خاندان نقدی کی تباہی کا سانحہ

مایا تیرے تین نام پرسا، پرسو، پرس رام

barq@email.com

یوں تو اپنا یہ مملکت خداداد پاکستان تمام حکومتوں کی مہربانیوں،لیڈروں کی گل افشانیوں اور پارٹیوں کی فراوانیوں اور ساتھ ہی آئی ایم ایف کی آشیرواد سے ’’چیونٹی کا گھر‘‘ بن چکا ہے کہ کبھی ماتم سے خالی نہیں ہوتا۔چنانچہ یہاں بھی حادثات،سانحات اور آفات یوں چلی آرہی ہوتی ہیں جیسے اپنے گھر جارہے ہوں۔

کبھی کسی اسکول کا سانحہ،کبھی ہسپتال کا سانحہ،کبھی کسی بلڈنگ یا مسجد و مدرسہ کا سانحہ۔ وہ تو اچھا ہے کہ یہاں کے اہل بیان و اعلان اس کا فوراً اور نہایت سختی سے ’’نوٹس‘‘ لے لیتے ہیں، جس میں متاثرین کے ساتھ ’’گہرے ‘‘غم میں برابر کے شریک ہونے اور آہنی ہاتھ سے نمٹنے اور کیفرکردار تک پہنچانے کی خوش خبریاں ہوتی ہیں اور ساتھ ہی تحقیقاتی کمیٹی یا ٹربیونل بھی’’بٹھا‘‘ دیا جاتا ہے۔ یہ تحقیقاتی کمیٹیاں اور ٹریبونلز اجلاس اور تحقیقات کرکے اپنی ’’فیس‘‘ وصول کرلیتے ہیں اور رپورٹ تیار کرکے حکومت کے حوالے کردیتے ہیں۔

یہ رپورٹیں ایک خاص قسم کے ’’کنویں‘‘ میں ڈال دی جاتی ہیں، جس میں پہلی رپورٹ حمودالرحمان کمیشن کی ڈالی گئی تھی۔ یہ ’’کنواں‘‘ تنازعہ کشمیر حل ہوجانے کے تیسرے روز کھولا جائے گا، یوں رپورٹس افشا ہونے آغاز ہو جائے گا یعنی ان انڈوں کو بیورو کریسی کی ریٹائرڈ مرغی کے نیچے رکھ کر ’’چوزے‘‘ نکالے جائیں گے۔آخر ہمارے ریٹائرڈ خدمت گاروں کو بھی ان کی امانت ودیانت کا صلہ ملنا چاہیے۔یہ سب کچھ اپنی جگہ ٹھیک سہی لیکن ہمیں شکایت یہ ہے کہ ان معمولی بلکہ معمول کے سانحات کا ‘‘نوٹس‘‘ تو لے لیاجاتا ہے بلکہ بعض اوقات ’’سختی‘‘ سے بھی نوٹس لیاجاتا ہے۔

معمولی سانحات ہم نے اس لیے کہا کہ ان میں زیادہ تر کالانعام اور ان کے بچے مرتے ہیں تو مریں، وہ تو پیدا ہی اس لیے ہوتے ہیں،کل جوان ہوکر مریں یا آج بچوں کی صورت میں مریں ایندھن کو تو ہر حال میں جلنا ہوتا ہے، تندور میں ہو یا چولہے میں یا تاپنے کے لیے ۔ لیکن شکایت ہمیں یہ ہے کہ اس ملک میں جو سب سے بڑا ’’سانحہ اور حادثہ ‘‘ہوا ہے اس کا نہ کسی نے نوٹس لیا ہے نہ کوئی اعلان یا بیان جاری ہوا ہے،اور نہ ہی کوئی کمیٹی،کمیشن اور کوئی ٹریبونل بٹھایا گیا ہے حالانکہ اس سانحہ عظیم، حادثہ کبیر اورآٓفت جانکاہ میں ایک بہت ہی عظیم و قدیم اور تاریخی ’’خاندان‘‘ کا مکمل طور پر خاتمہ ہوچکا ہے۔ ایک ایسا ’’خاندان ‘‘جس نے ہمشہ انسانیت کی خدمت کی ہے بلکہ صدیوں سے کرتا آرہاہے۔ یوں تو اس خدمت گار انسانیت خاندان کے کئی نام ہیں لیکن مشہور نام یوں ہیں۔

مایا تیرے تین نام

پرسا، پرسو، پرس رام

اس خاندان کو ’’نقدی،کرنسی‘‘ اور’’ دھاتی سکوں‘‘ کا خاندان بھی کہا جاتا ہے۔یہ ایک بھرا پرا خاندان تھااور دنیا کی خدمت میں مصروف تھا کہ نہ جانے کیسے ہوا؟کب ہوا؟ کیوں ہوا؟ شاید کسی کی نظر لگ گئی، سب سے پہلے اس کے چھوٹے اراکین مرگئے جو ’’پائی‘‘ کہلاتے۔ اپنے تین بچوں کے ایک ساتھ مرنے پر ان کے باپ ’’پیسہ ‘‘کو اتنا صدمہ ہوا کہ دل میں اتنا بڑا سوراخ ہوگیا اور اس نے بستر پکڑ لیا۔ ’’پیسے‘‘ کے والد محترم’’آنے‘‘ نے علاج میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھا۔لیکن جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی۔ آخر ’’ پیسے‘‘ کا انتقال پر ملال ہوگیا تو اس کے باپ ’’آنے‘‘ کے لیے یہ صدمہ ناقابل برداشت ثابت ہوا اور وہ بھی وفات پاگیا ۔’’آنے‘‘ کی وفات حسرت آیات پرا س کے باپ’’چونی‘‘ کی جان پر بن آئی۔’’ چونی‘‘ کے باپ ’’اٹھنی‘‘ نے بیٹے کو بچانے کی بہت کوشش کی، وہ بیٹے کو تو نہ بچا پایا لیکن خود ’’پاسڈ اوے‘‘ ہوگیا۔ زندہ بچ جانے والے ’’روپے‘‘ کو اپنے خاندان کی مرگ ناگہانیکا بڑا دکھ ہوا، اسے بھی ٹی بی ہوگئی لیکن مرنے سے پہلے اس نے اپنا ایک کاغذی مددگار پیدا کیا۔ یہ تدبیر اور زیادہ تباہ کن ثابت ہوگئی اور خاندان سارا چٹ نٹ ہوگیا۔ سنا ہے باقی تو سارے مرحوم ہوچکے ہیں اور آخری فرد’’سو‘‘ کے نوٹ کی جان پر بنی ہوئی ہے۔ اب تو کوئی اسے منہ تک نہیں لگاتا، بہت جلد اس کی’’نومور‘‘کی خبر بھی آنے والی ہے۔

Load Next Story