بلیک ہیڈز سے پریشان ہیں؟ نجات کے لیے یہ گھریلو نسخے آزمایئے

جلد کو صاف رکھنے کے لیے خواتین مختلف بیوٹی پراڈکٹس اور پارلر ٹریٹمنٹس استعمال کرتی ہیں

بلیک ہیڈز ناک اور گال پہ نکلنے والے وہ کالے نشان ہوتے ہیں جو مہنگی کریموں سے بھی ختم نہیں ہوتے. فوٹو: فائل

چہرے پر بننے والے بلیک ہیڈز جلد کی عام شکایات میں شمار ہوتے ہیں اور خاص طور پر ناک، ٹھوڑی اور چہرے کے دیگر حصوں پر نمایاں ہوسکتے ہیں۔ طبی اصطلاح میں انہیں اوپن کومیڈون کہا جاتا ہے، جو عموماً جلد میں اضافی تیل اور مردہ خلیات کے جمع ہونے سے بنتے ہیں۔

جلد کو صاف رکھنے کے لیے خواتین مختلف بیوٹی پراڈکٹس اور پارلر ٹریٹمنٹس استعمال کرتی ہیں، تاہم بعض گھریلو اجزا بھی روایتی طور پر بلیک ہیڈز کی صفائی کے لیے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔

ملتانی مٹی کو اضافی تیل جذب کرنے والی خصوصیت کے باعث جلد کی دیکھ بھال میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے سنگترے کے چھلکے کے پاؤڈر کے ساتھ ملا کر فیس ماسک تیار کرنے کا طریقہ بھی بتایا جاتا ہے۔ برابر مقدار میں دونوں اجزا لے کر تھوڑے پانی کے ساتھ پیسٹ بنایا جاتا ہے، جسے چند منٹ چہرے پر رکھنے کے بعد ہلکے ہاتھ سے صاف کیا جاسکتا ہے۔

بیکنگ سوڈا اور پانی سے تیار کیا گیا پیسٹ بھی بعض گھریلو ٹوٹکوں میں شامل ہے۔ اسے بلیک ہیڈز والی جگہ پر تھوڑی دیر لگانے کے بعد پانی سے دھونے کا مشورہ دیا جاتا ہے، تاہم بیکنگ سوڈا جلد میں خشکی یا جلن پیدا کرسکتا ہے، اس لیے حساس جلد پر اس کے استعمال سے گریز بہتر ہے۔

چینی اور لیموں کا امتزاج بھی جلد کے لیے اسکرب کے طور پر استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک کھانے کا چمچ چینی میں چند قطرے لیموں کے رس کے شامل کرکے جلد پر نرمی سے مساج کرنے اور بعد میں چہرہ دھونے کا طریقہ بتایا جاتا ہے۔ لیموں براہِ راست جلد پر لگانے سے بعض افراد میں جلن یا دھوپ سے حساسیت پیدا ہوسکتی ہے، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔

شہد اور دارچینی سے تیار کیا جانے والا ماسک بھی روایتی گھریلو طریقوں میں شامل ہے۔ ایک کھانے کا چمچ شہد میں آدھا چائے کا چمچ دارچینی پاؤڈر ملا کر چہرے پر لگایا جاتا ہے اور تقریباً 10 منٹ بعد دھو لیا جاتا ہے۔

بلیک ہیڈز بار بار بننے یا جلد پر مسلسل سوزش اور مہاسوں کی صورت میں گھریلو ٹوٹکوں کے بجائے ماہرِ جلد سے مشورہ کرنا زیادہ مناسب ہے۔

Load Next Story