امریکا ایران کشیدگی کا اثر، خام تیل کی قیمت 106 ڈالر سے تجاوز کرگئی
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے سیشن بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشات اور امریکا ایران تنازع کو قرار دیا جا رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 1.49 ڈالر یا 1.4 فیصد اضافے کے بعد 106.77 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی 1.34 ڈالر یا 1.5 فیصد بڑھ کر 93.94 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق خطے سے خام تیل کی برآمدات میں بحالی کے کچھ اشارے سامنے آئے ہیں، تاہم امریکا ایران تنازع اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے مارکیٹ پر دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے، اس لیے وہاں پیدا ہونے والی رکاوٹیں عالمی تیل کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں مشرقِ وسطیٰ کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے خام تیل کی برآمدات بڑھ کر تقریباً 12.8 ملین بیرل یومیہ ہوگئی ہیں، جو فروری کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے زیادہ ترسیل نے اس اضافے میں کردار ادا کیا، تاہم معمول کے بجائے بعض متبادل طریقوں سے تیل کی منتقلی کی وجہ سے لاگت اور مشکلات برقرار ہیں۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ مارکیٹ میں یہ خدشہ موجود ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی یا آبنائے ہرمز میں تیل کی نقل و حمل مزید متاثر ہوئی تو عالمی توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے۔
دونوں اہم عالمی بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں بھی تقریباً ایک ڈالر فی بیرل اضافے کے ساتھ بند ہوئے تھے، جس کے بعد آج کی مزید تیزی نے خام تیل کی قیمتوں کو ایک مرتبہ پھر بلند سطح پر پہنچا دیا ہے۔