کراچی؛ جھاڑیوں سے ملنے والی حاملہ خاتون کی لاش کی شناخت ہوگئی، تفتیش میں اہم انکشافات
بن قاسم ٹاؤن، اسٹیل مل روڈ جناح گیٹ کے قریب جھاڑیوں سے ملنے والی گولی لگی نوجوان لڑکی کی شناخت ہوگئی۔ مقتولہ کی شناخت 27 سالہ کشف کمال کے نام سے ہوئی، جو ایک بیٹی کی ماں اور تقریباً 5 سے 6 ماہ کی حاملہ تھی۔
بدھ کو بن قاسم ٹاؤن تھانے کی حدود میں اسٹیل مل روڈ، جناح گیٹ کے قریب جھاڑیوں سے نوجوان لڑکی کی لاش ملی تھی، جس کی شناخت سی پی ایل سی شناخت پروجیکٹ کے ذریعے عمل میں آئی۔ شناخت کے بعد مقتولہ کے اہلخانہ سہراب گوٹھ سرد خانے پہنچ گئے۔
مقتولہ کشف کمال شاہ فیصل کالونی کے علاقے عظیم پورہ میں واقع پارک کے قریب رہائش پذیر تھی اور 7 بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھی۔ اہلخانہ کے مطابق کشف ڈھائی سے پونے تین سال کی بیٹی کی ماں تھی اور 5 سے 6 ماہ کی حاملہ تھی۔
اہلخانہ نے بتایا کہ کشف نے 4 سال قبل یاسر درانی نامی شخص سے پسند کی شادی کی تھی، تاہم شادی کے صرف 2 ماہ بعد یاسر نے اپنے گھر والوں کے دباؤ پر کشف کو طلاق دے دی تھی۔ اہلخانہ کے مطابق طلاق کے وقت کشف حاملہ تھی۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ طلاق کے باوجود یاسر درانی کشف سے ملتا رہا اور اس کے ساتھ رہتا بھی رہا۔ اہلخانہ کے مطابق یاسر نے کشف کا پیچھا نہیں چھوڑا اور اکثر موٹرسائیکل پر ان کے گھر آتا تھا۔
اہلخانہ کے مطابق 2 روز قبل یاسر درانی گاڑی لے کر ان کے گھر آیا اور کشف کو اپنے ساتھ لے گیا۔ یاسر نے کہا کہ کشف ناراض ہے، اسے منانے کے لیے ساتھ لے جا رہا ہوں۔ اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ یاسر درانی 4 شادیاں کرچکا ہے۔
اہلخانہ کے مطابق بدھ کو یاسر درانی کی کال آئی اور اس نے بتایا کہ کشف کہیں چلی گئی ہے۔ مزید پوچھنے پر یاسر نے بتایا کہ کشف اپنی دوست فاطمہ کے پاس گئی ہے۔ رات کو یاسر گھر آیا اور تقریباً ایک گھنٹہ بیٹھا رہا، اس دوران وہ بار بار کہتا رہا کہ کشف کہیں چلی گئی ہے۔
مقتولہ کی چھوٹی بہن نے واٹس ایپ پر کشف کے لاپتا ہونے کا اسٹیٹس بھی لگایا۔ جمعرات کو چھوٹی بہن کے موبائل فون پر کال موصول ہوئی کہ ایک لاش ملی ہے، آکر شناخت کرلیں۔ اہلخانہ ایدھی سرد خانے پہنچے تو لاش کشف کی نکلی۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی بچی بھی یاسر درانی کے حوالے کردی تھی اور اسے کہا تھا کہ کشف کا پیچھا چھوڑ دے، تاہم اس نے کشف کا پیچھا نہیں چھوڑا۔
مقتولہ کی والدہ نے کہا کہ ان کی بیٹی کا جنازہ اس وقت تک نہیں اٹھے گا جب تک یاسر کو گرفتار نہیں کیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی کو کھانا کھلانے لے کر گیا تھا یا موت کے گھاٹ اتارنے لے کر گیا تھا۔
مقتولہ کی بہن نے کہا کہ ان کی بہن کا کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی، ہمیں انصاف چاہیے اور کشف کے قاتل کو گرفتار کیا جائے۔ ان کا الزام ہے کہ یاسر درانی کے گھر والوں نے کبھی ان کی بہن کو قبول نہیں کیا اور انہیں دھمکیاں بھی دی جاتی تھیں۔
مقتولہ کی بہن کے مطابق کشف کو سر پر گولی مار کر قتل کیا گیا اور لاش جھاڑیوں میں پھینک دی گئی۔ اہلخانہ نے پولیس سے قاتل کو گرفتار کرکے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب بن قاسم ٹاؤن تھانے کے ایس آئی او شہزاد علی نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نوجوان لڑکی کی لاش ملنے کے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور مقتولہ کی شناخت بھی کرلی گئی ہے۔
ایس آئی او کے مطابق مقتولہ کے اہلخانہ کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں، پولیس کی پوری کوشش ہوگی کہ مقتولہ کے اہلخانہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔