ایئربیس واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کے ’مضبوط شواہد‘ موجود ہیں، برطانوی وزیراعظم کا بڑا دعویٰ
برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ انگلینڈ کے ایک فوجی اڈے کے قریب پیش آنے والے حالیہ سیکیورٹی واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کے ’مضبوط شواہد‘ موجود ہیں۔ ان کے مطابق واقعے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور برطانیہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
اینڈی برنہم نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ فیئر فورڈ کے قریب ہفتے کے آخر میں پیش آنے والے واقعے میں ایران کے کردار کے مضبوط اشارے ملے ہیں۔ انہوں نے تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ برطانوی حکام ایران کے ملوث ہونے کا شبہ کن شواہد کی بنیاد پر ظاہر کر رہے ہیں۔
یہ واقعہ 27 ستمبر کو اس وقت سامنے آیا تھا جب فوجی اڈے کے قریب تین مشتبہ وینز کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے کارروائی کی۔ پانچ برطانوی شہریوں کو دھماکا خیز مواد اور دہشت گردی سے متعلق جرائم کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا، تاہم وہ تاحال تحقیقات کا حصہ ہیں۔
تلاشی کے دوران گاڑیوں میں پٹرول ملا، تاہم حکام کے مطابق کوئی قابلِ استعمال دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔ مقامی آبادی کے تقریباً 85 گھروں کو بھی احتیاطی طور پر خالی کرایا گیا تھا، جبکہ بم ڈسپوزل ماہرین نے مشتبہ گاڑیوں کا معائنہ کیا۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ معاملہ ’’پیچیدہ اور سنگین‘‘ ہے اور تحقیقات مکمل ہونے تک مزید تفصیلات فراہم نہیں کی جاسکتیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ برطانوی حکام امریکی اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کررہے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے برطانوی الزام کو مسترد کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے برطانوی وزیراعظم کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایران کے ملوث ہونے کی تردید کی۔ تہران پہلے بھی اس واقعے سے متعلق ایران کے خلاف سامنے آنے والی قیاس آرائیوں کو بے بنیاد قرار دے چکا ہے۔
فیئر فورڈ برطانیہ کا ایک اہم فوجی اڈہ ہے جسے امریکی فوج بھی استعمال کرتی ہے۔ حالیہ ایران جنگ کے دوران امریکی بمبار طیاروں نے بھی اس اڈے سے کارروائیاں کی ہیں۔ اسی وجہ سے واقعے کے بعد اڈے کی سیکیورٹی اور ممکنہ غیرملکی مداخلت سے متعلق تحقیقات کو خاص اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔