یو اے ای کا دعویٰ مسترد، ایران نے متنازع تین جزائر پر خودمختاری کو ناقابلِ مذاکرات قرار دے دیا

تینوں جزائر آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہیں اور ان کی اہم جغرافیائی و تزویراتی حیثیت ہے

ایران نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے تین متنازع جزائر پر کیے گئے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابو موسیٰ، گریٹر تنب اور لیسر تنب ایران کی سرزمین کا حصہ ہیں اور ان پر اس کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کے فورم سے بار بار کیے جانے والے دعوے زمینی حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتے۔ ان کے مطابق مذکورہ تینوں جزائر ایران کے علاقے کا ناقابلِ تنسیخ حصہ ہیں۔

غریب آبادی نے اماراتی حکام پر زور دیا کہ وہ مبینہ بے بنیاد دعوے دہرانے کے بجائے ہمسائیگی کے اصولوں اور خطے کی تاریخی و قانونی حقیقتوں کو مدنظر رکھیں۔ ان کا بیان ایران کی جانب سے ان جزائر پر اپنے مؤقف کی تازہ ترین توثیق ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تینوں جزائر گریٹر تنب، لیسر تنب اور ابو موسیٰ کے تنازع کو پرامن طریقے سے حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اماراتی وزیر مملکت خلیفہ شاہین المعر نے کہا کہ یو اے ای براہِ راست مذاکرات یا اس معاملے کو عالمی عدالتِ انصاف میں لے جانے کے ذریعے تنازع کے حل کا خواہاں ہے۔

تینوں جزائر آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہیں اور ان کی اہم جغرافیائی و تزویراتی حیثیت ہے۔ ایران اور یو اے ای کے درمیان ان جزائر کی ملکیت کا تنازع 1971 سے چلا آرہا ہے، جب برطانیہ کے خطے سے انخلا اور متحدہ عرب امارات کے قیام سے قبل ایرانی فورسز نے ان پر کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں ابو موسیٰ سے متعلق 1971 کا ایران اور برطانیہ/شارجہ کے درمیان معاہدہ بھی موجود ہے۔

یو اے ای کا مؤقف ہے کہ ایران نے ان جزائر پر غیر قانونی طور پر قبضہ کیا، جبکہ تہران مسلسل اپنی خودمختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ معاملہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک دیرینہ تنازع بنا ہوا ہے اور وقتاً فوقتاً اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی فورمز پر دوبارہ سامنے آتا ہے۔

Load Next Story