درآمدی استعمال شدہ گاڑیوں کا معاملہ، سندھ ہائیکورٹ کا وفاقی کابینہ سے جواب طلب

اجلاس کی تفصیلات چار ہفتوں کے اندر عدالت میں جمع کرائی جائیں، آئینی بینچ

کراچی:

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے درآمدی استعمال شدہ گاڑیوں پر اقوام متحدہ کے ضوابط پر عملدرآمد نہ ہونے کے مبینہ معاملے پر دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے وفاقی کابینہ کے اجلاس کی تفصیلات چار ہفتوں میں طلب کرلیں۔

یہ درخواست ایک مقامی آٹو موبائل مینوفیکچرر کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں وفاقی وزارتوں برائے صنعت و پیداوار اور تجارت، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) سمیت دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔

سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس معاملے پر کابینہ کا اجلاس پہلے ہی منعقد ہوچکا ہے۔ اس پر آئینی بینچ نے وکیل کو ہدایت کی کہ اجلاس کی تفصیلات چار ہفتوں کے اندر عدالت میں جمع کرائی جائیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے لیے مقررہ حفاظتی، ماحولیاتی اور معیار سے متعلق ضوابط، بشمول اقوام متحدہ کے قابل اطلاق قوانین پر عملدرآمد ضروری ہے۔

وکیل کے مطابق انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ نے 2025 میں ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جس کے تحت اقوام متحدہ کے 62 ضوابط پر مشتمل دو مراحل پر مبنی معائنے کا نظام متعارف کرایا گیا۔ اس نظام کے تحت گاڑیوں کی روانگی سے قبل معائنہ اور پاکستان پہنچنے کے بعد آزاد تھرڈ پارٹی انسپیکشن لازمی قرار دیا گیا تھا۔

تاہم، درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ رجسٹرڈ انسپیکشن ایجنسیاں گاڑیوں کے معائنے کے دوران تمام 62 ضوابط پر عملدرآمد کی تصدیق کرنے کے بجائے صرف عمومی تقاضوں کی جانچ کررہی ہیں، جبکہ گاڑیوں کی اصل حالت کے مطابق مقررہ معیارات کی مکمل جانچ نہیں کی جارہی۔

درخواست میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا کہ درآمد کی جانے والی استعمال شدہ گاڑیوں کے ساتھ فراہم کردہ دستاویزات سے درآمد کے وقت مقررہ حفاظتی معیارات پر عملدرآمد ثابت نہیں ہوتا۔

ایف بی آر کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ٹیکس وصولی کے ادارے نے بھی مارچ 2026 میں شپمنٹ سے قبل اور بعد میں معائنے کے تقاضوں سے متعلق ابہام کی نشاندہی کی تھی۔

درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ مقامی آٹو موبائل مینوفیکچررز کو اقوام متحدہ کے مذکورہ 62 ضوابط پر مسلسل عملدرآمد کرنا پڑتا ہے، تاہم درآمدی استعمال شدہ گاڑیوں کے لیے اسی نوعیت کے معائنے کے نظام پر مؤثر انداز میں عملدرآمد نہیں کیا جارہا۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ درآمدی استعمال شدہ گاڑیوں کی روانگی سے قبل اور پاکستان پہنچنے کے بعد، کسٹمز کلیئرنس سے پہلے، لازمی معائنہ یقینی بنایا جائے تاکہ یہ تصدیق ہوسکے کہ درآمد کی جانے والی گاڑیاں متعلقہ حفاظتی اور دیگر مقررہ معیارات پر پورا اترتی ہیں۔

Load Next Story