسے امن کی ضرورت ہے جو ہرمز کو جنگی محاذ کے بجائے عالمی تجارت کی محفوظ گزرگاہ بنادے۔ یہی راستہ خطے کے عوام، عالمی معیشت اور پاکستان جیسے ممالک کے لیے سب سے اہم ہے۔

Load Next Story