چین نے ایندھن کی برآمدات روک دیں، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 2 فیصد بڑھ گئیں

چین نے یہ فیصلہ اپنی مقامی توانائی ضروریات اور ایندھن کے ذخائر کو محفوظ رکھنے کے لیے کیا ہے

چین کی جانب سے تیل سے بنی مصنوعات کی برآمدات معطل کیے جانے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ اور روس سے سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث عالمی ایندھن مارکیٹ پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔

رائٹرز کے مطابق چین نے اکتوبر کے دوران ہانگ کانگ اور مکاؤ کے علاوہ دیگر مقامات کے لیے ڈیزل، پٹرول اور جیٹ فیول سمیت تیل کی مصنوعات کی برآمدات روک دی ہیں۔ حکام کی جانب سے برآمدات دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے فی الحال کوئی واضح مدت نہیں بتائی گئی۔

اس فیصلے کے بعد برینٹ خام تیل کے دسمبر کے فعال معاہدے کی قیمت 2.1 فیصد یعنی 2.06 ڈالر اضافے کے ساتھ 100.09 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اس سے قبل نومبر کا برینٹ معاہدہ بدھ کو 103.50 ڈالر فی بیرل پر ختم ہوا تھا۔

امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی 2.06 ڈالر یا 2.28 فیصد اضافے کے بعد 92.48 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

رائٹرز کے مطابق چین کے سرکاری ادارے پیٹرو چائنا نے اکتوبر کے لیے طے شدہ پٹرول اور جیٹ فیول کی متعدد کھیپیں منسوخ کردی ہیں، جبکہ ایک اور بڑی ریفائنری زی جیانگ پیٹروکیمیکل نے بھی تعطیلات کے دوران تیل کی مصنوعات کی برآمدات کے لیے کوئی شپمنٹ شیڈول نہیں کی۔

چین نے یہ فیصلہ اپنی مقامی توانائی ضروریات اور ایندھن کے ذخائر کو محفوظ رکھنے کے لیے کیا ہے۔ عالمی مارکیٹ پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ اور روس سے سپلائی میں کمی کے اثرات سے دوچار ہے، اس لیے چینی مصنوعات کی برآمدات رکنے سے عالمی سطح پر ایندھن کی دستیابی مزید محدود ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب تیل کی قیمتوں پر امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کا بھی اثر ہے۔ حالیہ دنوں میں خلیجی ممالک سے خام تیل کی برآمدات میں کچھ بہتری آئی ہے، جس سے سپلائی کے خدشات میں کمی ہوئی تھی، تاہم چین کے تازہ فیصلے نے ریفائنڈ فیول مارکیٹ میں نئی تشویش پیدا کردی ہے۔

ستمبر کے دوران برینٹ خام تیل کی ماہانہ قیمت میں تقریباً 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ امریکی تیل میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

Load Next Story