معاشی اشاریے اور سیاسی بحران

بے یقینی کی کیفیت کے باعث بدھ کو بھی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان رہا ...

بے یقینی کی کیفیت کے باعث بدھ کو بھی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان رہا۔ فوٹو: آن لائن/فائل

HARIPUR:
ملک میں جاری سیاسی غیر یقینی صورت حال کے منفی اثرات کاروباری سرگرمیوں پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ بڑے صنعت کار اور ملکی و غیر ملکی تجارتی کمپنیاں سیاسی استحکام کے حوالے سے گومگو کی کیفیت کا شکار ہیں۔ انھیں یہ خدشات لاحق ہیں کہ سیاسی صورت حال میں کسی قسم کی تبدیلی سے ان کے کاروبار کو شدید نقصان پہنچے گا۔

اس بے یقینی کی کیفیت کے باعث بدھ کو بھی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان رہا،سرمایہ کاروں کے مزید 81ارب روپے سے زائد ڈوب گئے۔جب سے حکومت کے خلاف دھرنوں اور مارچ کا آغاز ہوا ہے ملک بھر میں معاشی سرگرمیوں کی رفتار سست ہو گئی ہے۔ وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر کے مطابق موجودہ صورت حال کے باعث براہ راست نقصان 180 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔

موجودہ حکومت کو توانائی کے بحران' کمزور معاشی اشاریے اور امن و امان کی بگڑتی صورت حال سمیت بہت سے چیلنج درپیش ہیں، اب سیاسی افق پر ابھرنے والے نئے چیلنجز نے اس کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ جس وقت موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا اس وقت ڈالر کی قیمت 107روپے سے تجاوز کر چکی تھی، حکومت نے بہتر معاشی اور اقتصادی پالیسیاں تشکیل دیں جس کے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونا شروع ہوئے' جس سے نہ صرف کاروباری حلقوں کا حکومت پر اعتماد بڑھا بلکہ بڑی تعداد میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا رجحان میں بھی اضافہ ہوا۔

بہتر حکومتی معاشی پالیسیوں اور سیاسی استحکام کے تسلسل کے باعث اسٹاک مارکیٹوں میں بھی تیزی آئی، ان کی کارکردگی میں اضافہ ہوا اور اس کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر بھی بڑھنے لگے۔ اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کی پہلی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی خدشات اور بجلی و گیس کی قلت کے باعث معاشی ترقی کی رفتار گزشتہ مالی سال سے بہتر رہی جس میں بڑی صنعتوں کی پیداوار نے اہم کردار ادا کیا اور مہنگائی کی شرح بھی 10 فیصد سے کم رہی۔

حکومت نے صنعتوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جس سے ان کی پیداوار بڑھنے لگی اور ملکی برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ اطلاعات کے مطابق بڑے صنعتی اداروں کی شرح نمو میں گزشتہ مالی سال 2013-14 کے دوران 3.95 فیصد تک کا اضافہ ہوا۔ پاکستان بیورو شماریات کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کچھ شعبوں میں صنعتوں کی کارکردگی متاثر ہوئی تاہم زیادہ تر صنعتی اداروں کی ترقی میں خوشگوار اضافہ ریکارڈ کیا گیا، بڑے صنعتی اداروں میں سے 11 صنعتوں کی شرح نمو میں بہتری دیکھی گئی۔ یہ اشاریے اس امر کے عکاس ہیں اگر ملک میں سیاسی استحکام میں تسلسل ہو اور امن و امان کی صورتحال بہتر ہو تو معاشی ترقی کی رفتار خود بخود تیز ہو جاتی ہے۔


اگر ملک میں کسی قسم کا سیاسی عدم استحکام اور بے یقینی کی کیفیت پیدا ہو جائے تو ملک کی معاشی ترقی کی رفتار رک جاتی اور ابتری کی جانب رواں ہو جاتی ہے۔ حکومت توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے بہت سے منصوبے بنا رہی ہے' وہ بارہا یہ یقین دلا چکی ہے کہ بجلی کے جو منصوبے اس نے شروع کر رکھے ہیں اگر وہ بروقت مکمل ہو جاتے ہیں تو آنے والے تین چار برسوں میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت ملک بھر میں 6 ہزار 9 سو میگاواٹ بجلی کے منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں اگر یہ منصوبے آیندہ دو تین برس میں مکمل ہو جاتے ہیں تو بجلی کی لوڈشیڈنگ یقیناً ختم ہو جائے گی۔

یہ یقینی امر ہے کہ توانائی کا بحران ختم ہونے سے ملک میں صنعت' زراعت سمیت تمام شعبوں میں ترقی کی رفتار تیز ہو جائے گی اور ملک آج جن معاشی مسائل میں الجھا ہوا ہے وہ کافی حد تک کم ہو جائیں گے۔ اقتصادی ماہرین کے ایک حلقہ کا کہنا ہے کہ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ حکومت عوامی خوشحالی کے لیے بہت سے اقدامات کر رہی ہے مگر اس حقیقت سے بھی نظر نہیں چرائی جا سکتی کہ ان حکومتی اقدامات کے ثمرات عوام کی دہلیز تک نہیں پہنچ رہے اور آبادی کا ایک بڑا طبقہ ابھی تک کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہا ہے،وہ بہتری کے لیے حکومت کی جانب دیکھ رہے ہیں۔

ملک کی ترقی میں جہاں توانائی کے بحران نے منفی کردار ادا کیا وہاں دہشت گردی کی کارروائیوں کے سبب بھی گزشتہ 3 سال کے دوران معیشت کو ساڑھے اٹھائیس ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ معاشی ماہرین بار بار اس امر کی جانب توجہ دلا چکے ہیں کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے حکومت کو ٹیکس کا نظام بہتر بنانا ہو گا، ان کا کہنا ہے کہ اس وقت سالانہ 2 ہزار ارب روپے سے زائد رقم ٹیکس چوری کی نذر ہو رہی ہے اگر یہ رقم قومی خزانے میں جمع ہو جائے تو حکومت معاشی گرداب سے نجات پا سکتی ہے۔علاوہ ازیں اس وقت ایک بڑا خطرہ جو سر پر منڈلا رہا ہے وہ پانی کا بحران ہے بھارت کی جانب سے دریائے چناب اور جہلم پر ڈیم بنانے سے پاکستان کے حصے میں آنے والے پانی میں خاطر خواہ کمی ہو جائے گی جس کے منفی اثرات زراعت سمیت تمام شعبوں پر مرتب ہوں گے۔

حکومت کو جہاں معاشی انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے پر توجہ دینی ہو گی وہاں اسے مستقبل میں پیدا ہونے والے پانی کی کمی کے خطرے سے بھی نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ ملک کو توانائی' معاشی اور پانی سمیت دیگر بحرانوں سے نکالنا صرف حکومت ہی کی ذمے داری نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں خواہ وہ حکومت میں شریک ہیں یا نہیں کا بھی فرض ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں۔

اگر سیاسی قیادت پر عزم' مخلص اور دور اندیش ہو تو لامحالہ اس پر قوم کے اعتماد میں اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ اعتماد ہی ملکی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان کو ترقی کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے علاقائی صورت حال پر بھی گہری نظر رکھنا ہو گی۔ چین اور بھارت بڑی تیزی سے صنعتی میدان میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ اقتصادی اور معاشی طور پر دنیا کی پانچ ابھرتی ہوئی طاقتیں چین' بھارت' برازیل' روس اور ساؤتھ افریقہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی اقتصادی اجارہ داری سے آزادی حاصل کرنے کے لیے برکس ترقیاتی بینک کے قیام کا اعلان کر چکی ہیں۔

پاکستان کو بھی عالمی معاشی دوڑ میں شامل ہونے اور ان معاشی اداروں سے زیادہ سے زیادہ فوائد سمیٹنے کے لیے اپنی اقتصادی پالیسیوں میں انقلابی تبدیلی لانا ہو گی مگر یہ تبھی ممکن ہے جب ملک میں سیاسی استحکام موجود ہو۔ سیاسی جماعتیں ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے اپنا ایجنڈا عوام کے سامنے ضرور لائیں مگر انھیں کسی ایسے فعل سے اجتناب کرنا چاہیے جس سے ملک میں ہنگامہ خیزی، بے یقینی اور مایوسی کی صورت حال جنم لے۔
Load Next Story