مقبوضہ مغربی کنارہ: اسرائیلیوں کے حملوں اور مسجد اقصیٰ میں داخلے کے واقعات میں اضافہ

حملوں میں فلسطینیوں کو جانی نقصان یا املاک کو نقصان پہنچا

50 سال سے زائد عمر والے مرد و خواتین اور 13 سال سے کم عمر والے بچوں کو اجازت ہوگی

مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں اور مسجد اقصیٰ میں داخلے کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔

نابلس کے قریب جالود گاؤں میں 100 سے زائد اسرائیلی آباد کاروں نے فلسطینی گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگائی اور ایک بے گھر فلسطینی خاندان کو اپنے گھر واپس جانے سے روک دیا۔

اقوام متحدہ کے مطابق ستمبر کے وسط تک ایک ہفتے میں آباد کاروں کے 51 حملوں میں فلسطینیوں کو جانی نقصان یا املاک کو نقصان پہنچا، جبکہ تقریباً 800 درخت تباہ، اکھاڑے یا جلا دیے گئے۔

مسجد اقصیٰ میں بھی عیدِ سُکّوت کے دوران سینکڑوں اسرائیلی آباد کار اسرائیلی پولیس کی حفاظت میں داخل ہوئے اور وہاں مذہبی رسومات ادا کیں۔ 27 ستمبر کو فلسطینی اوقاف کے مطابق 1,143 آباد کار مسجد کے احاطے میں داخل ہوئے۔
28 ستمبر کو بھی آباد کاروں کی بڑی تعداد نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوکر مذہبی رسومات ادا کیں، جبکہ مشرقی یروشلم کے پرانے شہر میں فلسطینی دکانداروں کو اپنی دکانیں بند رکھنے کا حکم دیا گیا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ آباد کاروں کے حملوں، اسرائیلی فوجی کارروائیوں، نقل و حرکت پر پابندیوں اور مکانات کی مسماری کے باعث مغربی کنارے میں فلسطینی آبادی کی نقل مکانی اور انسانی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

Load Next Story