سیاسی مداخلت؛ بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے وی سی نے استعفی دیدیا
نئے شعبہ جات کے قیام کے ساتھ یونیورسٹی ایکٹ میں ترمیم کی سفارشات بھی پیش کیے جانے کا امکان (فوٹو : فائل)
انتظامی معاملات میں سیاسی دباؤ اور ایک رکن صوبائی اسمبلی کی جانب سے برطرف ملازمین کی بحالی کے سلسلے میں مسلسل مداخلت کے بعد بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسین مہدی عہدے سے مستعفی ہوگئے اور استعفی وزیر اعلی کو بھجوادیا۔
واضح رہے کہ حالیہ معاملہ مبینہ طور پر سینڈیکیٹ کے اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف بلوچ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم نورانی کے مابین ایک برطرف ملازم کے معاملے پر نوک جھونک سے شروع ہوا جو ایک بڑے تنازع میں تبدیل ہوگیا ہے اور یونیورسٹی کے ملازمین کا ایک گروہ اب اس تنازع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یونیورسٹی کے رجسٹرار کو سبکدوش کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں،ملازمین کا الزام ہے کہ رجسٹرار لیاری یونیورسٹی ایک سیاسی جماعت کے رکن ہیں۔
ادھر شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور رکن سینڈیکیٹ ابراہیم نورانی کا ایک ویڈیو بیان سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے رکن صوبائی اسمبلی یوسف بلوچ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سینڈیکیٹ اجلاس میں نکالے گئے یونیورسٹی کے گھوسٹ ملازم تنویر سومرو کو زبردستی لے آئے، یوسف بلوچ چاہتے تھے کہ کرپشن کے الزامات پر نکالے گئے ملازمین کو بحال کرائیں۔
ابراہیم نورانی کے 12 منٹ طویل اس ویڈیو بیان کے بعد یونیورسٹی کے حالات قابو سے باہر ہیں یونیورسٹی میں رجسٹرار کے خلاف تین روز سے احتجاج کیا جارہا ہے جبکہ ایم پی اے یوسف بلوچ کے خلاف ویڈیو بیان پر ایسوسی ایٹ پروفیسر ابراہیم نورانی کو وضاحتی نوٹس بھی یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔
یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر حسین مہدی نے اپنے استعفے کی تصدیق کی ہے کہ جب تک وزیر اعلی سندھ کی جانب سے استعفی منظور نہیں ہوتا وہ عہدے پر کام کریں گے، 15 سے زائد ملازمین کے خلاف مختلف الزامات پر کارروائی کی گئی ہے کچھ ملازمین پر یونیورسٹی احاطے میں نشہ کرنے کا الزام بھی تھا اس پر وزیر اعلی ہائوس کی جانب سے کارروائی کے لیے کہا گیا تھا ان میں گھوسٹ ملازمین اور جاب پر نہ آنے والے ملازمین سمیت دیگر شامل ہیں، بتایا جارہا ہے کہ سیاسی مداخلت اور احتجاجی سیاست سے تنگ آکر وائس چانسلر نے استعفی دی ہے۔
علاوہ ازیں وائس چانسلر کی جانب سے بھیجے گئے استعفی میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں یونیورسٹی نے مالیاتی امور، فیکلٹی کی بہتری، تعلیمی سرگرمیوں، بنیادی ڈھانچے اور ادارہ جاتی ترقی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے تاہم اسی دوران بظاہر سیاسی محرکات کے تحت کام کرنے والے ملازمین کے گروہ کی جانب سے احتجاج اور مطالبات کے ذریعے مسلسل بے چینی اور انتظامیہ پر دباؤ پیدا کیا جا رہا ہے، صورتحال اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ دباؤ کے ذریعے رجسٹرار کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے یہ ادارے کے لیے ایک سنگین تشویش کا معاملہ ہے انتظامی تقرریاں اور فیصلے قابلِ اطلاق قوانین و قواعد کے مطابق مجاز قانونی حکام کی جانب سے کیے جانے چاہئیں۔
اپنے استعفے میں انھوں نے کہا ہے کہ اگر انتظامی فیصلے ملازمین کے دباؤ کے ذریعے ہونے لگیں تو یونیورسٹی کے قانونی و بااختیار اداروں کی اتھارٹی کمزور ہوگی اس عمل سے مستقبل کے انتظامی امور کے لیے ایک نامناسب مثال قائم ہوگی موجودہ صورتحال نے انتظامیہ کے کام کو بھی نمایاں طور پر متاثر کیا ہے، وائس چانسلر کی حیثیت سے مجھے اس وقت اپنے عہدے کی ذمہ داریاں مؤثر طور پر انجام دینے میں مسلسل دشواری کا سامنا ہے،انتظامی فیصلے مسلسل دباؤ اور خلل کا شکار ہیں اور موجودہ حالات میں بحیثیت وائس چانسلر میں یونیورسٹی کے ادارہ جاتی مفادات کے تحفظ اور اس کو منظم طریقے سے چلانے سے قاصر ہوں۔
استعفی میں وی سی نے لکھا کہ ان حالات کے پیشِ نظر بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر کے عہدے سے اپنا استعفیٰ پیش کرتا ہوں کیونکہ موجودہ حالات نے میرے لیے اس عہدے کی ذمہ داریاں مؤثر طریقے سے انجام دینا مشکل ہے یونیورسٹی کے مناسب انتظام و انصرام کے لیے ضروری ادارہ جاتی اختیار برقرار رکھنا مشکل بنا دیا گیا ہے۔