افغانستان کا بحران
افغان حکام نے مشکوک ووٹوں کو مسترد کرنے کا کام شروع کر دیا جس سے ماحول میں بے حد تناؤ پیدا ہو گیا ...
افغان حکام نے مشکوک ووٹوں کو مسترد کرنے کا کام شروع کر دیا جس سے ماحول میں بے حد تناؤ پیدا ہو گیا۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
افغانستان کے متنازعہ صدارتی انتخاب میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں جب کہ دو متحارب صدارتی امیدواروں میں سے ایک عبداللہ عبداللہ نے ووٹوں کے آڈٹ کا بائیکاٹ کر دیا ہے جس سے انتخابی بحران میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
امریکا کی کوشش تھی کہ افغان صدر حامد کرزئی کی مدت صدارت ختم ہونے کے بعد انتقال اقتدار پر امن طریقے سے ممکن بنا دیا جائے اس مقصد کے لیے جو صدارتی انتخاب ہوا اس میں ابتدائی طور پر عبداللہ عبداللہ کی برتری کی خبریں دی گئیں تاہم بعد ازاں ان کے مد مقابل اشرف غنی کے ووٹ زیادہ نکلنے کا اعلان کر دیا گیا جسے عبداللہ عبداللہ نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا چنانچہ اس مخمصے کو حل کرنے کی خاطر ووٹوں کی از سرنو گنتی اور تصدیق کا فیصلہ کیا گیا لیکن لاکھوں کی تعداد میں ووٹوں کا گہری نظر سے جائزہ لینے کا کام بہت طویل مدت کا متقاضی تھا۔
گزشتہ روز افغان حکام نے مشکوک ووٹوں کو مسترد کرنے کا کام شروع کر دیا جس سے ماحول میں بے حد تناؤ پیدا ہو گیا۔ دونوں صدارتی امیدواروں نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا جائزہ لینے کے لیے بھجوائے جانے والے اپنے اپنے مبصرین کو بھی واپس بلا لیا۔ اس وقت وہاں حالات اس قدر کشیدہ ہو گئے ہیں کہ خدشہ ہے کہیں دوبارہ خانہ جنگی نہ شروع ہو جائے جب کہ ملک کو پہلے ہی طالبان کی طرف سے باغیانہ تخریبی کارروائیوں کا سامنا ہے۔
عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی کے مابین جب حتمی انتخابی نتیجے کا تنازعہ شروع ہوا تو اقوام متحدہ نے ووٹوں کی اپنی نگرانی میں دوبارہ گنتی کا فیصلہ کیا کیونکہ دونوں صدارتی امیدوار اپنی اپنی جیت کا دعویٰ کر رہے تھے۔ تازہ خبروں کے مطابق عبداللہ عبداللہ کے چیف آڈیٹر فاضل احمد مناوی نے اعلان کیا ہے کہ ہم آڈٹ کے عمل کا بائیکاٹ کر رہے ہیں کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
چند گھنٹے کے بعد اقوام متحدہ کے مبصرین نے اشرف غنی پر زور دیا کہ وہ بھی اپنا نمایندہ واپس بلا لیں تا کہ فریق ثانی کی طرف سے اعتراض کی گنجائش نہ رہے مگر اشرف غنی نے اس مشورے کو قبول نہیں کیا۔ اقوام متحدہ کے ڈپٹی چیف نکولس ہیسوم نے رپورٹروں کو بتایا کہ انھوں نے پروفیسر اشرف غنی کو اس وجہ سے اپنا نمایندہ واپس بلانے کا کہا تھا تا کہ دونوں فریقین میں سے کسی کو بھی جانبداری کی شکایت نہ ہو اس کے ساتھ ہی آڈٹ کے عمل میں شریک افسروں کی طرف سے یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ممکن ہے حتمی نتیجے میں اشرف غنی ہی کامیاب نکلیں۔
امریکا کے لیے یہ معاملہ اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ ان کے وزیر خارجہ جان کیری گزشتہ چند دنوں میں دو بار کابل کا دورہ کر چکے ہیں اور متعلقہ حکام کو اپنی ہدایات دے چکے ہیں اور کشیدگی کم کرانے کی اپنی سی کوشش کر چکے ہیں۔ امریکا کے لیے تشویش کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شمالی صوبے قندوز میں طالبان کی طرف سے نئی افغان آرمی کے خلاف سخت کارروائیاں کی جا رہی ہیں جب کہ امریکا اور نیٹو تیرہ سال بعد اپنے فوجی انخلا کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
امریکا اور نیٹو اس عرصے میں اپنے ساڑھے تین ہزار سے زائد فوجیوں کی جان کے علاوہ اربوں کھربوں ڈالر کا مالی نقصان بھی برداشت کر چکے ہیں جو اس مہنگی ترین جنگ میں بری طرح ناکامی کے باعث سخت اضطراب اور خجالت میں مبتلا ہیں۔ موجودہ بحران میں امریکا کی خواہش یہی نظر آتی ہے کہ وہ اشرف غنی کو افغانستان کا صدر دیکھنا چاہتا ہے' یہی وجہ ہے کہ عبداللہ عبداللہ نے ووٹوں کے آڈٹ کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔ یوں افغانستان کا بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔
افغانستان کے متنازعہ صدارتی انتخاب میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں جب کہ دو متحارب صدارتی امیدواروں میں سے ایک عبداللہ عبداللہ نے ووٹوں کے آڈٹ کا بائیکاٹ کر دیا ہے جس سے انتخابی بحران میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
امریکا کی کوشش تھی کہ افغان صدر حامد کرزئی کی مدت صدارت ختم ہونے کے بعد انتقال اقتدار پر امن طریقے سے ممکن بنا دیا جائے اس مقصد کے لیے جو صدارتی انتخاب ہوا اس میں ابتدائی طور پر عبداللہ عبداللہ کی برتری کی خبریں دی گئیں تاہم بعد ازاں ان کے مد مقابل اشرف غنی کے ووٹ زیادہ نکلنے کا اعلان کر دیا گیا جسے عبداللہ عبداللہ نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا چنانچہ اس مخمصے کو حل کرنے کی خاطر ووٹوں کی از سرنو گنتی اور تصدیق کا فیصلہ کیا گیا لیکن لاکھوں کی تعداد میں ووٹوں کا گہری نظر سے جائزہ لینے کا کام بہت طویل مدت کا متقاضی تھا۔
گزشتہ روز افغان حکام نے مشکوک ووٹوں کو مسترد کرنے کا کام شروع کر دیا جس سے ماحول میں بے حد تناؤ پیدا ہو گیا۔ دونوں صدارتی امیدواروں نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا جائزہ لینے کے لیے بھجوائے جانے والے اپنے اپنے مبصرین کو بھی واپس بلا لیا۔ اس وقت وہاں حالات اس قدر کشیدہ ہو گئے ہیں کہ خدشہ ہے کہیں دوبارہ خانہ جنگی نہ شروع ہو جائے جب کہ ملک کو پہلے ہی طالبان کی طرف سے باغیانہ تخریبی کارروائیوں کا سامنا ہے۔
عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی کے مابین جب حتمی انتخابی نتیجے کا تنازعہ شروع ہوا تو اقوام متحدہ نے ووٹوں کی اپنی نگرانی میں دوبارہ گنتی کا فیصلہ کیا کیونکہ دونوں صدارتی امیدوار اپنی اپنی جیت کا دعویٰ کر رہے تھے۔ تازہ خبروں کے مطابق عبداللہ عبداللہ کے چیف آڈیٹر فاضل احمد مناوی نے اعلان کیا ہے کہ ہم آڈٹ کے عمل کا بائیکاٹ کر رہے ہیں کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
چند گھنٹے کے بعد اقوام متحدہ کے مبصرین نے اشرف غنی پر زور دیا کہ وہ بھی اپنا نمایندہ واپس بلا لیں تا کہ فریق ثانی کی طرف سے اعتراض کی گنجائش نہ رہے مگر اشرف غنی نے اس مشورے کو قبول نہیں کیا۔ اقوام متحدہ کے ڈپٹی چیف نکولس ہیسوم نے رپورٹروں کو بتایا کہ انھوں نے پروفیسر اشرف غنی کو اس وجہ سے اپنا نمایندہ واپس بلانے کا کہا تھا تا کہ دونوں فریقین میں سے کسی کو بھی جانبداری کی شکایت نہ ہو اس کے ساتھ ہی آڈٹ کے عمل میں شریک افسروں کی طرف سے یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ممکن ہے حتمی نتیجے میں اشرف غنی ہی کامیاب نکلیں۔
امریکا کے لیے یہ معاملہ اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ ان کے وزیر خارجہ جان کیری گزشتہ چند دنوں میں دو بار کابل کا دورہ کر چکے ہیں اور متعلقہ حکام کو اپنی ہدایات دے چکے ہیں اور کشیدگی کم کرانے کی اپنی سی کوشش کر چکے ہیں۔ امریکا کے لیے تشویش کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شمالی صوبے قندوز میں طالبان کی طرف سے نئی افغان آرمی کے خلاف سخت کارروائیاں کی جا رہی ہیں جب کہ امریکا اور نیٹو تیرہ سال بعد اپنے فوجی انخلا کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
امریکا اور نیٹو اس عرصے میں اپنے ساڑھے تین ہزار سے زائد فوجیوں کی جان کے علاوہ اربوں کھربوں ڈالر کا مالی نقصان بھی برداشت کر چکے ہیں جو اس مہنگی ترین جنگ میں بری طرح ناکامی کے باعث سخت اضطراب اور خجالت میں مبتلا ہیں۔ موجودہ بحران میں امریکا کی خواہش یہی نظر آتی ہے کہ وہ اشرف غنی کو افغانستان کا صدر دیکھنا چاہتا ہے' یہی وجہ ہے کہ عبداللہ عبداللہ نے ووٹوں کے آڈٹ کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔ یوں افغانستان کا بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔